ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 23

وَ رَاوَدَتۡہُ الَّتِیۡ ہُوَ فِیۡ بَیۡتِہَا عَنۡ نَّفۡسِہٖ وَ غَلَّقَتِ الۡاَبۡوَابَ وَ قَالَتۡ ہَیۡتَ لَکَ ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰہِ اِنَّہٗ رَبِّیۡۤ اَحۡسَنَ مَثۡوَایَ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۳﴾
اور اس عورت نے، جس کے گھر میں وہ تھا، اسے اس کے نفس سے پھسلایا اور دروازے اچھی طرح بند کرلیے اور کہنے لگی جلدی آ۔ اس نے کہا اللہ کی پناہ، بے شک وہ میرا مالک ہے، اس نے میرا ٹھکانا اچھا بنایا۔ بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ ظالم فلاح نہیں پاتے۔ En
تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یوسف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے (وہ یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بےشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے
En
اس عورت نے جس کے گھر میں یوسف تھے، یوسف کو بہلانا پھسلانا شروع کیا کہ وه اپنے نفس کی نگرانی چھوڑ دے اور دروازے بند کرکے کہنے لگی لو آجاؤ یوسف نے کہا اللہ کی پناه! وه میرا رب ہے، مجھے اس نے بہت اچھی طرح رکھا ہے۔ بے انصافی کرنے والوں کا بھلا نہیں ہوتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 23) ➊ {وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا: رَاوَدَ } باب مفاعلہ سے ہے، نرمی اور ملائمت سے بار بار مطالبہ کرنا، پھسلانا، فریب سے غلط کام پر آمادہ کرنا۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لیے نہیں بلکہ مبالغہ کے لیے ہے، یعنی بار بار اور ہر طریقے سے پھسلایا۔ کیونکہ ایک ہی گھر میں رہ کر خدمت کرنے والے غلام سے ہزار انداز سے اور بار بار اپنے شوق کا اظہار ہو سکتا ہے، مثلاً غلام کھانا لایا ہے تو حکم ہو، دور کیوں بیٹھے ہو؟ ادھر میرے ساتھ آ کر بیٹھو وغیرہ۔{بَيْتٌ بَاتَ يَبِيْتُ } (رات گزارنا) سے ہے، اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں آدمی رات رہتا ہو، پھر گھر کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اب بھی اس کا اصل استعمال اینٹ پتھر کے مکان یا اون، پشم اور کپڑے وغیرہ کے خیمے پر ہوتا ہے۔ صحن سمیت پورے گھر کو عموماً {دَارٌ } کہتے ہیں۔ یوسف علیہ السلام جب تک بچے تھے، عزیز کی بیوی کی نظر بچے پر شفقت و محبت والی تھی، اب جب جوانی آئی تو وہ نگاہ نہ رہی۔ یہی اصل بیٹے اور متبنّیٰ کا فرق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو بے مثال حسن سے نوازا تھا۔ حدیث معراج میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوسف علیہ السلام سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [وَ إِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ] [مسلم، الإیمان، باب الإسراء …:۱۶۲] انھیں حسن کا شطر عطا کیا گیا تھا۔ شطر کا معنی نصف بھی ہے اور ایک حصہ بھی۔ (قاموس) یعنی یوسف علیہ السلام کو حسن کا خاصا بڑا حصہ عطا ہوا تھا۔ عزیز کی بیوی کے غلط راستے پر چل نکلنے کا ایک باعث ترمذی (۲۱۶۵) میں موجود اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی نافرمانی بھی تھی کہ کوئی عورت کسی غیر محرم مرد کے ساتھ اکیلی نہ ہو، ورنہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا(جو دونوں کو ایک دوسرے کی نگاہ میں خوبصورت بنا کر دکھائے گا)۔ یہاں یوسف علیہ السلام تو ویسے ہی شیطان سے محفوظ تھے، اگرچہ غلام ہونے کی وجہ سے پردہ لازم نہ تھا، مگر ایک ہی گھر اور کمرے میں سال ہا سال کی خلوت عزیز مصر کی بیوی کو لے ڈوبی۔ افسوس! مسلمان اب بھی اس کی پروا نہیں کرتے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاوند کے بھائی کے ساتھ خلوت سے بھی منع کیا، فرمایا: [اَلْحَمْوُ الْمَوْتُ] [بخاری، النکاح، باب لا یخلون رجل…: ۵۲۳۲] خاوند کا بھائی تو موت ہے۔
