ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 72

قَالُوۡا نَفۡقِدُ صُوَاعَ الۡمَلِکِ وَ لِمَنۡ جَآءَ بِہٖ حِمۡلُ بَعِیۡرٍ وَّ اَنَا بِہٖ زَعِیۡمٌ ﴿۷۲﴾
انھوں نے کہا ہم بادشاہ کا پیمانہ گم پاتے ہیں اور جو اسے لے آئے اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ (غلہ) ہوگا اور میں اس کا ضامن ہوں۔ En
وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں
En
جواب دیا کہ شاہی پیمانہ گم ہے جو اسے لے آئےاسے ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ ملے گا۔ اس وعدے کا میں ضامن ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت72) ➊ { صُوَاعَ الْمَلِكِ:} غلہ ماپنے کے آلے کو صاع یا صواع کہتے ہیں، اسی کو آیت (۷۰) میں{ السِّقَايَةَ } (پینے کا برتن) کہا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ غلے کی نایابی کی وجہ سے اس کی قدر وقیمت کا احساس دلانے کے لیے شاہی پیالہ گندم کے پیمانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اکثر مفسرین نے اسے چاندی کا لکھا ہے، بعض کہتے ہیں کہ سونے کا تھا، جس پر جواہر لگے تھے، لیکن صحیح اتنی بات ہی ہے کہ وہ کوئی قیمتی پیمانہ تھا۔
➋ { وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ:} یعنی جو شخص تفتیش سے پہلے خود بخود وہ پیمانہ لے آئے اسے ایک اونٹ غلہ انعام ملے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

72۔ 1 یعنی میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کی تفتیش سے قبل ہی جو شخص یہ جام شاہی ہمارے حوالے کر دے گا تو اسے انعام یا اجرت کے طور پر اتنا غلہ دیا جائے گا جو ایک اونٹ اٹھا سکے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

72۔ وہ بولے: ”بادشاہ کا (پانی پینے کا) پیالہ ہمیں نہیں مل رہا۔ جو شخص وہ لا کر دے اسے ایک بار شتر انعام ملے گا [69] اور میں اس کا ضامن ہوں“
[69] شاہ مصر کے پیالہ کی چوری:۔
سیدنا یوسفؑ نے اپنے بھائی بن یمین کو اپنے ہاں روک لینے کی یہ تدبیر سوچی کہ اس کے سامان میں یعنی غلہ میں اپنا مرصع پانی پینے کا پیالہ بھی رکھ دیا اور اس تدبیر کی آپ نے اپنے بھائی کو بھی خبر دے دی تاکہ وہ کسی موقع پر گھبراہٹ کا شکار نہ ہو جائے۔ چنانچہ جب برادران یوسف کا سامان تیار کیا جا رہا تھا تو آپ نے چپکے سے اپنا مرصع پانی پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا اور سامان تیار کر کے انھیں شہر مصر سے روانہ کر دیا گیا۔ جب یہ لوگ ذرا آگے نکل آئے تو چند آدمی ان کے پیچھے تیزی سے آرہے تھے۔ ان میں سے ایک نے بلند آواز سے انھیں پکارا اور کہا: ذرا ٹھہر جاؤ، تم تو چور معلوم ہوتے ہو، برادران یوسف نے مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا کہ چند آدمی ان کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ان سے پوچھا کہ تمہارا کیا سامان چوری ہوا ہے؟ تعاقب کرنے والوں میں سے ایک شخص بولا کہ بادشاہ کا پانی پینے کا مرصع پیالہ گم ہو گیا ہے۔ اس کی ہر جگہ تلاش کی گئی لیکن ملا نہیں۔ ہم اسی کی تلاش میں نکلے ہیں۔ جو شخص یہ پیالہ تلاش کر کے بادشاہ کے پیش کرے۔ اس کے لیے ایک بار شتر غلہ انعام مقرر ہوا ہے اور میں اس بات کا ضامن ہوں کہ جو شخص پیالہ ڈھونڈ نکالے میں اس کو بادشاہ سے مقر رہ انعام دلوا دوں، یا اگر خود تلاش کر سکوں تو یہ انعام خود وصول کر لوں۔ اور لفظ زعیم کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مجھ پر ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ جیسے بھی ممکن ہو میں وہ پیالہ ڈھونڈ کر بادشاہ کے حضور پیش کروں اور اس صورت میں مجھے مقررہ انعام بھی ملے گا۔
صواع کے معنی:۔
نیز ان آیات میں دو بار صواع کا لفظ آیا ہے۔ صواع کو بعض لوگوں نے صاع سے مشتق سمجھ کر اس کا معنی غلہ ماپنے کا معروف پیمانہ (پنجابی ٹوپہ) کر دیا ہے۔ حالانکہ یہ لفظ صاع سے مشتق یا ماخوذ نہیں ہے۔ بلکہ اس کا معنی پانی پینے کا ایسا پیالہ ہے۔ جس میں جواہرات وغیرہ جڑے ہوئے ہوں اور اگر یہ پیالہ شیشہ کا ہو تو اسے قدح، لکڑی کا ہو تو عُس، چمڑے کا ہو تو علبۃ اور مٹی کا ہو تو مرکن کہتے ہیں۔ [الجمال والكمال ص 174 از سلمان منصور پوري]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