ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 24

وَ لَقَدۡ ہَمَّتۡ بِہٖ ۚ وَ ہَمَّ بِہَا لَوۡ لَاۤ اَنۡ رَّاٰ بُرۡہَانَ رَبِّہٖ ؕ کَذٰلِکَ لِنَصۡرِفَ عَنۡہُ السُّوۡٓءَ وَ الۡفَحۡشَآءَ ؕ اِنَّہٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۲۴﴾
اور بلاشبہ یقینا وہ اس کے ساتھ ارادہ کر چکی تھی اور وہ بھی اس عورت کے ساتھ ارادہ کر لیتا اگر یہ نہ ہوتا کہ اس نے اپنے رب کی دلیل دیکھ لی۔ اسی طرح ہوا، تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو ہٹا دیں۔ بے شک وہ ہمارے خالص کیے ہوئے بندوں سے تھا۔ En
اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا۔ اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بےشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے
En
اس عورت نے یوسف کی طرف قصد کیا اور یوسف اس کا قصد کرتے اگر وه اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھتے، یونہی ہوا اس واسطے کہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی دور کر دیں۔ بے شک وه ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 24) ➊ {وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ وَ هَمَّ بِهَا:} عزیز کی بیوی کا یوسف علیہ السلام کے ساتھ ارادۂ بدی تو لام اور { قَدْ } سے (جو دونوں تحقیق کے لیے بمعنی قسم آتے ہیں) بلکہ سارے واقعہ ہی سے ظاہر ہے، البتہ یوسف علیہ السلام نے ارادہ کیا یا نہیں، اس میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں۔ بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ جس طرح روزہ دار کو ٹھنڈا پانی دیکھ کر اس کی رغبت ہوتی ہے مگر وہ روزے کی وجہ سے اس پر قابو پا لیتا ہے اور یہ ایک طبعی چیز ہے۔ اس قسم کا خیال یوسف علیہ السلام کے دل میں آ گیا ہو تو کچھ بعید نہیں مگر { بُرْهَانَ رَبِّهٖ } دیکھنے کی برکت سے یوسف علیہ السلام نے اسے جھٹک دیا۔ مگر دوسری تفسیر جس پر زیادہ اطمینان ہوتا ہے، وہ یہی ہے جو ترجمے سے ظاہر ہے اور قرآن مجید میں { لَوْ لَاۤ } شرط کی جزا اس سے پہلے آنے کی مثال بھی موجود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے متعلق فرمایا: «{ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِيْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا [القصص: ۱۰] بے شک وہ قریب تھی کہ اسے ظاہر کر ہی دیتی اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ہم نے اس کے دل پر بند باندھ دیا تھا۔ اگر یوسف علیہ السلام ارادہ کر چکے ہوتے اور برہانِ رب کے ذریعے سے ان کو ہٹایا جاتا تو آیت کے الفاظ یہ نہ ہوتے: «{ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ اسی طرح ہوا، تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو ہٹا دیں بلکہ یہ ہوتے: {كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَهُ عَنِ السُّوْٓءِ وَالْفَحْشَاءِ} کہ اسی طرح ہوا، تاکہ ہم اسے برائی اور بے حیائی سے ہٹا دیں۔ پھر اس واقعہ سے تعلق رکھنے والے ہر شخص نے جس طرح یوسف علیہ السلام کی بے گناہی کی شہادت دی اس کا تقاضا بھی یہی ہے، مثلاً (1) خود اللہ تعالیٰ: «{ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ (2) یوسف علیہ السلام «{ هِيَ رَاوَدَتْنِيْ ‏‏‏‏ (3) شاہد قمیص کا معائنہ (4) عزیز مصر: «{ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِـِٕيْنَ (5) شاہِ مصر: «{ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ (6) زنان مصر: «{ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْٓءٍ (7) اور خود عزیز کی بیوی: «{ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ (8) خود یوسف علیہ السلام نے بعد میں فرمایا: «{ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ کہ اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا، یہ صریح دلیل ہے کہ وہ مائل نہیں ہوئے تھے۔ سب کی شہادتیں ہمارے سامنے ہیں۔ رہے وہ مفسرین جو یوسف علیہ السلام کو بلا دلیل گناہ کے عین کنارے پر پہنچا کر پیچھے ہٹاتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کو خود جواب دہ ہوں گے اور جو مفسرین ان بند دروازوں میں ہونے والی گفتگو بھی بڑی تفصیل سے بیان کرتے ہیں وہ شاید وہاں چھپ کر سنتے رہے ہوں گے، یا ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی وحی آئی ہو گی، کیونکہ قرآن و حدیث اور عقل و فطرت میں سے تو کوئی چیز ان مکالموں کی تائید نہیں کرتی۔
➋ { لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ:} وہ رب کی دلیل کیا تھی؟ اس کی تعیین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحت کے ساتھ کوئی چیز ثابت نہیں ہے، البتہ مفسرین نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں جو محض اقوال ہیں۔ ہمارے استاذ مولانا محمد عبدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہو سکتا ہے کہ ایک نبی کے اخلاق کی بلندی اس کی اجازت نہ دیتی ہو کہ زنا جیسے برے کام پر آمادہ ہوں اور اسی کو یہاں { بُرْهَانَ رَبِّهٖ } سے تعبیر فرمایا ہو۔
➌ { اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ: اَلْمُخْلِصِيْنَ } لام کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اخلاص والے، نیک بخت بندے مراد ہوں گے اور {الْمُخْلَصِيْنَ } لام کے فتحہ کے ساتھ ہو تو معنی ہو گا وہ جنھیں چن لیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خالص کر لیا ہے۔ یہاں لام کے فتحہ کے ساتھ ہے، یعنی وہ لوگ جنھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے چنے جانے کا شرف حاصل ہوا۔ مخلص بندہ ہونا ان دونوں باتوں کی علت ہے کہ یوسف علیہ السلام نے برائی کا ارادہ بھی نہیں کیا اور یہ کہ ہم نے برائی و بے حیائی کو ان سے ہٹا کر رکھا، کیوں؟ اس لیے کہ وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے، جن کے متعلق شیطان نے خود اعتراف کیا تھا کہ میں انھیں گمراہ نہیں کر سکوں گا، اس نے کہا تھا: «{ اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ [الحجر: ۴۰] مگر ان میں سے تیرے وہ بندے جو خالص کیے ہوئے ہیں۔ اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کی طہارت چار بار بیان کی ہے: (1) { لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ } (2) { وَ الْفَحْشَآءَ } (3) { اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ } (4) { الْمُخْلَصِيْنَ }

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