➋ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کا نام نہیں لیا جس کے گھر میں یوسف علیہ السلام تھے۔ حق یہی ہے کہ ہم بھی نہ لیں، خصوصاً جب ہمیں اس کا نام کسی صحیح ذریعے سے معلوم ہی نہ ہو اور نام لینے میں کسی گناہ گار خصوصاً عورت کی پردہ دری ہو رہی ہو۔ اس لیے بار بار زلیخا کہنے والے قرآن سے سبق سیکھیں اور اپنے اس رویے کو ترک کریں۔
➌ { عَنْ نَّفْسِهٖ:} قرآن مجید کے بیان کی پاکیزگی ملاحظہ فرمایئے، پوری بات سمجھ میں آ رہی ہے اور کوئی ناشائستہ لفظ بھی استعمال نہیں ہوا۔
➍ { وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ …: غَلَّقَ } باب تفعيل ميں سے ہونے کی وجہ سے ترجمہ دروازے اچهی طرح بند كر ليے كيا ہے۔ {هَيْتَ لَكَ } اسم فعل ہے جس کا معنی ہے آ، جلدی کر۔ { لَكَ } خطاب کی صراحت کے لیے ہے، جیسے کہتے ہیں: {شُكْرًا لَكَ، سَقْيًا لَكَ } اہل علم فرماتے ہیں کہ اس وقت یوسف علیہ السلام کو گناہ پر آمادہ کرنے والی ہر چیز موجود تھی اور روکنے والی دنیا کی کوئی چیز نہ تھی۔ یوسف علیہ السلام کی صحت، جوانی، قوت، خلوت، فریق ثانی کا حسن، پیش کش، اس پر اصرار، غرض ہر چیز ہی بہکا دینے والی تھی، جب کہ انسان کو روکنے والی چیز اس کی اپنی جسمانی یا جنسی کمزوری ہو سکتی ہے، یا فریق ثانی کے حسن کی کمی، یا اس کی طرف سے انکار یا مزاحمت کا امکان یا راز فاش ہونے کا خطرہ یا اپنے خاندان، قوم اور لوگوں میں رسوائی کا خوف، ان میں سے کوئی چیز ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں تھی۔ اٹھتی جوانی تھی، بے مثال حسن تھا، دروازے بند تھے، دوسری طرف سے پیش کش بلکہ درخواست اور اس پر اصرار تھا، اپنے وطن سے دور تھے کہ قبیلے یا قوم میں رسوائی کا ڈر ہو۔ یہاں کتنے ہی لوگ باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں تو اپنوں سے دور ہونے کی وجہ سے بہک جاتے ہیں، پھر دروازے خوب بند تھے، راز فاش ہونے کی کوئی صورت ہی نہ تھی اور جب مالکہ خود کہہ رہی ہو تو سزا کا کیا خوف؟
➎ { قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ:} یوسف علیہ السلام کے سامنے جب بچنے کی کوئی راہ نہ رہی تو انھوں نے اس ذات پاک کی پناہ مانگی جس کی پناہ ملنے کے بعد کوئی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ { مَعَاذَ } مصدر میمی ہے، معنی ہے: { أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مَعَاذًا مِمَّا تُرِيْدِيْنَ} یعنی تم جو چاہتی ہو میں اس سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ مجھے اپنی پناہ میں لے کر اس سے بچا لے۔
➎ { اِنَّهٗ رَبِّيْۤ اَحْسَنَ مَثْوَايَ:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں اور مفسرین میں سے ہر ایک نے اپنے ذوق کے مطابق کسی ایک معنی کو ترجیح دی ہے۔ ایک تو یہ کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، بے شک وہ اللہ میرا مالک ہے، اس نے میرا ٹھکانا اچھا بنایا، اس کی نافرمانی کرکے میں ظالموں میں شامل نہیں ہو سکتا۔ دوسرا معنی ہے کہ میں اس کام سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، تم اس عزیز مصر کی بیوی ہو جو میرا مالک ہے، میں اس کا غلام ہوں، اس نے میرے لیے رہنے کا ایسا اچھا انتظام کیا ہے، میں اپنے مالک کی خیانت کیسے کر سکتا ہوں، یہ تو سراسر ظلم ہے۔ پہلے معنی میں عزیز کی بیوی کو اللہ سے ڈرایا اور اس کے احسان یاد دلائے ہیں، دوسرے معنی میں اسے خاوند کی شرم دلائی ہے، شاید اس طرح ہی وہ باز آ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں معنی درست ہیں، دونوں بیک وقت مراد بھی ہو سکتے ہیں، مگر دوسرا معنی زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کی تقدیر پر شاکر ہو کر اپنے آپ کو عزیز مصر کا غلام سمجھتے تھے اور ہر طرح اس کی خدمت اور اطاعت کرتے تھے۔ اس لیے وہ اپنے مالک اور مربی کے احسان کا بدلہ اس پر ظلم کے ساتھ دینے کے لیے تیار نہ تھے اور لفظ رب غلام کے مالک کے لیے یوسف علیہ السلام کی زبانی اسی سورت میں کئی جگہ آیا ہے، فرمایا: «{ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ [یوسف: ۵۰] اور فرمایا: «{ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَيَسْقِيْ رَبَّهٗ خَمْرًا [یوسف: ۴۱] اور فرمایا: «{ اذْكُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّكَ فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ [یوسف: ۴۲]
➐ { اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ:} یعنی زنا ظلم ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ زنا اپنے آپ پر ظلم ہے، اس عورت پر ظلم ہے، اس کے خاوند پر ظلم ہے، اپنے خاندان اور اس کے خاوند کے خاندان دونوں پر ظلم ہے کہ کسی خاندان کا بچہ دوسرے خاندان کا بچہ شمار ہو گا، نسب برباد ہو گا۔ زنا پوری انسانیت پر ظلم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَ سَآءَ سَبِيْلًا [بنی إسرائیل: ۳۲] اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بے شک وہ ہمیشہ سے بڑی بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے۔ یعنی زنا بے حیائی ہونے کے ساتھ ایک برا راستہ ہے جو آج تمھیں دوسرے کی عزت برباد کرنے کے لیے لے گیا ہے تو کل کسی کو تمھارے گھر بھی لے آئے گا، مثلاً شریعت نے جب آپ کو چوری سے روکا ہے تو اس نے صرف آپ کو نہیں روکا بلکہ کروڑوں، اربوں کو آپ کی چوری کرنے سے روکا ہے۔ اگر آپ باز نہ آئے تو دوسرے کیوں باز آئیں گے؟ مسلمانوں کے نسب کے محفوظ رہنے اور ان کے معاشرے کی پاکیزگی پر کفار کو بے حد حسد ہے۔ وہ اس شرف سے محروم ہو جانے کے بعد اب ہم میں بھی بے حیائی پھیلا کر ہمیں اس شرف سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ یوسف علیہ السلام کا طرزِ عمل اس معاملے میں ہمارے لیے بہترین چراغ راہ ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

23۔ 1 یہاں سے حضرت یوسف ؑ کا نیا امتحان شروع ہوا عزیز مصر کی بیوی، جس کو اس کے خاوند نے تاکید کی تھی کہ یوسف ؑ کو اکرام و احترام کے ساتھ رکھے، وہ حضرت یوسف ؑ کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوگئی اور انھیں دعوت گناہ دینے لگی، جسے حضرت یوسف ؑ نے ٹھکرا دیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ اور جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے یوسف کو اپنی طرف ورغلانا چاہا، اس نے دروازے بند کر لیے اور یوسف سے کہنے لگی [22] ”جلدی آجاؤ“ یوسف نے کہا: اللہ کی پناہ! میرے پروردگار [23] نے تو مجھے بہت اچھی منزلت بخشی (اور میں یہ کام کروں؟) ظالم لوگ یقیناً فلاح نہیں پاتے
[22] سیدنا یوسفؑ کے لئے دور ابتلاء:۔
عزیز مصر کے گھر میں قیام کے دوران جہاں سیدنا یوسفؑ کو مذکورہ بالا فوائد حاصل ہوئے وہاں یہی دور قیام آپ کے لیے ابتلاء و آزمائش کا دور بھی ثابت ہوا۔ آپ نہایت حسین و جمیل تھے۔ غیر شادی شدہ تھے اور نوخیز نوجوانی تھی۔ دوسری طرف عزیز مصر کی بیوی جوان تھی اور بے اولاد تھی اور اپنے جاذب لباس اور پوری رعنائیوں سے اپنا آپ پیش کر رہی تھی۔
