تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کا نام نہیں لیا جس کے گھر میں یوسف علیہ السلام تھے۔ حق یہی ہے کہ ہم بھی نہ لیں، خصوصاً جب ہمیں اس کا نام کسی صحیح ذریعے سے معلوم ہی نہ ہو اور نام لینے میں کسی گناہ گار خصوصاً عورت کی پردہ دری ہو رہی ہو۔ اس لیے بار بار زلیخا کہنے والے قرآن سے سبق سیکھیں اور اپنے اس رویے کو ترک کریں۔
➌ { عَنْ نَّفْسِهٖ:} قرآن مجید کے بیان کی پاکیزگی ملاحظہ فرمایئے، پوری بات سمجھ میں آ رہی ہے اور کوئی ناشائستہ لفظ بھی استعمال نہیں ہوا۔
➍ { وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ …: ” غَلَّقَ “} باب تفعيل ميں سے ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”دروازے اچهی طرح بند كر ليے“ كيا ہے۔ {”هَيْتَ لَكَ “} اسم فعل ہے جس کا معنی ہے ”آ، جلدی کر۔“ {” لَكَ “} خطاب کی صراحت کے لیے ہے، جیسے کہتے ہیں: {”شُكْرًا لَكَ، سَقْيًا لَكَ “} اہل علم فرماتے ہیں کہ اس وقت یوسف علیہ السلام کو گناہ پر آمادہ کرنے والی ہر چیز موجود تھی اور روکنے والی دنیا کی کوئی چیز نہ تھی۔ یوسف علیہ السلام کی صحت، جوانی، قوت، خلوت، فریق ثانی کا حسن، پیش کش، اس پر اصرار، غرض ہر چیز ہی بہکا دینے والی تھی، جب کہ انسان کو روکنے والی چیز اس کی اپنی جسمانی یا جنسی کمزوری ہو سکتی ہے، یا فریق ثانی کے حسن کی کمی، یا اس کی طرف سے انکار یا مزاحمت کا امکان یا راز فاش ہونے کا خطرہ یا اپنے خاندان، قوم اور لوگوں میں رسوائی کا خوف، ان میں سے کوئی چیز ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں تھی۔ اٹھتی جوانی تھی، بے مثال حسن تھا، دروازے بند تھے، دوسری طرف سے پیش کش بلکہ درخواست اور اس پر اصرار تھا، اپنے وطن سے دور تھے کہ قبیلے یا قوم میں رسوائی کا ڈر ہو۔ یہاں کتنے ہی لوگ باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں تو اپنوں سے دور ہونے کی وجہ سے بہک جاتے ہیں، پھر دروازے خوب بند تھے، راز فاش ہونے کی کوئی صورت ہی نہ تھی اور جب مالکہ خود کہہ رہی ہو تو سزا کا کیا خوف؟
➎ { قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ:} یوسف علیہ السلام کے سامنے جب بچنے کی کوئی راہ نہ رہی تو انھوں نے اس ذات پاک کی پناہ مانگی جس کی پناہ ملنے کے بعد کوئی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ {” مَعَاذَ “} مصدر میمی ہے، معنی ہے: {” أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مَعَاذًا مِمَّا تُرِيْدِيْنَ“} یعنی تم جو چاہتی ہو میں اس سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ مجھے اپنی پناہ میں لے کر اس سے بچا لے۔
➎ { اِنَّهٗ رَبِّيْۤ اَحْسَنَ مَثْوَايَ:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں اور مفسرین میں سے ہر ایک نے اپنے ذوق کے مطابق کسی ایک معنی کو ترجیح دی ہے۔ ایک تو یہ کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، بے شک وہ اللہ میرا مالک ہے، اس نے میرا ٹھکانا اچھا بنایا، اس کی نافرمانی کرکے میں ظالموں میں شامل نہیں ہو سکتا۔ دوسرا معنی ہے کہ میں اس کام سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، تم اس عزیز مصر کی بیوی ہو جو میرا مالک ہے، میں اس کا غلام ہوں، اس نے میرے لیے رہنے کا ایسا اچھا انتظام کیا ہے، میں اپنے مالک کی خیانت کیسے کر سکتا ہوں، یہ تو سراسر ظلم ہے۔ پہلے معنی میں عزیز کی بیوی کو اللہ سے ڈرایا اور اس کے احسان یاد دلائے ہیں، دوسرے معنی میں اسے خاوند کی شرم دلائی ہے، شاید اس طرح ہی وہ باز آ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں معنی درست ہیں، دونوں بیک وقت مراد بھی ہو سکتے ہیں، مگر دوسرا معنی زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کی تقدیر پر شاکر ہو کر اپنے آپ کو عزیز مصر کا غلام سمجھتے تھے اور ہر طرح اس کی خدمت اور اطاعت کرتے تھے۔ اس لیے وہ اپنے مالک اور مربی کے احسان کا بدلہ اس پر ظلم کے ساتھ دینے کے لیے تیار نہ تھے اور لفظ ”رب“ غلام کے مالک کے لیے یوسف علیہ السلام کی زبانی اسی سورت میں کئی جگہ آیا ہے، فرمایا: «{ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ }» [یوسف: ۵۰] اور فرمایا: «{ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَيَسْقِيْ رَبَّهٗ خَمْرًا }» [یوسف: ۴۱] اور فرمایا: «{ اذْكُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّكَ فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ }» [یوسف: ۴۲]
