قَالَ لَا یَاۡتِیۡکُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِہٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُکُمَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمَا ؕ ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیۡ رَبِّیۡ ؕ اِنِّیۡ تَرَکۡتُ مِلَّۃَ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۷﴾
اس نے کہا تمھارے پاس وہ کھانا نہیں آئے گا جو تمھیں دیا جاتا ہے، مگر میں تمھیں اس کی تعبیر اس سے پہلے بتا دوں گا کہ وہ تمھارے پاس آئے۔ یہ اس میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا۔ بے شک میں نے اس قوم کا دین چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کے ساتھ بھی کفر کرنے والے ہیں۔
En
یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت سے انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں
En
یوسف ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا تمہیں جو کھانا دیا جاتا ہے اس کے تمہارے پاس پہنچنے سے پہلے ہی میں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا۔ یہ سب اس علم کی بدولت ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے، میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 37) ➊ { قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ …:} یوسف علیہ السلام اس سے پہلے بھی اللہ کے دین اور توحید پر قائم تھے، قید میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکمت رکھی کہ دنیا کے معاملات سے فراغت اور خلوت نصیب ہوئی، ذکر وفکر کا موقع زیادہ ملا، کفار کے تعلق سے دل خالی ہوا تو سینہ علم نبوت کے نور سے اور زیادہ روشن ہو گیا۔ اب ان دونوں کو یوسف علیہ السلام سے خواب کی تعبیر پوچھنے کی ضرورت پڑی تو یوسف علیہ السلام نے ضروری سمجھا کہ پہلے انھیں توحید اور آخرت پر ایمان کی دعوت دیں، بعد میں خواب کی تعبیر بتائیں، اس لیے ان سے بات کا کچھ وقت لے لیا، مگر ساتھ ہی ان کی تسلی کر دی تاکہ وہ گھبرا نہ جائیں، کہا کہ کھانا جو تمھیں دیا جاتا ہے، اس کے آنے سے پہلے پہلے میں تمھیں ہر حال میں تعبیر بتا دوں گا۔ کھانا آنے سے پہلے پہلے کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کا وقت قریب ہی تھا۔
➋ { ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ …: ” ذٰلِكُمَا “} کی تفسیر کے لیے دیکھیں آیت (۳۲) یعنی خواب کی تعبیر ان علوم میں سے ایک علم ہے جو اللہ نے مجھے سکھائے ہیں، مثلاً شریعت، حکمت، معیشت، امانت وغیرہ۔ مطلب یہ کہ میں تعبیر اندازے اور اٹکل سے نہیں بلکہ حقیقی علم کے ساتھ کروں گا۔ مصر کے کاہن اور درباری مشیر علم تعبیر میں مہارت رکھتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو یہ علم خاص طور پر عطا فرمایا، تاکہ وقت آنے پر ظاہر ہو کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کو عطا کر دہ علم میں اور دوسرے کسی بھی بڑے سے بڑے عالم کے علم میں کیا فرق ہوتا ہے، گویا یہ یوسف علیہ السلام کو عطا کر دہ ایک معجزہ بھی تھا۔ یہاں یہ سوال خودبخود پیدا ہونا تھا کہ یہ علوم جن میں سے علم تعبیر بھی ہے، آپ کو کیسے حاصل ہوئے؟ اس کے جواب میں یوسف علیہ السلام نے اس پورے معاشرے میں سے اپنے پر اس نعمت کے اسباب بیان فرمائے، پھر ان کو نہایت حکیمانہ طریقے سے دعوت توحید دی۔ چنانچہ پہلی بات یہ فرمائی کہ یہ علوم مجھے میرے رب تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں،({” اِنِّيْ تَرَكْتُ “ } میں {”اِنَّ“} سبب بیان کرنے کے لیے ہے) اس لیے کہ میں نے ان لوگوں کی ملت اور ان کے دین کو ان میں رہنے اور جوان ہونے کے باوجود چھوڑے رکھا، کبھی اختیار ہی نہیں کیا، جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی وہ منکر ہیں، کیونکہ ایسے لوگ ان علوم کے لائق ہی نہیں ہوتے۔