زلیخا کا یوسفؑ کو بد کاری کے لئے ورغلانا:۔
تیسری طرف معاشرہ متمدن قسم کا تھا جیسے آج کا مغربی معاشرہ ہے جس میں اختلاط مرد و زن کو معیوب نہیں سمجھا جاتا، پردہ کو دقیانوسی سمجھا جاتا ہے اور اگر فریقین باہمی رضا مندی سے بد کاری کر لیں تو اسے بھی درخور اعتناء نہیں سمجھا جاتا ان حالات میں عزیز مصر کی بیوی زلیخا میں شہوانی جذبات انگڑائیاں لینے لگے جو بالآخر عشق کی حدود کو چھونے لگے۔ لیکن سیدنا یوسفؑ اس قسم کے جذبات سے بالکل پاک صاف تھے۔ جب زلیخا نے سیدنا یوسفؑ کی طرف سے اس قدر بے اعتنائی اور اس میں اپنی توہین کا پہلو دیکھا تو اپنے مالکانہ حقوق استعمال کرتے ہوئے راست اقدام پر اتر آئی۔ ایک دن جب کہ اس کا خاوند گھر پر موجود نہ تھا۔ اس نے گھر کے تمام دروازے بند کرتے ہوئے یوسفؑ کو واشگاف الفاظ میں اور تحکمانہ انداز میں اپنی طرف بلایا تاکہ اس کے شہوانی جذبات کی تسکین ہو سکے۔
[23] سیدنا یوسفؑ نے اس کے پاس جانے کی بجائے اسے جواب دیا کہ میرے پروردگار نے تو مجھ پر اس قدر انعام و اکرام فرمائے ہیں اور میں اس کی معصیت میں ایسی بد کاری کا ارتکاب کروں، یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا اور صاف طور پر انکار کر دیا۔ بعض مفسرین نے اس مقام پر رب کے معنی آقا اور مالک لیا ہے جو لغوی اعتبار سے درست ہے اور قرآن کریم نے خود بھی رب کے لفظ کو آقا اور مالک کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ جب عزیز مصر مجھ پر اس قدر مہربان ہے تو میں اس کے گھر میں رہ کر اس کے گھر میں ہی ایسی خیانت کروں یہ نمک حرامی مجھ سے نہیں ہو سکتی اور ہم نے پہلے معنی کو اس لیے ترجیح دی ہے کہ ایک نبی یا بعد میں ہونے والا نبی ایک عام دنیا دار رئیس کو اپنا رب کہے یہ عقل و نقل سے بعید ہے اور قرآن میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں اور دوسرے اس لیے کہ جب پہلے معنی کے لحاظ سے اخذ شدہ مطلب زیادہ وقیع اور جامع ہے تو پھر دوسرے معنی لینے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

زلیخا کی بدنیتی سے الزام تک ٭٭
عزیز مصر جس نے آپ علیہ السلام کو خریدا تھا اور بہت اچھی طرح اولاد کے مثل رکھا تھا اپنی گھر والی سے بھی تاکیداً کہا تھا کہ انہیں کسی طرح تکلیف نہ ہو عزت و اکرام سے انہیں رکھو۔ اس عورت کی نیت میں کھوٹ آ جاتی ہے۔ جمال یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہو جاتی ہے۔ دروازے بھیڑ کر بن سنور کر برے کام کی طرف یوسف علیہ السلام کو بلاتی ہے لیکن یوسف علیہ السلام بڑی سختی سے انکار کر کے اسے مایوس کر دیتے ہیں۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تیرا خاوند میرا سردار ہے۔ اس وقت اہل مصر کے محاورے میں بڑوں کے لیے یہی لفظ بولا جاتا تھا۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں تمہارے خاوند کی مجھ پر مہربانی ہے وہ میرے ساتھ سلوک و احسان سے پیش آتے ہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں ان کی خیانت کروں۔ یاد رکھو چیز کو غیر جگہ رکھنے والے بھلائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ «ھَیْتَ لَکَ» کو بعض لوگ سریانی زبان کا لفظ کہتے ہیں بعض قطبی زبان کا بعض اسے غریب لفظ بتلاتے ہیں۔ کسائی اسی قرأت کو پسند کرتے تھے اور کہتے تھے اہل حوران کا یہ لغت ہے جو حجاز میں آ گیا ہے۔