➐ { اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ:} یعنی زنا ظلم ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ زنا اپنے آپ پر ظلم ہے، اس عورت پر ظلم ہے، اس کے خاوند پر ظلم ہے، اپنے خاندان اور اس کے خاوند کے خاندان دونوں پر ظلم ہے کہ کسی خاندان کا بچہ دوسرے خاندان کا بچہ شمار ہو گا، نسب برباد ہو گا۔ زنا پوری انسانیت پر ظلم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَ سَآءَ سَبِيْلًا }» [بنی إسرائیل: ۳۲] ” اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بے شک وہ ہمیشہ سے بڑی بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے۔“ یعنی زنا بے حیائی ہونے کے ساتھ ایک برا راستہ ہے جو آج تمھیں دوسرے کی عزت برباد کرنے کے لیے لے گیا ہے تو کل کسی کو تمھارے گھر بھی لے آئے گا، مثلاً شریعت نے جب آپ کو چوری سے روکا ہے تو اس نے صرف آپ کو نہیں روکا بلکہ کروڑوں، اربوں کو آپ کی چوری کرنے سے روکا ہے۔ اگر آپ باز نہ آئے تو دوسرے کیوں باز آئیں گے؟ مسلمانوں کے نسب کے محفوظ رہنے اور ان کے معاشرے کی پاکیزگی پر کفار کو بے حد حسد ہے۔ وہ اس شرف سے محروم ہو جانے کے بعد اب ہم میں بھی بے حیائی پھیلا کر ہمیں اس شرف سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ یوسف علیہ السلام کا طرزِ عمل اس معاملے میں ہمارے لیے بہترین چراغ راہ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[23] سیدنا یوسفؑ نے اس کے پاس جانے کی بجائے اسے جواب دیا کہ میرے پروردگار نے تو مجھ پر اس قدر انعام و اکرام فرمائے ہیں اور میں اس کی معصیت میں ایسی بد کاری کا ارتکاب کروں، یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا اور صاف طور پر انکار کر دیا۔ بعض مفسرین نے اس مقام پر رب کے معنی آقا اور مالک لیا ہے جو لغوی اعتبار سے درست ہے اور قرآن کریم نے خود بھی رب کے لفظ کو آقا اور مالک کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ جب عزیز مصر مجھ پر اس قدر مہربان ہے تو میں اس کے گھر میں رہ کر اس کے گھر میں ہی ایسی خیانت کروں یہ نمک حرامی مجھ سے نہیں ہو سکتی اور ہم نے پہلے معنی کو اس لیے ترجیح دی ہے کہ ایک نبی یا بعد میں ہونے والا نبی ایک عام دنیا دار رئیس کو اپنا رب کہے یہ عقل و نقل سے بعید ہے اور قرآن میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں اور دوسرے اس لیے کہ جب پہلے معنی کے لحاظ سے اخذ شدہ مطلب زیادہ وقیع اور جامع ہے تو پھر دوسرے معنی لینے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وذلك أنَّ يوسف عليه الصلاة والسلام بقي مكرَّماً في بيت العزيز، وكان له من الجمال والكمال والبهاء ما أوجب ذلك أن {راوَدَتْه التي هو في بيتها عن نفسه}؛ أي: هو غلامها وتحت تدبيرها والمسكن واحدٌ يتيسَّر إيقاع الأمر المكروه من غير شعور أحدٍ ولا إحساس بشرٍ. {و} زادتِ المصيبةُ بأن {غَلَّقَتِ الأبوابَ}: وصار المحلُّ خالياً، وهما آمنان من دخول أحدٍ عليهما بسبب تغليق الأبواب. وقد دعتْه إلى نفسها، فقالتْ: {هَيْتَ لك}؛ أي: افعل الأمر المكروه وأقبلْ إليَّ! ومع هذا؛ فهو غريبٌ لا يحتشم مثله ما يحتشمه إذا كان في وطنه وبين معارفه، وهو أسيرٌ تحت يدها، وهي سيدتُه، وفيها من الجمال ما يدعو إلى ما هنالك، وهو شابٌّ عَزَبٌ، وقد توعدته إن لم يفعل ما تأمره به بالسجن أو العذاب الأليم، فصبر عن معصية الله مع وجود الداعي القويِّ فيه؛ لأنَّه قد همَّ فيها همًّا تَرَكَهُ لله، وقدَّم مراد الله على مراد النفس الأمَّارة بالسوء، ورأى من برهان ربِّه - وهو ما معه من العلم والإيمان الموجب لِتَرْكِ كلِّ ما حرَّم الله - ما أوجب له البعد والانكفاف عن هذه المعصية الكبيرة، و {قال معاذَ الله}؛ أي: أعوذ باللَّه أن أفعل هذا الفعلَ القبيح؛ لأنَّه مما يُسْخِطُ الله ويُبْعِدُ عنه، ولأنَّه خيانةٌ في حقِّ سيِّدي الذي أكرم مثواي؛ فلا يَليقُ بي أن أقابِلَه في أهله بأقبح مقابلة، وهذا من أعظم الظُّلم، والظالم لا يفلحُ.
والحاصل أنَّه جعل الموانع له من هذا الفعل: تَقْوى الله، ومراعاة حقِّ سيِّده الذي أكرمه، وصيانة نفسه عن الظُّلم الذي لا يفلح مَن تعاطاه، وكذلك ما منَّ الله عليه من برهان الإيمان الذي في قلبه يقتضي منه امتثالَ الأوامر واجتنابَ الزواجر، والجامعُ لذلك كلِّه أنَّ الله صرف عنه السوءَ والفحشاءَ؛ لأنَّه من عباده المخلصين له في عباداتهم، الذين أخلصهم الله واختارهم واختصَّهم لنفسه، وأسدى عليهم من النِّعم، وصرف عنهم من المكاره ما كانوا به من خيار خلقه.