ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 54

وَ قَالَ الۡمَلِکُ ائۡتُوۡنِیۡ بِہٖۤ اَسۡتَخۡلِصۡہُ لِنَفۡسِیۡ ۚ فَلَمَّا کَلَّمَہٗ قَالَ اِنَّکَ الۡیَوۡمَ لَدَیۡنَا مَکِیۡنٌ اَمِیۡنٌ ﴿۵۴﴾
اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لائو کہ میں اسے اپنے لیے خاص الخاص کر لوں، پھر جب اس نے اس سے بات کی تو کہا بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحب اقتدار، امانت دار ہے۔ En
بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو
En
بادشاه نے کہا اسے میرے پاس لاؤ کہ میں اسے اپنے خاص کاموں کے لئے مقرر کر لوں، پھر جب اس سے بات چیت کی تو کہنے لگا کہ آپ ہمارے ہاں آج سے ذی عزت اور امانت دار ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 54){اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِيْ:} یہاں سے یوسف علیہ السلام کی زندگی کا ایک اور دور شروع ہوتا ہے، جب غلامی و قید ختم ہوئی اور آزادی اور حکومت و سلطنت عطا ہوئی۔ { اَسْتَخْلِصْهُ } یہاں بادشاہ {اُخْلِصْهُ} بھی کہہ سکتا تھا، جیسا کہ «{ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ [یوسف: ۲۴] میں باب افعال استعمال ہوا ہے۔ { اَسْتَخْلِصْهُ } میں سین اور تاء مبالغہ کے لیے ہیں کہ میں اس کو زیادہ سے زیادہ اپنے لیے خاص کر لوں۔ بادشاہ نے جب یوسف علیہ السلام سے اپنے خواب کی صحیح تعبیر سنی، پھر بلانے کے باوجود کئی سال بے گناہ قید رہ کر بھی اپنی بے گناہی ثابت ہونے سے پہلے قید خانے سے نکلنے سے انکار دیکھا، پھر تمام متعلقہ خواتین حتیٰ کہ عزیز کی بیوی سے ان کی پاک دامنی اور بے گناہی کی تصدیق سنی تو ان کی شخصیت کا اتنا مشتاق ہوا کہ اس نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ، میں اسے اپنے لیے خاص کر لوں گا۔ پھر جب یوسف علیہ السلام نے بنفس نفیس اس سے گفتگو کی تو بادشاہ نے ان کے علم کی وسعت، اخلاق کی خوبی اور دوسرے اوصافِ حسنہ کا عین الیقین ہونے کے بعد کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں مکین و امین، یعنی صاحب اقتدار اور امانت دار ہو۔ { مَكِيْنٌ } اس {مَكَانَةٌ} (مرتبے) والے کو کہتے ہیں جو صرف ایک یا چند ایک کے سوا کسی کو حاصل نہ ہو۔ قرآن مجید میں اس کا استعمال دیکھیے، جب وحی کے سلسلے میں جبریل علیہ السلام کا ذکر آیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ (19) ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ (20) مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ [التکویر: ۱۹ تا ۲۱] بے شک یہ یقینا ایک ایسے پیغام پہنچانے والے کا قول ہے جو بہت معزز ہے۔ بڑی قوت والا ہے، عرش والے کے ہاں بہت مرتبے والا ہے۔ وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے، امانت دار ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ فرشتوں میں جبریل علیہ السلام کو کیا مرتبہ حاصل ہے کہ بنی آدم کے تمام انبیاء و رسل کی طر ف اللہ کی جانب سے انھیں رسول چنا گیا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا، فرمایا: «{ لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى [النجم: ۱۸] بلاشبہ یقینا اس نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔ ان سے بڑھ کر اللہ کا قرب رکھنے والا کوئی فرشتہ ہمیں معلوم نہیں۔ { اَمِيْنٌ } یعنی اپنی ذات، مملکت کے معاملات و اسرار اور سب لوگوں کے جان و مال اور ان کے درمیان عدل و انصاف میں تم ہمارے ہاں مکمل قابل اعتماد ہو، تمھاری امانت پر ہمیں پورا بھروسا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

54۔ 1 جب بادشاہ ریان بن ولید یوسف ؑ کے علم و فضل کے ساتھ ان کے کردار کی رفعت اور پاک دامنی بھی واضح ہوگئی، تو اسے حکم دیا کہ انھیں میرے سامنے پیش کرو، میں انھیں اپنے لئے منتخب کرنا یعنی اپنا مصاحب اور مشیر خاص بنانا چاہتا ہوں۔ 54۔ 2 مَکِیْنُ مرتبہ والا، آمِین رموز مملکت کا راز دان۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ بادشاہ نے (اپنے قاصد سے) کہا: ”اسے میرے پاس لاؤ میں اسے [53] اپنے لیے مخصوص کرنا چاہتا ہوں“ (یوسف آگئے) تو بادشاہ نے ان سے بات چیت کی اور کہا: آج سے تم ہمارے قابل اعتماد مقرب ہو
[53] شاہ مصر کی یوسفؑ کو پیش کش:۔
بادشاہ سیدنا یوسفؑ کی شخصیت سے بہت متاثر ہو چکا تھا۔ آپ کی قید سے پہلے آپ کی پاکیزہ سیرت کا چرچا اس نے بھی سنا تھا۔ اس کے ساقی نے آپ کی بہت تعریف کی تھی۔ خواب کی تعبیر کے سلسلہ میں وہ آپ کے علم و فضل اور تدبر سے بہت مرعوب ہوا تھا اور اب موجودہ قضیہ میں آپ کی مکمل بریت نے اس کے دل میں آپ کی قدر و منزلت اور بھی بڑھا دی تھی۔ لہٰذا اس نے اپنے قاصد کو حکم دیا کہ وہ یوسفؑ کو بلا لائے اور ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ میں اسے اپنا مدار المہام بنانا چاہتا ہوں۔ پھر جب آپؑ بادشاہ کے پاس تشریف لے آئے اور آپس میں گفتگو ہوئی تو آخر میں بادشاہ نے آپ سے کہا کہ آج سے ہی آپ ہمارے ہاں صاحب اقتدار ہیں اور ہمیں آپ کی دیانت و امانت پر پورا پورا اعتماد ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
جب بادشاہ کے سامنے یوسف علیہ السلام کی بےگناہی کھل گئی تو خوش ہو کر کہا کہ انہیں میرے پاس بلا لاؤ کہ میں انہیں اپنے خاص مشیروں میں کر لوں۔ چانچہ آپ تشریف لائے۔ جب وہ آپ سے ملا، آپ علیہ السلام کی صورت دیکھی۔ آپ علیہ السلام کی باتیں سنیں، آپ علیہ السلام کے اخلاق دیکھے تو دل سے گرویدہ ہو گیا اور بےساختہ اس کی زبان سے نکل گیا کہ آج سے آپ ہمارے ہاں معزز اور معتبر ہیں۔ اس وقت آپ علیہ السلام نے ایک خدمت اپنے لیے پسند فرمائی اور اس کی اہلیت ظاہر کی۔ انسان کو یہ جائز بھی ہے کہ جب وہ انجان لوگوں میں ہو تو اپنی قابلیت بوقت ضرورت بیان کر دے۔ اس خواب کی بنا پر جس کی تعبیر آپ نے دی تھی۔ آپ نے یہی آرزو کی کہ زمین کی پیداوار غلہ وغیرہ جو جمع کیا جاتا ہے اس پر مجھے مقرر کیا جائے تاکہ میں محافظت کروں نیز اپنے علم کے مطابق عمل کر سکوں تاکہ رعایا کو قحط سالی کی مصیبت کے وقت قدرے عافیت مل سکے۔ بادشاہ کے دل پر تو آپ کی امانت داری، سچائی، سلیقہ مندی اور کامل علم کا سکہ بیٹھ چکا تھا اسی وقت اس نے اس درخواست کو منظور کر لیا۔