ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 38

وَ اتَّبَعۡتُ مِلَّۃَ اٰبَآءِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ مَا کَانَ لَنَاۤ اَنۡ نُّشۡرِکَ بِاللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ عَلَیۡنَا وَ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۸﴾
اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی ہے، ہمارے لیے ممکن ہی نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں، یہ ہم پر اور لوگوں پر اللہ کے فضل سے ہے اور لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ En
اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایاں نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
En
میں اپنے باپ دادوں کے دین کا پابند ہوں، یعنی ابراہیم واسحاق اور یعقوب کے دین کا، ہمیں ہرگز یہ سزاوار نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو بھی شریک کریں، ہم پر اور تمام اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہے، لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 38) ➊ {وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِيْۤ …:} پھر انھیں اپنا اور اپنے آباء کا تعارف کروایا، کیونکہ داعی کی شخصیت بھی دعوت قبول کرنے میں مددگار ہوتی ہے، چنانچہ فرمایا کہ میں نے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیھم السلام کی ملت اور ان کے دین کی پیروی کی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم کسی صورت اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک کریں، خواہ وہ آدمی ہو یا فرشتہ، جن ہو یا بھوت پری، بت ہو یا قبر، پتھر ہو یا درخت، چاند سورج ہوں یا ستارے، غرض کسی کو بھی ہم ہر گز اللہ کا شریک نہیں بنا سکتے۔ { مَا كَانَ لَنَاۤ } میں نفی کی{ كَانَ } کے ساتھ تاکید کا یہی معنی ہے۔ نیک آباء کی پیروی سعادت ہے، جب کہ گمراہ آباء کی تقلید ضلالت ہے، جیسا کہ ان قیدیوں کو فرمایا: «{ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ یعنی اللہ کے سوا جس کی بھی تم عبادت کرتے ہو وہ محض نام ہیں جو تم نے اور تمھارے آباء نے رکھ لیے ہیں، ایسے آباء کی پیروی گمراہی ہے۔
➋ { ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَيْنَا …:} یعنی توحید کی یہ سمجھ عطا کرنا ہم پر اللہ کے بے شمار احسانوں میں سے ایک احسان ہے۔ {وَ عَلَى النَّاسِ} اور لوگوں پر بھی احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذریعے سے ان کو توحید سمجھانے کا انتظام فرمایا، لیکن اکثر لوگ اس نعمت کی قدر نہیں کرتے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

38۔ 1 اجداد کو بھی آباء کہا، اس لئے کہ وہ بھی آباء ہی ہیں۔ پھر ترتیب میں جد اعلٰی (ابراہیم علیہ السلام) پھر جد اقرب (اسحاق علیہ السلام) اور پھر باپ (یعقوب علیہ السلام) کا ذکر کیا، یعنی پہلے۔ پہلی اصل، پھر دوسری اصل اور پھر تیسری اصل بیان کی۔ 38۔ 2 وہی توحید کی دعوت اور شرک کی تردید ہے جو ہر نبی کی بنیادی اور اولین تعلیم اور دعوت ہوتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ اس کے بجائے میں نے اپنے آباء و اجداد حضرت ابراہیم، اسحاق، اور یعقوب کا دین اختیار کیا ہے ہمارے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہم کسی غیر کو اللہ کا شریک بنائیں۔ ہم پر اور تمام انسانوں پر یہ اللہ کا فضل ہے۔ لیکن اکثر اس (نعمت) کا شکر نہیں کرتے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جیل خانہ میں خوابوں کی تعبیر کا سلسلہ اور تبلیغ توحید ٭٭
حضرت یوسف علیہ السلام اپنے دونوں قیدی ساتھیوں کو تسکین دیتے ہیں کہ میں تمہارے دونوں خوابوں کی صحیح تعبیر جانتا ہوں اور اس کے بتانے میں مجھے کوئی بخل نہیں۔ اس کی تعبیر کے واقعہ ہونے سے پہلے ہی میں تمہیں وہ بتا دوں گا۔ یوسف علیہ السلام کے اس فرمان اور اس وعدے سے تو یہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یوسف علیہ السلام، تنہائی کی قید میں تھے کھانے کے وقت کھول دیا جاتا تھا اور ایک دوسرے سے مل سکتے تھے اس لیے آپ علیہ السلام نے ان سے یہ وعدہ کیا اور ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے تھوڑی تھوڑی کر کے دونوں خوابوں کی پوری تعبیر بتلائی گی ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ اثر مروی ہے گو بہت غریب ہے۔ پھر فرماتے ہیں مجھے یہ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا فرما گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ میں نے ان کافروں کا مذہب چھوڑ رکھا ہے جو نہ اللہ کو مانیں نہ آخرت کو برحق جانیں میں نے اللہ کے پیغمبروں کے سچے دین کو مان رکھا ہے اور اسی کی تابعداری کرتا ہوں۔ خود میرے باپ دادا اللہ کے رسول تھے۔ ابراہیم، اسحاق، یعقوب علیہ الصلواۃ والسلام۔ فی الواقع جو بھی راہ راست پر استقامت سے چلے ہدایت کا پیرو رہے۔ اللہ کے رسولوں کی اتباع کو لازم پکڑ لے، گمراہوں کی راہ سے منہ پھیر لے۔