اہل حوران کے ایک عالم نے کہا ہے کہ یہ ہمارا لغت ہے۔ امام ابن جریر نے اس کی شہادت میں شعر بھی پیش کیا ہے۔ اس کے دوسری قرأت «ھئت» بھی ہے پہلی قرأت کے معنی تو آؤ کے تھے، اس کے معنی میں تیرے لیے تیار ہوں بعض لوگ اس قرأت کا انکار ہی کرتے ہیں۔ ایک قرأت ھئت بھی ہے۔ یہ قرأت غریب ہے۔ عام مدنی لوگوں کی یہی قرأت ہے۔ اس پر بھی شہادت میں شعر پیش کیا جاتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قاریوں کی قرأتیں قریب قریب ہیں پس جس طرح تم سکھائے گئے ہو پڑھتے رہو۔ گہرائی سے اور اختلاف سے اور لعن طعن سے اور اعتراض سے بچو اس لفظ کے یہی معنی ہیں کہ آ اور سامنے ہو وغیرہ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس لفظ کو پڑھا کسی نے کہا اسے دوسری طرح بھی پڑھتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا درست ہے مگر میں نے تو جس طرح سیکھا ہے اسی طرح پڑھوں گا۔ یعنی «ھَیتَ» نہ کہ «ھِیتُ» یہ لفظ تذکیر تانیث واحد تثنیہ جمع سب کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ جیسے «ھَیْتَ لَکَ ھَیْتَ لَکُمْ ھَیْتَ لَکُمَا ھَیْتَ لَکُنَّ ھَیْتَ لَھُنَّ» ۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور آزمائش کا یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام عزیز مصر کے گھر میں نہایت عزت و اکرام کے ساتھ رہ رہے تھے۔ وہ کامل حسن و جمال اور مردانہ وجاہت کے حامل تھے اور یہی چیز ان کی آزمائش کا موجب بنی۔ ﴿وَرَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ یعنی یوسف علیہ السلام جس عورت کے غلام اور اس کے زیردست تھے اس نے ان پر ڈورے ڈالنے شروع کر دیے۔ وہ ایک ہی گھر میں رہتے تھے جہاں کسی شعور اور احساس کے بغیر اس مکروہ فعل کے مواقع میسر تھے اور اس سے بھی بڑھ کر مصیبت یہ نازل ہوئی کہ ﴿وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ اس نے دروازے بند کر دیے اور مکان خالی ہو گیا اور دروازوں کو بند کر دینے کی بنا پر کسی کے وہاں آنے کا ڈر نہ رہا۔ اس عورت نے جناب یوسف علیہ السلام کو اپنے ساتھ بدکاری کی دعوت دی۔ ﴿وَقَالَتْ هَیْتَ لَكَ کہنے لگی، جلدی آؤ۔ یعنی میرے پاس آؤ اور میرے ساتھ یہ فعل بد سرانجام دو۔
اس کے باوجود کہ یوسف علیہ السلام ایک غریب الوطن شخص تھے اور ایسا شخص اس طرح اپنے غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کر سکتا جس طرح وہ اپنے وطن میں جان پہچان کے درمیان ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے اور وہ اس عورت کے غلام تھے اور وہ عورت ان کی آقا تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس عورت میں حسن و جمال تھا۔ یوسف علیہ السلام خود جوان اور غیر شادی شدہ تھے اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ عورت دھمکی دے رہی تھی کہ اگر یوسف علیہ السلام نے اس کی خواہش پوری نہ کی تو وہ انھیں قید خانے میں بھجوا دے گی یا انھیں دردناک عذاب میں مبتلا کر دے گی۔
مگر بایں ہمہ، جناب یوسف علیہ السلام اپنے اندر اس فعل کا قوی داعیہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رکے رہے کیونکہ جس فعل کا ارادہ انھوں نے کر لیا تھا اسے اللہ تعالیٰ کی خاطر ترک کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی مراد کو اپنے نفس کی مراد پر مقدم رکھا جو ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے۔ انھیں اپنے رب کی برہان نظر آئی، یعنی ان کے پاس جو علم و ایمان تھا وہ اس بات کا موجب تھا کہ وہ ہر اس چیز کو ترک کر دیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے یہ برہان حق ان کو اس بڑے گناہ سے دور رکھنے کی باعث تھی۔