24۔ 1 بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ (لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ) 12۔ یوسف:24) کا تعلق ماقبل یعنی وھم بھا سے نہیں بلکہ اس کا جواب محذوف ہے یعنی لولا ان راٰ برھان ربہ لفعل ماھم بہ اگر یوسف ؑ اللہ کی دلیل نہ دیکھتے تو جس چیز کا قصد کیا تھا وہ کر گزرتے۔ یہ ترجمہ اکثر مفسرین کی تفسیر کے مطابق ہے اور جن لوگوں نے اسے لَوْ لَا کے ساتھ جوڑ کر یہ معنی بیان کئے ہیں کہ یوسف ؑ نے قصد ہی نہیں کیا، ان مفسرین نے اسے عربی اسلوب کے خلاف قرار دیا ہے۔ اور یہ معنی بیان کئے ہیں کہ قصد تو یوسف ؑ نے بھی کرلیا تھا لیکن ایک تو یہ اختیاری نہیں تھا بلکہ عزیز مصر کی بیوی کی ترغیب اور دباؤ اس میں شامل تھا۔ دوسرے یہ کہ گناہ کا قصد کرلینا عصمت کے خلاف نہیں ہے، اس پر عمل کرنا عصمت کے خلاف ہے (فتح القدیر، ابن کثیر) مگر محققین اہل تفسیر نے یہ معنی بیان کیے ہیں کہ یوسف ؑ بھی اس کا قصد کرلیتے۔ اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھے ہوتے۔ یعنی انہوں نے اپنے رب کی برہان دیکھ رکھی تھی۔ اس لیے عزیز مصر کی بیوی کا قصد ہی نہیں کیا۔ بلکہ دعوت گناہ ملتے ہی پکار اٹھے معاذ اللہ۔ البتہ قصد نہ کرنے کے یہ معنی نہیں کہ نفس میں ہیجان اور تحریک ہی پیدا نہیں ہوئی۔ ہیجان اور تحریک پیدا ہوجانا الگ بات ہے۔ اور قصد کرلینا الگ بات ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر سرے سے ہیجان اور تحریک ہی پیدا نہ ہو تو ایسے شخص کا گناہ سے بچ جانا کوئی کمال نہیں۔ کمال تو تب ہی ہے کہ نفس کے اندر داعیہ اور تحریک پیدا ہو اور پھر انسان اس پر کنٹرول کرے اور گناہ سے بچ جائے۔ حضرت یوسف ؑ نے اسی کمال صبر و ضبط کا بےمثال نمونہ پیش فرمایا۔ 24۔ 2 یہاں پہلی تفسیر کے مطابق لولاء کا جواب محذوف ہے لفعل ماھم بہ یعنی اگر یوسف ؑ رب کی برہان دیکھتے تو جو قصد کیا تھا کر گزرتے۔ یہ برہان کیا تھی؟ اس میں مختلف اقوال ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ رب کی طرف سے کوئی ایسی چیز آپ کو دکھائی گئی کہ اسے دیکھ کر آپ نفس کے داعیئے کے دبانے اور رد کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کی اسی طرح حفاظت فرماتا ہے۔ 24۔ 3 یعنی جس طرح ہم نے یوسف ؑ کو برہان دکھا کر برائی یا اس کے ارادے سے بچا لیا، اسی طرح ہم نے اسے ہر معاملے میں برائی اور بےحیائی کی باتوں سے دور رکھنے کا اہتمام کیا۔ کیونکہ وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

24۔ چنانچہ اس عورت نے یوسف کا قصد کیا اور وہ بھی اس عورت کا قصد کر لیتے اگر اپنے پروردگار کی برہان [24] نہ دیکھ لیتے اس طرح ہم نے انھیں اس برائی اور بے حیائی سے بچا لیا۔ کیونکہ وہ ہمارے مخلص بندوں سے تھے
[24] عصمت انبیاء کا مفہوم:۔
جب زلیخا نے اس دعوت میں اپنے آپ کو ناکام پایا اور اس میں اپنی مزید خفت محسوس کی تو اس نے اس بد کاری کے کام کو سرانجام دینے کا تہیہ کر لیا اور خود یوسف تک پہنچ کر دست درازی شروع کر دی۔ اس آڑے وقت میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسفؑ کی خاص رہنمائی فرمائی اور ان کی نگہداشت فرمائی۔ اس وقت اللہ نے سیدنا یوسفؑ کو کون سی دلیل یا برہان دکھائی تھی وہ وہی ہے جس کا سابقہ آیات میں ذکر ہو چکا ہے۔ یعنی سیدنا یوسف اپنے سابقہ جواب اور عزم پر ہی ڈٹے رہے۔ اس طرح اللہ نے انھیں اس بد فعلی کے ارتکاب سے محفوظ رکھا۔ یہیں سے عصمت انبیاء کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے یعنی وہ بھی بشر ہی ہوتے ہیں اور بشری تقاضوں سے مجبور ہو کر گناہ کا ارتکاب ان سے بھی ہو سکتا ہے۔ مگر اللہ انھیں ایسے کاموں سے بچائے رکھتا ہے اور ان سے کوئی چھوٹی موٹی لغزش ہو بھی جائے تو بذریعہ وحی ان کی اصلاح کر دی جاتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

یوسف علیہ السلام کے تقدس کا سبب ٭٭
