فَلَمَّا جَہَّزَہُمۡ بِجَہَازِہِمۡ جَعَلَ السِّقَایَۃَ فِیۡ رَحۡلِ اَخِیۡہِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُہَا الۡعِیۡرُ اِنَّکُمۡ لَسٰرِقُوۡنَ ﴿۷۰﴾
پھر جب اس نے انھیں ان کے سامان کے ساتھ تیار کر دیا تو پینے کا برتن اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا، پھر ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا اے قافلے والو! بلاشبہ تم یقینا چور ہو۔
En
جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو
En
پھر جب انہیں ان کا سامان اسباب ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی کے اسباب میں پانی پینے کا پیالہ رکھ دیا۔ پھر ایک آواز دینے والے نے پکار کر کہا کہ اے قافلے والو! تم لوگ تو چور ہو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت71،70){فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ …:} ان آیات کی تفسیر میں اکثر لوگوں کو ٹھوکر لگی ہے جس کی وجہ سے وہ یوسف علیہ السلام کے ذمے لگاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھنے کے لیے اس کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا، پھر اس کے سامان میں پیمانہ رکھ کر سب بھائیوں کے متعلق ان کے چور ہونے کا اعلان کروایا، پھر خود ہی تلاشی لی اور آخر میں بھائی کے سامان سے پیمانہ نکال کر اسے چور قرار دے کر اپنے پاس رکھ لیا۔ اس پر جو اعتراض آتا ہے کہ یہ ایک نبی کی شان کے لائق نہیں، اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «{ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ }» [یوسف: ۷۶]”اس طرح ہم نے یوسف کے لیے یہ تدبیر کی“ اس کا مطلب یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام نے یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے کیا، اس لیے یہ جائز تھا اور یہ کہ جائز مقصد کے لیے حیلہ کرنا (خواہ ناجائز ہو) جائز ہے۔ حالانکہ اگر غور سے آیات کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں یوسف علیہ السلام کے کسی حیلے یا سازش کا کوئی دخل ہی نہیں، یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تدبیر تھی جس کا پہلے یوسف علیہ السلام کو بھی علم نہیں تھا۔ واقعہ کی اصل صورت یہ ہے کہ پہلی دفعہ جب بھائی آئے تو یوسف علیہ السلام نے ان پر احسان کیا اور اپنے جوانوں سے کہہ کر ان کی رقم ان کی بوریوں میں ان کے علم کے بغیر رکھوا دی، جس کا علم انھیں گھر جا کر ہوا۔ اب ان کا سگا بھائی آیا تو انھوں نے اس کی خاص مدد کے لیے خاموشی سے کسی کو بھی بتائے بغیر اس کے سامان میں وہ پیمانہ خود ہی رکھ دیا کہ اس میں وہ مشقت نہ تھی جو دس بھائیوں کا سارا سامان واپس رکھنے میں تھی اور بھائیوں کے علم میں آنے سے حسد کا بھی خطرہ تھا، اس لیے اس چیز سے صرف وہ آگاہ تھے، دوسرا کوئی بھی آگاہ نہ تھا، قافلہ روانہ ہونے سے پہلے گودام کے محافظوں میں سے کسی کو پیمانے کی ضرورت پڑی، جب وہ نہ ملا تو تلاش شروع ہوئی، غوروفکر کیا گیا، کون چور ہو سکتا ہے، یہاں کون کون آیا ہے؟
ان بھائیوں کے سوا وہاں کوئی آیا ہی نہ تھا، اس لیے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ قافلے والو! تم چور ہو۔ ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی۔ چنانچہ ان کی آئندہ ساری گفتگو اس اعلان کرنے والے اور اس کے ساتھی گودام کے محافظوں سے ہوئی، جس میں انھوں نے خود ہی چور کی سزا بھی بتا دی جو ان کے ہاں رائج تھی، پھر ان محافظوں میں سے ایک نے تلاشی لی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تدبیر ہوئی کہ اس نے اتفاق سے پہلے دوسرے بھائیوں کے سامان کی پڑتال کی، پھر یوسف علیہ السلام کے بھائی کے سامان سے وہ پیمانہ نکال لیا اور بھائیوں ہی کی بتائی ہوئی سزا کے مطابق اس بھائی کو روک لیا۔ یوسف علیہ السلام اس معاملے سے بالکل بے خبر تھے مگر جب بات یہاں تک پہنچی اور یوسف علیہ السلام کو اطلاع ملی تو انھوں نے اسے اللہ کی طرف سے تدبیر سمجھ کر خاموشی اختیار فرمائی، بھائی کے سامان سے مدعا برآمد ہونے کے بعد وہ اس کی صفائی دے بھی نہیں سکتے تھے، ورنہ الزام آتا کہ ایک ثابت شدہ مجرم کی طرف داری اور اسے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ یوسف علیہ السلام جیسا شخص تہمت کا نشانہ بننے کے لیے بھی تیار نہ ہوتا۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دو انصاری صحابیوں کو بلا کر اپنے پاس کھڑی ہوئی خاتون کے متعلق بتانا کہ یہ صفیہ (میری بیوی) ہے، اس کی دلیل ہے۔ البتہ اپنی زبان سے اس بھائی کو چور بھی نہیں کہا۔ ان کی طبیعت کی پاکیزگی اور صدق کا اندازہ ان کی اس بات سے لگائیے کہ جب بھائیوں نے کہا کہ اس کے والد بہت بوڑھے بزرگ ہیں، آپ اسے جانے دیں اور ہم میں سے کسی کو اس کی جگہ رکھ لیں تو یوسف علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم تو چور ہی کو پکڑیں گے بلکہ فرمایا کہ ہم تو اسی کو پکڑیں گے جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے۔ یہ تفسیر آیات کے بالکل مطابق صاف اور سادہ ہے اور اس میں یوسف علیہ السلام پر کوئی اعتراض نہیں آتا، جس کا جواب دینے کی ضرورت ہو۔
