تو جب اس نے اس کی قمیص دیکھی کہ پیچھے سے پھاڑی گئی ہے تو اس نے کہا یقینا یہ تم عورتوں کے فریب سے ہے، بے شک تم عورتوں کا فریب بہت بڑا ہے۔
En
اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں
اس آیت کی تفسیر آیت 27 میں تا آیت 29 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28۔ 1 یہ عزیز مصر کا قول ہے جو اس نے اپنی بیوی کی حرکت قبیحہ دیکھ کر عورتوں کی بابت کہا، یہ نہ اللہ کا قول ہے نہ ہر عورت کے بارے میں صحیح، اس لئے اسے ہر عورت پر چسپاں کرنا اور اس بنیاد پر عورت کو مکر و فریب کا پتلا باور کرانا، قرآن کا ہرگز منشا نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض لوگ اس جملے سے عورت کے بارے میں یہ تاثر دیتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ پھر جب عورت کے خاوند (عزیز مصر) نے یوسف کی قمیص دیکھی تو پیچھے سے پھٹی تھی۔ (یہ دیکھ کر وہ اپنی بیوی سے) کہنے لگا: یہ تو تم عورتوں کا ایک چلتر [28] ہے۔ واقعی تمہارے چلتر بڑے (خطرناک) ہوتے ہیں
[28] عورتوں کا فتنہ:۔
جب سیدنا یوسفؑ کی قمیص دیکھی گئی تو وہ آگے سے پھٹی ہوئی تھی۔ عزیز مصر کو معلوم ہو گیا کہ اصل مجرم اس کی بیوی ہے اور اس کا بیان محض فریب کاری ہے۔ لیکن اپنی اور اپنے خاندان کی بدنامی کی وجہ سے اس نے اپنی بیوی پر کوئی مواخذہ نہیں کیا، مبادا یہ بات پھیل جائے صرف اتنا ہی کہا کہ یہ بیان تیرا ایک چلتر تھا اور یوسفؑ پر بہت بڑا بہتان تھا اور تم عورتوں کے چلتر بڑے گمراہ کن ہوتے ہیں۔ یوسفؑ کی تم دہری مجرم ہو۔ ایک اسے بد کاری پر اکسایا۔ دوسرے اس پر الزام لگا دیا۔ لہٰذا اب اس سے معافی مانگو۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس آیت میں ﴿اِنَّكَيْدَكُنَّعَظِيْمٌ﴾ عزیز مصر کا قول نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ چنانچہ کسی بزرگ سے منقول ہے وہ کہا کرتے تھے کہ میں شیطان سے زیادہ عورتوں سے ڈرتا ہوں۔ اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کا ذکر کیا تو فرمایا کہ شیطان کا مکر کمزور ہے۔ [4: 76] اور جب عورتوں کا ذکر کیا تو فرمایا کہ تمہارا مکر بہت بڑا ہے۔ اور درج ذیل حدیث بھی اسی مضمون پر دلالت کرتی ہے۔ سیدنا اسامہ بن زیدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ سخت کوئی فتنہ نہیں چھوڑا“ [بخاري، كتاب النكاح، باب مايتقي من شؤم المراة] اسی طرح ﴿وَاسْتَغْفِرِيْلِذَنْبِكِ﴾ سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یوسف سے اپنے گناہ کی معافی مانگو اور یہ بھی کہ اللہ سے اپنے گناہ کی معافی مانگو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