﴿قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ انھوں نے کہا، اللہ کی پناہ یعنی میں اس انتہائی قبیح فعل کے ارتکاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جس پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے سے دور کر دیتا ہے، نیز یہ فعل اپنے آقا کے حق میں خیانت ہے جس نے مجھے عزت و تکریم سے نوازا۔ پس مجھے یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ میں اس کی بیوی کے ساتھ اس بدترین فعل کے ذریعے سے اس کے احسانات کا بدلہ دوں۔ یہ تو سب سے بڑا ظلم ہے اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام نے اس قبیح فعل سے جن امور کو موانع قرار دیا وہ تھے تقوائے الٰہی، اپنے آقا کے حق کی رعایت جس نے ان کو عزت و اکرام سے نوازا تھا اور اپنے آپ کو ظلم کرنے سے بچانا جس کا مرتکب کبھی فلاح نہیں پاتا۔
اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جناب یوسف علیہ السلام کو ایمان کی برہان حق سے نوازا جو ان کے قلب میں جاگزیں تھا جو ان سے اوامر الٰہی کی اطاعت اور نواہی سے اجتناب کا تقاضا کرتا تھا… اس پورے معاملے میں جامع بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام سے بدی اور بے حیائی کو دور کر دیا تھا کیونکہ وہ ان بندوں میں سے تھے جو اپنی عبادات میں اخلاص سے کام لیتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور اپنے لیے خاص کر لیا اور ان پر اپنی نعمتوں کی بارش کر دی اور تمام ناپسندیدہ امور کو ان سے دور کر دیا۔ بنابریں وہ اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق میں سے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وذلك أنَّ يوسف عليه الصلاة والسلام بقي مكرَّماً في بيت العزيز، وكان له من الجمال والكمال والبهاء ما أوجب ذلك أن {راوَدَتْه التي هو في بيتها عن نفسه}؛ أي: هو غلامها وتحت تدبيرها والمسكن واحدٌ يتيسَّر إيقاع الأمر المكروه من غير شعور أحدٍ ولا إحساس بشرٍ. {و} زادتِ المصيبةُ بأن {غَلَّقَتِ الأبوابَ}: وصار المحلُّ خالياً، وهما آمنان من دخول أحدٍ عليهما بسبب تغليق الأبواب. وقد دعتْه إلى نفسها، فقالتْ: {هَيْتَ لك}؛ أي: افعل الأمر المكروه وأقبلْ إليَّ! ومع هذا؛ فهو غريبٌ لا يحتشم مثله ما يحتشمه إذا كان في وطنه وبين معارفه، وهو أسيرٌ تحت يدها، وهي سيدتُه، وفيها من الجمال ما يدعو إلى ما هنالك، وهو شابٌّ عَزَبٌ، وقد توعدته إن لم يفعل ما تأمره به بالسجن أو العذاب الأليم، فصبر عن معصية الله مع وجود الداعي القويِّ فيه؛ لأنَّه قد همَّ فيها همًّا تَرَكَهُ لله، وقدَّم مراد الله على مراد النفس الأمَّارة بالسوء، ورأى من برهان ربِّه - وهو ما معه من العلم والإيمان الموجب لِتَرْكِ كلِّ ما حرَّم الله - ما أوجب له البعد والانكفاف عن هذه المعصية الكبيرة، و {قال معاذَ الله}؛ أي: أعوذ باللَّه أن أفعل هذا الفعلَ القبيح؛ لأنَّه مما يُسْخِطُ الله ويُبْعِدُ عنه، ولأنَّه خيانةٌ في حقِّ سيِّدي الذي أكرم مثواي؛ فلا يَليقُ بي أن أقابِلَه في أهله بأقبح مقابلة، وهذا من أعظم الظُّلم، والظالم لا يفلحُ.

والحاصل أنَّه جعل الموانع له من هذا الفعل: تَقْوى الله، ومراعاة حقِّ سيِّده الذي أكرمه، وصيانة نفسه عن الظُّلم الذي لا يفلح مَن تعاطاه، وكذلك ما منَّ الله عليه من برهان الإيمان الذي في قلبه يقتضي منه امتثالَ الأوامر واجتنابَ الزواجر، والجامعُ لذلك كلِّه أنَّ الله صرف عنه السوءَ والفحشاءَ؛ لأنَّه من عباده المخلصين له في عباداتهم، الذين أخلصهم الله واختارهم واختصَّهم لنفسه، وأسدى عليهم من النِّعم، وصرف عنهم من المكاره ما كانوا به من خيار خلقه.