اور اس نے اپنے جوانوں سے کہا ان کا مال ان کے کجاووں میں رکھ دو، تاکہ وہ اسے پہچان لیں جب اپنے گھر والوں کی طرف واپس جائیں، شاید وہ پھر آجائیں۔
En
(اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں
اپنے خدمت گاروں سے کہا کہ ان کی پونجی انہی کی بوریوں میں رکھ دو کہ جب لوٹ کر اپنے اہل وعیال میں جائیں اور پونجیوں کو پہچان لیں تو بہت ممکن ہے کہ یہ پھر لوٹ کر آئیں
En
(آیت62){وَقَالَلِفِتْيٰنِهِ …: ”فِتْيَانٌ“”فَتًي“ } کی جمع ہے، دیکھیے (آیت ۳۶) {”رِحَالٌ“”رَحْلٌ“} کی جمع ہے، وہ کجاوہ جو اونٹ پر سوار ہونے کے لیے رکھا جاتا ہے اور اس سامان کو بھی کہہ لیتے ہیں جو اونٹ پر رکھا جائے، اس لیے اونٹ کو {”رَاحِلَةٌ“} کہہ لیتے ہیں۔ {”بِضَاعَةٌ“ } وہ رقم یا سامان جس کے ساتھ کوئی چیز خریدی جائے، یعنی اپنے جوانوں کو وہ رقم یا سازوسامان جو وہ غلہ خریدنے کے لیے قیمت کے طور پر لائے تھے، ان کو بتائے بغیر بطور احسان ان کی بوریوں میں رکھ دینے کا حکم دے دیا اور اس لیے بھی کہ بھائیوں کی حالت دیکھ کرگھر کی تنگ دستی کا اندازہ ہو گیا، جس کا ذکر تیسری دفعہ آنے پر انھوں نے خود کیا۔ دیکھیے آیت (۸۸) {”لَعَلَّهُمْيَعْرِفُوْنَهَاۤ“} شاید وہ ان درہموں وغیرہ کو ان کی ساخت یا مہر یا تھیلیوں سے پہچان لیں اور اس احسان اوررقم کی موجودگی کی وجہ سے دوبارہ آ جائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
62۔ 1 فِتْیَان (نوجوانوں) سے مراد یہاں وہ نوکر چاکر اور خادم و غلام ہیں جو دربار شاہی میں مامور تھے۔ 62۔ 2 اس سے مراد وہ پونجی ہے جو غلہ خریدنے کے لئے برادران یوسف ؑ ساتھ لائے تھے، پونجی چپکے سے ان کے سامانوں میں اس لئے رکھوا دی کہ ممکن ہے دوبارہ آنے کے لئے ان کے پاس مذید پونجی نہ ہو تو یہی پونجی لے کر آجائیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
62۔ اور یوسف نے اپنے خادموں سے کہا کہ: ”ان کی پونجی ان کی کھرجیوں [60] میں ہی رکھ دو تاکہ جب وہ اپنے گھروں میں پہنچیں تو اسے پہچان لیں اور شاید (اسی طرح وہ جلد) دوبارہ یہاں آئیں“
[60] غلہ کی قیمت کی واپسی:۔
سیدنا یوسفؑ نے ان کی اچھی طرح مہمان نوازی کی اور غلہ بھرنے والوں کو یہ اشارہ بھی کر دیا کہ جو رقم غلہ کی قیمت کے طور پر ان سے وصول کی گئی ہے وہ بھی ان کے غلہ میں رکھ دی جائے اور یہ کام انہوں نے اس غرض سے کیا کہ ممکن ہے کہ انھیں دوبارہ آنے کے لیے رقم میسر نہ ہو اور وہ آہی نہ سکیں یا بڑی دیر بعد میسر ہو تو اس صورت میں بڑی دیر سے میرے پاس دوبارہ ان کے چھوٹے حقیقی بھائی بن یمین کو ساتھ لے کر آئیں۔ قرآن کے الفاظ سے تو رقم واپس کرنے کی یہی اصل غرض معلوم ہوتی ہے۔ تاہم بعض مفسرین کہتے ہیں کہ رقم کی واپسی سے ان کا دوسرا مقصد یا تابع مقصد یہ بھی تھا کہ وہ بھائیوں سے غلہ کی قیمت لینا پسند نہیں کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