تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ يَّنْفَعَنَاۤ:} عزیز مصر نے اپنی بیوی کو یوسف علیہ السلام کی رہائش باعزت رکھنے اور ہر ضرورت مہیا رکھنے کی تاکید کی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ہمارا اور اس کا تعلق مالک اور غلام والا ہونے کے بجائے گھر کے ایک معزز رکن کا ہونا چاہیے، بچہ نہایت ذہین اور اچھی عادات والا ہے، امید ہے ہمیں فائدہ دے گا۔ عزیز مصر مملکت کے کسی بھی شخص سے کام کروا سکتا تھا اور مطلوبہ فائدہ حاصل کر سکتا تھا مگر ماتحت نوکر جس طرح فائدہ پہنچاتے ہیں اور نہایت عزت و محبت سے پالے ہوئے اپنے گھر کے ایک فرد سے جس خیر خواہی اور فائدے کی امید ہوتی ہے، دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
➌ { اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا:} اس سے ظاہر ہے کہ ان کے ہاں اولاد نہیں تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ماں باپ، بہن بھائی یا بیٹا بیٹی منہ کے کہہ دینے سے نہیں بنتے۔ دیکھیے سورۂ احزاب (۴،۵) اور مجادلہ (۲) ورنہ عزیز کی بیوی کا سگا بیٹا ہوتا تو وہ اس سے وہ معاملہ کبھی نہ کرتی جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ اکثر گھروں میں اللہ کی اس نافرمانی کے ایسے ہی نتائج رونما ہوتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت تاکید کے ساتھ اس سے منع فرمایا ہے۔
➍ { وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ …: } اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ اس طرح یعنی عزیز مصر کے ہاتھ فروخت کروا کر اور مصر کے اتنے عظیم مقام والے گھر میں باعزت رہائش دے کر ہم نے یوسف علیہ السلام کو سرزمین مصر میں جگہ دی (تاکہ وہ باعزت زندگی بسر کرے) تاکہ ایک حکمران کے گھر میں رہ کر سرداروں کی مجلسیں دیکھے اور حکمرانی اور سیاست کے اسرار و رموز سیکھے، جو صحرا میں رہنے سے کبھی حاصل نہیں ہو سکتے تھے اور آخر میں ان کی وجہ سے بنی اسرائیل مصر میں آ کر آباد ہوں۔ دوسری یہ کہ جیسے ہم نے اس سے پہلے یوسف کو بھائیوں کے شر سے بچایا اور کنویں سے نکلوایا، اسی طرح ہم نے اسے سرزمین مصر میں جگہ بخشی۔
➎ {وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ:” غَلَبَ “ } کا لفظ وہاں بولا جاتا ہے جہاں کوئی مقابلے میں ہو۔ دیکھیے یوسف علیہ السلام کے بھائی کیا چاہتے تھے اور کنویں میں پھینکنے کے بعد اپنے خیال میں وہ کس قدر کامیاب ہو چکے تھے، مگر اللہ اپنے کام پر غالب ہے۔ وہ جو کرنا چاہے کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ کنویں سے نکال کر حکومت تک پہنچانا اور پھینکنے والوں کو سائل بنا کر اس کے سامنے لا کھڑا کرنا اس کے ادنیٰ اشارے کا کام ہے۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شاعر نے بدر کے موقع پر کیا خوب کہا تھا:
{جَاءَتْ سَخِيْنَةُ كَيْ تُغَالِبَ رَبَّهَا
وَلَيُغْلَبَنَّ مُغَالِبُ الْغَلَّابِ}
”قریش اس لیے آئے تھے کہ اپنے رب کے ساتھ غالب آنے کا مقابلہ کریں گے اور قسم ہے کہ اس زبردست غالب کا مقابلہ کرنے والا ہر صورت مغلوب ہو کر رہے گا۔“(قریش کو سخینہ اس لیے کہتے تھے کہ وہ حاجیوں کی ضیافت گرم کھانے سے کرتے تھے)۔
➏ { وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ:} اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ ہر قسم کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، اس لیے وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے کسی ظلم وستم کی کمی نہیں کرتے، مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہے، بخلاف تھوڑے لوگوں کے، جو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے غالب رہنے پر اور اس کی تقدیر پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ نہ خوشی میں پھولتے ہیں نہ مصیبت میں حد سے زیادہ غم میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ کسی صورت اللہ کے حکم سے سر پھیرتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ کوئی نئی بات نہیں ہم نیک کاروں کو اسی طرح بھلا بدلہ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اس سے مراد تینتیس برس کی عمر ہے۔ یا تیس سے کچھ اوپر کی یا بیس کی یا چالیس کی یا پچیس کی یا تیس کی یا اٹھارہ کی۔ یا مراد جوانی کو پہنچنا ہے اور اس کے سوا اور اقوال بھی ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: لما ذهب به السيارةُ إلى مصر وباعوه بها، فاشتراه عزيزُ مصر، فلما اشتراه؛ أعجبَ به ووصَّى عليه امرأتَه وقال: {أكرِمي مثواه عسى أن يَنفَعَنا أو نتَّخِذَه ولداَ}؛ أي: إما أن ينفعنا كنفع العبيد بأنواع الخدم، وإما أن نستمتع فيه استمتاعنا بأولادنا، ولعلَّ ذلك أنَّه لم يكن لهما ولدٌ. {وكذلك مكَّنَّا ليوسفَ في الأرض}؛ أي: كما يسَّرْنا أنْ يشترِيَه عزيز مصر ويكرِمَه هذا الإكرام؛ جَعَلْنا هذا مقدمة لتمكينه في الأرض من هذا الطريق. {ولِنُعَلِّمَهُ من تأويل الأحاديث}: إذا بقي لا شغل له ولا همَّ له سوى العلم؛ صار ذلك من أسباب تعلُّمه علماً كثيراً من علم الأحكام وعلم التعبير وغير ذلك. {والله غالبٌ على أمرِهِ}؛ أي: أمره تعالى نافذٌ لا يبطله مبطلٌ ولا يغلبه مغالبٌ. {ولكنَّ أكثر الناس لا يعلمون}: فلذلك يجري منهم، ويصدُرُ ما يصدُرُ في مغالبة أحكام الله القدريَّة، وهم أعجز وأضعف من ذلك.