اللہ تبارک تعالیٰ اس کے دل کو پرنور اور اس کے سینے کو معمور کر دیتا ہے۔ اسے علم و عرفان کی دولت سے مالا مال کر دیتا ہے۔ اسے بھلائی میں لوگوں کا پیشوا کر دیتا ہے کہ اور دنیا کو وہ نیکی کی طرف بلاتا رہتا ہے۔ ہم جب کہ راہ راست دکھا دئیے گئے توحید کی سمجھ دے دئیے گئے شرک کی برائی بتا دئیے گئے۔ پھر ہمیں کیسے یہ بات زیب دیتی ہے؟ کہ ہم اللہ کے ساتھ اور کسی کو بھی شریک کر لیں۔ یہ توحید اور سچا دین اور یہ اللہ کی وحدانیت کی گواہی یہ خاص اللہ کا فضل ہے جس میں ہم تنہا نہیں بلکہ اللہ کی اور مخلوق بھی شامل ہے۔ ہاں ہمیں یہ برتری ہے کہ ہماری جانب یہ براہ راست اللہ کی وحی آئی ہے۔ اور لوگوں کو ہم نے یہ وحی پہنچائی۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی اس زبردست نعمت کی جو اللہ نے ان پر رسول بھیج کر انعام فرمائی ہے ناقدری کرتے ہیں «بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ» [14-ابراھیم: 28]‏‏‏‏ اور اسے مان کر نہیں رہتے بلکہ رب کی نعمت کے بدلے کفر کرتے ہیں۔ اور خود مع اپنے ساتھیوں کے ہلاکت کے گھر میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ دادا کو بھی باپ کے مساوی میں رکھتے ہیں اور فرماتے جو چاہے حطیم میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے دادا دادی کا ذکر نہیں کیا دیکھو یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا میں نے اپنے باپ ابراہیم اسحاق اور یعقوب علیہ الصلاۃ و السلام کے دین کی پیروی کی۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَاِسْحٰؔقَ وَیَعْقُوْبَ اور میں نے پیروی کی اپنے باپ دادا کی ملت کی، ابراہیم، اسحٰق اور یعقوب کی اس کے بعد یوسف علیہ السلام نے ملت ابراہیم علیہ السلام کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْ٘رِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ ہمارے لائق نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں یعنی ہم اللہ تعالیٰ کو ایک مانتے ہیں اور اسی کے لیے دین اور عبودیت کو خالص کرتے ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَعَلَى النَّاسِ یہ ہم پر اللہ کی بہترین نوازش اور اس کا فضل و احسان ہے۔ یہ احسان ان لوگوں پر بھی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرح راہ ہدایت پر گامزن کیا ہے کیونکہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کی اس نوازش اور عنایت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں کہ وہ ان کو اسلام اور دین قویم سے نواز دے۔
پس جو کوئی اسے قبول کر لیتا ہے اور اس کی اطاعت کرتا ہے تو یہ اس کی خوش نصیبی ہے وہ سب سے بڑی نعمت اور جلیل ترین فضیلت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ﴿ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے اسی لیے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی نوازشیں اور احسانات آتے ہیں مگر وہ انھیں قبول نہیں کرتے اور نہ اللہ تعالیٰ کے کسی حق کو قائم کرتے ہیں۔
یہ بات مخفی نہیں کہ اس میں اس راستے کی اتباع کی ترغیب ہے جس پر خود جناب یوسف علیہ السلام گامزن تھے۔ یوسف علیہ السلام نے چونکہ ان نوجوانوں کے بارے میں یہ چیز محسوس کر لی تھی کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام ایک اچھے اور تعلیم دینے والے شخص ہیں … اس لیے جناب یوسف علیہ السلام نے ان دونوں کو بتایا کہ میری یہ حالت، جس پر میں اس وقت ہوں، یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا کہ میں شرک سے بچ گیا اور میں نے اپنے آباء و اجداد کی ملت کی اتباع کی اور میں اس مقام پر پہنچ گیا جہاں تم مجھے دیکھ رہے ہو تمھارے لیے مناسب یہی ہے کہ تم بھی اس راستے پر چلو جس پر میں چل رہا ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واتَّبعت مِلَّةَ آبائي إبراهيم وإسحاق ويعقوبَ}: ثم فسَّر تلك الملة بقوله: {ما كان لنا}؛ [أي: ما ينبغي ولا يليق بنا] {أن نُشْرِكَ بالله من شيءٍ}: بل نُفْرِدُ الله بالتوحيد ونُخْلِصُ له الدين والعبادة. {ذلك من فضل الله علينا وعلى الناس}؛ أي: هذا من أفضل [مننِه] وإحسانه وفضله علينا وعلى مَنْ هداه الله كما هدانا؛ فإنَّه لا أفضل من منَّة الله على العباد بالإسلام والدين القويم؛ فمن قبله وانقاد له؛ فهو حظُّه، وقد حصل له أكبر النعم وأجلُّ الفضائل. {ولكنَّ أكثرَ الناس لا يشكرونَ}: فلذلك تأتيهم المنَّة والإحسان فلا يقبلونَها ولا يقومون لله بحقِّه. وفي هذا من الترغيب للطريق التي هو عليها ما لا يخفى؛ فإنَّ الفتيين لما تقرَّر عنده أنهما رأياه بعين التعظيم والإجلال وأنه محسنٌ معلِّم؛ ذكر لهما أنَّ هذه الحالة التي أنا عليها كلّها من فضل الله وإحسانه، حيث منَّ عليَّ بترك الشرك وباتباع ملة آبائي ؛ فبهذا وصلتُ إلى ما رأيتما، فينبغي لكما أن تَسْلُكا ما سلكتُ.