➋ { ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ …: ” ذٰلِكُمَا “} کی تفسیر کے لیے دیکھیں آیت (۳۲) یعنی خواب کی تعبیر ان علوم میں سے ایک علم ہے جو اللہ نے مجھے سکھائے ہیں، مثلاً شریعت، حکمت، معیشت، امانت وغیرہ۔ مطلب یہ کہ میں تعبیر اندازے اور اٹکل سے نہیں بلکہ حقیقی علم کے ساتھ کروں گا۔ مصر کے کاہن اور درباری مشیر علم تعبیر میں مہارت رکھتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو یہ علم خاص طور پر عطا فرمایا، تاکہ وقت آنے پر ظاہر ہو کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کو عطا کر دہ علم میں اور دوسرے کسی بھی بڑے سے بڑے عالم کے علم میں کیا فرق ہوتا ہے، گویا یہ یوسف علیہ السلام کو عطا کر دہ ایک معجزہ بھی تھا۔ یہاں یہ سوال خودبخود پیدا ہونا تھا کہ یہ علوم جن میں سے علم تعبیر بھی ہے، آپ کو کیسے حاصل ہوئے؟ اس کے جواب میں یوسف علیہ السلام نے اس پورے معاشرے میں سے اپنے پر اس نعمت کے اسباب بیان فرمائے، پھر ان کو نہایت حکیمانہ طریقے سے دعوت توحید دی۔ چنانچہ پہلی بات یہ فرمائی کہ یہ علوم مجھے میرے رب تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں،({” اِنِّيْ تَرَكْتُ “ } میں {”اِنَّ“} سبب بیان کرنے کے لیے ہے) اس لیے کہ میں نے ان لوگوں کی ملت اور ان کے دین کو ان میں رہنے اور جوان ہونے کے باوجود چھوڑے رکھا، کبھی اختیار ہی نہیں کیا، جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی وہ منکر ہیں، کیونکہ ایسے لوگ ان علوم کے لائق ہی نہیں ہوتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37۔ 1 یعنی میں جو تعبیر بتلاؤں گا، وہ کاہنوں اور نجومیوں کی طرح ظن وتخمین پر مبنی نہیں ہوگی، جس میں خطا اور نیکی دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔ بلکہ میری تعبیر یقینی علم پر مبنی ہوگی جو اللہ کی طرف سے مجھے عطا کیا گیا ہے، جس میں غلطی کا امکان ہی نہیں۔ 37۔ 2 یہ الہام اور علم الٰہی (جن سے آپ کو نوازا گیا) کی وجہ بیان کی جا رہی ہے کہ میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا جو اللہ اور آخرت پر یقین نہیں رکھتے، اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ کے یہ انعامات مجھ پر ہوئے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ یوسف نے فرمایا: جو کھانا تمہیں یہاں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ ایسا علم [37] ہے جو مجھے میرے پروردگار نے سکھلایا ہے۔ میں نے ان لوگوں کا دین چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں
[37] سیدنا یوسف کا قیدیوں کو اسلام کے اصول سمجھانا:۔
سیدنا یوسفؑ نے انھیں جواب دیا کہ خواب کی تعبیر تو میں تمہیں بتا ہی دوں گا اور جس وقت تمہارا کھانا آیا کرتا ہے اس سے پہلے ہی بتا دوں گا اور اس سے پہلے یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ خوابوں کی تعبیر کا علم جو اللہ نے مجھے سکھایا ہے تو یہ مجھ پر اللہ کا خاص احسان ہے اور اللہ کا فضل و احسان ان لوگوں پر ہی ہوا کرتا ہے جو اللہ ہی کے ہو کر رہتے ہیں۔ اسی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے۔ میں ان لوگوں (مصریوں) کا دین ہرگز قبول نہیں کرتا جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز آخرت پر، بلکہ میں تو اپنے بزرگوں سیدنا ابراہیمؑ اور سیدنا یعقوبؑ کے دین پر ہوں اور یہ بزرگ خالصتاً اللہ ہی کی عبادت کیا کرتے تھے کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہیں کیا کرتے تھے اور ایسا دین اختیار کر لینا ہی اللہ کا بہت بڑا فضل و احسان ہے۔ کاش لوگ یہ بات سمجھ جائیں۔ اس موقعہ پر سیدنا یوسفؑ کے ان قیدیوں کو اصول دین سمجھانے سے ضمناً کئی باتوں کا پتہ چلتا ہے مثلاً:
1۔
1۔
تبلیغ کا بہترین وقت:۔
تبلیغ کا سب سے بہتر موقع وہ ہوتا ہے جب سننے والا خود بات سننے کا خواہش مند ہو۔ یہ قیدی اپنے اپنے خواب کی تعبیر تو بہرحال سننا ہی چاہتے تھے اور اس کے منتظر بھی تھے۔ سیدنا یوسفؑ نے اس موقعہ سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور پہلے انھیں اصول دین سمجھانا شروع کر دیے۔ اگر آپ انھیں خوابوں کی تعبیر بتا دیتے تو شاید وہ بعد میں ایسی باتیں سننے کو تیار ہی نہ ہوتے یا سنتے بھی تو ان میں کوئی دلچسپی نہ لیتے۔
2۔ سیدنا یوسفؑ کی سابقہ زندگی میں بے شمار اتار چڑھاؤ آچکے تھے لیکن آپ نے کسی موقع پر اس انداز میں تبلیغ نہیں کی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہی ایام میں آپ کو نبوت عطا ہوئی تھی۔
3۔
2۔ سیدنا یوسفؑ کی سابقہ زندگی میں بے شمار اتار چڑھاؤ آچکے تھے لیکن آپ نے کسی موقع پر اس انداز میں تبلیغ نہیں کی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہی ایام میں آپ کو نبوت عطا ہوئی تھی۔
3۔
سیدنا یوسف کا زمانہ نبوت:۔