ان بھائیوں کے سوا وہاں کوئی آیا ہی نہ تھا، اس لیے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ قافلے والو! تم چور ہو۔ ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی۔ چنانچہ ان کی آئندہ ساری گفتگو اس اعلان کرنے والے اور اس کے ساتھی گودام کے محافظوں سے ہوئی، جس میں انھوں نے خود ہی چور کی سزا بھی بتا دی جو ان کے ہاں رائج تھی، پھر ان محافظوں میں سے ایک نے تلاشی لی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تدبیر ہوئی کہ اس نے اتفاق سے پہلے دوسرے بھائیوں کے سامان کی پڑتال کی، پھر یوسف علیہ السلام کے بھائی کے سامان سے وہ پیمانہ نکال لیا اور بھائیوں ہی کی بتائی ہوئی سزا کے مطابق اس بھائی کو روک لیا۔ یوسف علیہ السلام اس معاملے سے بالکل بے خبر تھے مگر جب بات یہاں تک پہنچی اور یوسف علیہ السلام کو اطلاع ملی تو انھوں نے اسے اللہ کی طرف سے تدبیر سمجھ کر خاموشی اختیار فرمائی، بھائی کے سامان سے مدعا برآمد ہونے کے بعد وہ اس کی صفائی دے بھی نہیں سکتے تھے، ورنہ الزام آتا کہ ایک ثابت شدہ مجرم کی طرف داری اور اسے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ یوسف علیہ السلام جیسا شخص تہمت کا نشانہ بننے کے لیے بھی تیار نہ ہوتا۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دو انصاری صحابیوں کو بلا کر اپنے پاس کھڑی ہوئی خاتون کے متعلق بتانا کہ یہ صفیہ (میری بیوی) ہے، اس کی دلیل ہے۔ البتہ اپنی زبان سے اس بھائی کو چور بھی نہیں کہا۔ ان کی طبیعت کی پاکیزگی اور صدق کا اندازہ ان کی اس بات سے لگائیے کہ جب بھائیوں نے کہا کہ اس کے والد بہت بوڑھے بزرگ ہیں، آپ اسے جانے دیں اور ہم میں سے کسی کو اس کی جگہ رکھ لیں تو یوسف علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم تو چور ہی کو پکڑیں گے بلکہ فرمایا کہ ہم تو اسی کو پکڑیں گے جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے۔ یہ تفسیر آیات کے بالکل مطابق صاف اور سادہ ہے اور اس میں یوسف علیہ السلام پر کوئی اعتراض نہیں آتا، جس کا جواب دینے کی ضرورت ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
70۔ 1 مفسرین نے بیان کیا ہے کہ یہ سقایہ (پانی پینے کا برتن) سونے یا چاندی کا تھا، پانی پینے کے علاوہ غلہ ناپنے کا کام بھی اس سے لیا جاتا تھا، اسے چپکے سے بنیامین کے سامان میں رکھ دیا گیا۔ 70۔ 2 الْعیر اصلاً ان اونٹوں، گدھوں یا خچر کو کہا جاتا ہے جن پر غلہ لاد کرلے جایا جاتا ہے۔ یہاں مراد اصحاب العیر یعنی قافلے والے۔ 70۔ 3 چوری کی یہ نسبت اپنی جگہ صحیح تھی کیونکہ منادی حضرت یوسف ؑ کے سوچے سمجھے منصوبے سے آگاہ نہیں تھا یا اس کے معنی ہیں کہ تمہارا حال چوروں کا سا ہے کہ بادشاہ کا پیالہ، بادشاہ کی رضامندی کے بغیر تمہارے سامان کے اندر ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
70۔ پھر جب یوسف نے (ان کی روانگی کے لئے) ان کا سامان تیار کیا تو اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پانی پینے کا پیالہ رکھ دیا۔ (جب یہ لوگ شہر سے نکل آئے تو پیچھے سے) ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا: ”اے قافلہ والو! تم تو چور ہو“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کر دیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویسا ہی پیالہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھی تھا۔ پس آپ کے ملازمین نے ہوشیاری سے وہ پیالہ آپ علیہ السلام کے بھائی بنیامین کی خورجی میں رکھ دیا۔ جب یہ چلنے لگے تو سنا کہ پیچھے سے منادی ندا کرتا آ رہا ہے کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ ان کے کان کھڑے، رک گئے، ادھر متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی کیا چیز کھو گئی ہے؟ جواب ملا کہ شاہی پیمانہ جس سے اناج ناپا جاتا تھا، سنو شاہی اعلان ہے کہ اس کے ڈھونڈ لانے والے کو ایک بوجھ غلہ ملے گا اور میں خود ضامن ہوں۔