تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ:} یعنی خوشوں سے صرف اتنی گندم صاف کرو جو کھانی ہے اور وہ بھی کم از کم، تاکہ زیادہ سے زیادہ محفوظ رہ سکے اور ان سات سالوں میں آدمیوں کے علاوہ بھس بھی جانوروں کے کام آ سکے۔ کم کھانے کی تاکید پر طب اور شرع دونوں متفق ہیں۔ اس کی حد ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توچند لقمے بیان فرمائی، فرمایا: [فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهٖ وَثُلُثٌ لِشَرَابِهٖ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهٖ] [ترمذی، الزھد، باب ما جاء في کراھیۃ کثرۃ الأکل: ۲۳۸۰، و صححہ الألبانی]”اگر ضرور ہی زیادہ کھانا ہو تو پیٹ کا ایک حصہ کھانے، ایک پینے اور ایک سانس کے لیے رکھو۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فعبر يوسفُ السبعَ البقراتِ السمانَ والسبعَ السنبلاتِ الخضر بأنهنَّ سبع سنين مخصبات، والسبع البقرات العجاف والسبع السنبلات اليابساتِ بأنَّهنَّ سنين مجدباتٌ، ولعلَّ وجهَ ذلك ـ والله أعلم ـ أنَّ الخصب والجدب لما كان الحرث مبنيًّا عليه، وأنَّه إذا حصل الخصبُ؛ قويتِ الزروع والحروثُ وحَسُنَ منظرُها وكثُرت غلالها، والجدب بالعكس من ذلك، وكانت البقر هي التي تُحرث عليها الأرض وتُسقى عليها الحروث في الغالب، والسنبلاتُ هي أعظم الأقوات وأفضلها؛ عبرها بذلك لوجود المناسبة، فجمع لهم في تأويلها بين التعبير والإشارة لما يفعلونه ويستعدُّون به من التدبير في سني الخصب إلى سني الجَدْب، فقال: {تزرعونَ سبعَ سنينَ دأباً}؛ أي: متتابعاتٍ، {فما حصدتُم}: من تلك الزروع، {فذَروه}؛ أي: اتركوه {في سُنبُلِهِ}: لأنَّه أبقى له وأبعد من الالتفات إليه، {إلاَّ قليلاً مما تأكلون}؛ أي: دبِّروا [أيضًا] أكلكم في هذه السنين الخصبة، وليكن قليلاً؛ ليكثر ما تدَّخرون، ويعظُم نفعُه ووقعه.