اس تبلیغ کے دوران سیدنا ابراہیمؑ، اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا نام لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان بزرگوں کی اس علاقہ مصر میں بھی خاصی شہرت تھی اور یہ نیک شہرت تھی۔ نیز یہ بتانا مقصود تھا کہ میں کوئی نئی بات پیش نہیں کر رہا بلکہ وہی کچھ کہہ رہا ہوں جو اہل حق ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں۔
4۔ جس طرح آپ نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھایا۔ قید خانے میں کم و بیش آٹھ نو سال کی طویل مدت میں یقیناً آپ کو ایسے بہت سے مواقع میسر آئے ہوں گے۔ گویا یہ قید خانہ ہی آپ کی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا تھا۔
4۔ جس طرح آپ نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھایا۔ قید خانے میں کم و بیش آٹھ نو سال کی طویل مدت میں یقیناً آپ کو ایسے بہت سے مواقع میسر آئے ہوں گے۔ گویا یہ قید خانہ ہی آپ کی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیل خانہ میں خوابوں کی تعبیر کا سلسلہ اور تبلیغ توحید ٭٭
حضرت یوسف علیہ السلام اپنے دونوں قیدی ساتھیوں کو تسکین دیتے ہیں کہ میں تمہارے دونوں خوابوں کی صحیح تعبیر جانتا ہوں اور اس کے بتانے میں مجھے کوئی بخل نہیں۔ اس کی تعبیر کے واقعہ ہونے سے پہلے ہی میں تمہیں وہ بتا دوں گا۔ یوسف علیہ السلام کے اس فرمان اور اس وعدے سے تو یہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یوسف علیہ السلام، تنہائی کی قید میں تھے کھانے کے وقت کھول دیا جاتا تھا اور ایک دوسرے سے مل سکتے تھے اس لیے آپ علیہ السلام نے ان سے یہ وعدہ کیا اور ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے تھوڑی تھوڑی کر کے دونوں خوابوں کی پوری تعبیر بتلائی گی ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ اثر مروی ہے گو بہت غریب ہے۔ پھر فرماتے ہیں مجھے یہ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا فرما گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ میں نے ان کافروں کا مذہب چھوڑ رکھا ہے جو نہ اللہ کو مانیں نہ آخرت کو برحق جانیں میں نے اللہ کے پیغمبروں کے سچے دین کو مان رکھا ہے اور اسی کی تابعداری کرتا ہوں۔ خود میرے باپ دادا اللہ کے رسول تھے۔ ابراہیم، اسحاق، یعقوب علیہ الصلواۃ والسلام۔ فی الواقع جو بھی راہ راست پر استقامت سے چلے ہدایت کا پیرو رہے۔ اللہ کے رسولوں کی اتباع کو لازم پکڑ لے، گمراہوں کی راہ سے منہ پھیر لے۔
اللہ تبارک تعالیٰ اس کے دل کو پرنور اور اس کے سینے کو معمور کر دیتا ہے۔ اسے علم و عرفان کی دولت سے مالا مال کر دیتا ہے۔ اسے بھلائی میں لوگوں کا پیشوا کر دیتا ہے کہ اور دنیا کو وہ نیکی کی طرف بلاتا رہتا ہے۔ ہم جب کہ راہ راست دکھا دئیے گئے توحید کی سمجھ دے دئیے گئے شرک کی برائی بتا دئیے گئے۔ پھر ہمیں کیسے یہ بات زیب دیتی ہے؟ کہ ہم اللہ کے ساتھ اور کسی کو بھی شریک کر لیں۔ یہ توحید اور سچا دین اور یہ اللہ کی وحدانیت کی گواہی یہ خاص اللہ کا فضل ہے جس میں ہم تنہا نہیں بلکہ اللہ کی اور مخلوق بھی شامل ہے۔ ہاں ہمیں یہ برتری ہے کہ ہماری جانب یہ براہ راست اللہ کی وحی آئی ہے۔ اور لوگوں کو ہم نے یہ وحی پہنچائی۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی اس زبردست نعمت کی جو اللہ نے ان پر رسول بھیج کر انعام فرمائی ہے ناقدری کرتے ہیں «بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ» [14-ابراھیم: 28] اور اسے مان کر نہیں رہتے بلکہ رب کی نعمت کے بدلے کفر کرتے ہیں۔ اور خود مع اپنے ساتھیوں کے ہلاکت کے گھر میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ دادا کو بھی باپ کے مساوی میں رکھتے ہیں اور فرماتے جو چاہے حطیم میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے دادا دادی کا ذکر نہیں کیا دیکھو یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا میں نے اپنے باپ ابراہیم اسحاق اور یعقوب علیہ الصلاۃ و السلام کے دین کی پیروی کی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ دادا کو بھی باپ کے مساوی میں رکھتے ہیں اور فرماتے جو چاہے حطیم میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے دادا دادی کا ذکر نہیں کیا دیکھو یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا میں نے اپنے باپ ابراہیم اسحاق اور یعقوب علیہ الصلاۃ و السلام کے دین کی پیروی کی۔