سلف کی ایک جماعت سے تو اس آیت کے بارے میں وہ مروی ہے جو ابن جریر وغیرہ لائے ہیں اور کہا گیا ہے کہ یوسف علیہ السلام کا قصد اس عورت کے ساتھ صرف نفس کا کھٹکا تھا۔ بغوی کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کا فرمان ہے کہ جب میرا کوئی بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو تم اس کی نیکی لکھ لو۔ اور جب اس نیکی کو کر گزرے تو اس جیسی دس گنی نیکی لکھ لو۔ اور اگر کسی برائی کا ارادہ کرے اور پھر اسے نہ کرے تو اس کے لیے نیکی لکھ لو۔ کیونکہ اس نے میری وجہ سے اس برائی کو چھوڑا ہے۔ اور اگر اس برائی کو ہی کر گزرے تو اس کے برابر اسے لکھ لو۔ اس حدیث کے الفاظ اور بھی کئی ایک ہیں اصل بخاری، مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:7051]‏‏‏‏
ایک قول ہے کہ یوسف علیہ السلام نے اسے مارنے کا قصد کیا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے بیوی بنانے کی تمنا کی تھی۔ ایک قول ہے کہ آپ قصد کرتے اگر اگر دلیل نہ دیکھتے لیکن چونکہ دلیل دیکھ لی قصد نہیں فرمایا۔ لیکن اس قول میں عربی زبان کی حیثیت سے کلام ہے جسے امام ابن جریر وغیرہ نے بیان فرمایا ہے۔ یہ تو تھے اقوال قصد یوسف کے متعلق۔ وہ دلیل جو آپ نے دیکھی اس کے متعلق بھی اقوال ملاحظہ فرمائیے۔ کہتے ہیں اپنے والد یعقوب علیہ السلام کو دیکھا کہ گویا وہ اپنی انگلی منہ میں ڈالے کھڑے ہیں۔
اور یوسف علیہ السلام کے سینے پر آپ نے ہاتھ مارا۔ کہتے ہیں اپنے سردار کی خیالی تصویر سامنے آ گئی۔ کہتے ہیں آپ کی نظر چھت کی طرف اُٹھ گئی دیکھتے ہیں کہ اس پر یہ آیت لکھی ہوئی ہے «وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا» [17-الاسراء: 32]‏‏‏‏ خبردار زنا کے قریب بھی نہ بھٹکنا وہ بڑی بے حیائی کا اور اللہ کے غضب کا کام ہے اور وہ بڑا ہی برا راستہ ہے۔ کہتے ہیں تین آیتیں لکھی ہوئی تھیں ایک تو آیت «وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ» [82-الانفطار: 10]‏‏‏‏ تم پر نگہبان مقرر ہیں۔ دوسری آیت «وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ» [10-یونس: 61]‏‏‏‏ تم جس حال میں ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ تیسری آیت «أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ» [13-الرعد: 33]‏‏‏‏ اللہ ہر شخص کے ہر عمل پر حاضر ناظر ہے۔ کہتے ہیں کہ چار آیتیں لکھی پائی تین وہی جو اوپر ہیں اور ایک حرمت زنا کی «وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا» [17-الاسراء: 32]‏‏‏‏ جو اس سے پہلے ہے۔ کہتے ہیں کہ کوئی آیت دیوار پر ممانعت زنا کے بارے میں لکھی ہوئی پائی۔ کہتے ہیں ایک نشان تھا جو آپ کے ارادے سے آپ کو روک رہا تھا۔ ممکن ہے وہ صورت یعقوب علیہ السلام ہو۔ اور ممکن ہے اپنے خریدنے والے کی صورت ہو۔ اور ممکن ہے آیت قرآنی ہو کوئی ایسی صاف دلیل نہیں کہ کسی خاص ایک چیز کے فیصلے پر ہم پہنچ سکیں۔ پس بہت ٹھیک راہ ہمارے لیے یہی ہے کہ اسے یونہی مطلق چھوڑ دیا جائے جیسے کہ اللہ کے فرمان میں بھی اطلاق ہے [اسی طرح قصد کو بھی]‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ہم نے جس طرح اس وقت اسے ایک دلیل دکھا کر برائی سے بچا لیا، اسی طرح اس کے اور کاموں میں بھی ہم اس کی مدد کرتے رہے اور اسے برائیوں اور بے حیائیوں سے محفوظ رکھتے رہے۔ وہ تھا بھی ہمارا برگزیدہ پسندیدہ بہترین اور مخلص بندہ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر درود و سلام نازل ہوں۔