ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 110

حَتّٰۤی اِذَا اسۡتَیۡـَٔسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ قَدۡ کُذِبُوۡا جَآءَہُمۡ نَصۡرُنَا ۙ فَنُجِّیَ مَنۡ نَّشَآءُ ؕ وَلَا یُرَدُّ بَاۡسُنَا عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۱۰﴾
یہاں تک کہ جب رسول بالکل ناامید ہوگئے اور انھوں نے گمان کیا کہ ان سے یقینا جھوٹ کہا گیا تھا تو ان کے پاس ہماری مدد آگئی، پھر جسے ہم چاہتے تھے وہ بچا لیا گیا اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے ہٹایا نہیں جاتا۔ En
یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی نصرت کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا۔ اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا
En
یہاں تک کہ جب رسول ناامید ہونے لگے اور وه (قوم کے لوگ) خیال کرنے لگے کہ انہیں جھوٹ کہا گیا۔ فوراً ہی ہماری مدد ان کے پاس آپہنچی جسے ہم نے چاہا اسے نجات دی گئی۔ بات یہ ہے کہ ہمارا عذاب گناهگاروں سے واپس نہیں کیا جاتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت110) ➊ {حَتّٰۤى اِذَا اسْتَيْـَٔسَ الرُّسُلُ …: اسْتَيْـَٔسَ يَئِسَ} میں مبالغہ ہے، یعنی بالکل مایوس ہو گئے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس { حَتّٰۤى } (یہاں تک) کا تعلق پیچھے کس سے ہے، جواب یہ ہے کہ اس کا تعلق گزشتہ آیت: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْۤ اِلَيْهِمْ سے ہے، یعنی ہم نے تجھ سے پہلے فرشتے یا جن نہیں بلکہ آدمی بھیجے، وہ مدتوں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان کی قومیں ان پر ایمان نہیں لائیں، یہاں تک کہ جب رسول ان کے ایمان لانے سے بالکل ناامید ہو گئے۔ { ظَنُّوْۤا ظَنَّ} کے معنی وسوسہ، گمان اور یقین تینوں آتے ہیں، یعنی انھوں نے گمان کیا کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا۔ {ظَنُّوْۤا } کے فاعل کے متعلق تین قول ہیں، ایک یہ کہ کفار ہیں، یعنی ان کی قوم کے کفار نے یقین کر لیا کہ رسولوں نے ہم سے جو کہا تھا کہ اگر تم ایمان نہ لائے تو تم پر عذاب آ جائے گا، یہ بات ہم سے جھوٹ ہی کہی گئی تھی، کوئی عذاب وغیرہ نہیں آئے گا۔ اس وقت ان رسولوں کے پاس ہماری مدد آگئی اور مجرموں سے ہمارا عذاب ہٹایا نہیں جاتا۔ یہ معنی ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنھم سے مروی ہے۔ دوسرا یہ کہ { ظَنُّوْۤا } کے فاعل اہلِ ایمان ہیں، یعنی رسول کفار کے ایمان لانے سے ناامید ہو گئے اور مومنوں کو بھی وسوسہ پیدا ہونے لگا کہ شاید کفار پر عذاب آنے کی بات ان سے جھوٹ ہی کہی گئی تھی۔ یہ معنی بھی درست ہے، کیونکہ وسوسہ پیدا ہونا ایمان کے منافی نہیں، شیطان کا کام ہی لوگوں کے سینے میں وسوسے ڈالنا ہے، مگر اس پر مؤاخذہ نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ تَجَاوَزَ لِيْ عَنْ أُمَّتِيْ مَا وَسْوَسَتْ بِهٖ صُدُوْرُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَكَلَّمْ] [بخاري، العتق، باب الخطأ والنسیان في العتاقۃ…: ۲۵۲۸۔ مسلم: ۱۲۷] اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت کی ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جن کا وسوسہ ان کے سینے ڈالیں، جب تک وہ ان پر عمل کریں یا انھیں منہ سے نہ نکالیں۔
تیسرا وہ جو شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے فرمایا: یعنی وعدۂ عذاب کو دیر لگی یہاں تک کہ رسول لگے ناامید ہونے کہ شاید ہماری زندگی میں نہ آیا پیچھے آوے اور ان کے اصحاب خیال کرنے لگے کہ شاید وعدہ خلاف تھا۔ اتنے خیال سے آدمی کافر نہیں ہوتا، مگر جانتا ہے کہ یہ خیال بد ہے۔ (موضح) اگر {ظَنَّ} سے مراد وسوسہ ہو تو { ظَنُّوْۤا } سے مراد رسول بھی بعید نہیں، {كَذَا قَالَ ابْنُ تَيْمِيَةَ} (روح المعانی) کیونکہ لمبی آزمائشوں اور مصیبتوں میں خیال آ ہی جاتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ [البقرۃ: ۲۱۴] یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، انھیں تنگی اور تکلیف پہنچی اور وہ سخت ہلائے گئے، یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، کہہ اٹھے اللہ کی مدد کب ہو گی؟ سن لو! بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔ اس آیت کی روشنی میں یہ معنی بھی قرین عقل ہے۔ مراد اس آیت سے رسولوں پر آنے والی آزمائشوں کی مدت کی لمبائی اور ان کے صبر کے پیمانے کے لبریز ہونے کے قریب تک پہنچ جانے پر اللہ کی مدد کا آنا ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ ہوا۔
➋ { جَآءَهُمْ نَصْرُنَا:} یعنی پیغمبروں کو ہماری مدد پہنچ گئی۔
➌ { وَ لَا يُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ:} لہٰذا اب اگر عذاب آنے میں دیر ہو رہی ہے تو دھوکا نہ کھاؤ کہ یہ محض ڈراوا ہی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

110۔ 1 یہ مایوسی اپنی قوم کے ایمان لانے سے ہوئی۔ 110۔ 2 قرأت کے اعتبار سے اس آیت کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن سب سے مناسب مفہوم یہ ہے کہ ظَنُّوا کا فاعل قوم کفار کو قرار دیا جائے یعنی کفار عذاب کی دھمکی پر پہلے تو ڈرے لیکن جب زیادہ تاخیر ہوئی تو خیال کیا کہ عذاب تو آتا نہیں ہے، (جیسا کہ پیغمبر کی طرف سے دعویٰ ہو رہا ہے) اور نہ آتا نظر ہی آتا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ نبیوں سے بھی یوں ہی جھوٹا وعدہ کیا گیا ہے۔ مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ آپ کی قوم پر عذاب میں جو تاخیر ہو رہی ہے، اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پچھلی قوموں پر بھی عذاب میں بڑی بڑی تاخیر روا رکھی گئی ہے اور اللہ کی مشیت و حکمت کے مطابق انھیں خوب خوب مہلت دی گئی حتیٰ کہ رسول اپنی قوم کے ایمان سے مایوس ہوگئے اور لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ شاید انھیں عذاب کا یوں ہی جھوٹ موٹ کہہ دیا گیا ہے۔ 110۔ 3 اس میں دراصل اللہ تعالیٰ کے اس قانون مہلت کا بیان ہے، جو وہ نافرمانوں کو دیتا ہے، حتیٰ کہ اس بارے میں وہ اپنے پیغمبروں کی خواہش کے برعکس بھی زیادہ سے زیادہ مہلت عطا کرتا ہے، جلدی نہیں کرتا، یہاں تک کہ بعض دفعہ پیغمبر کے ماننے والے بھی عذاب سے مایوس ہو کر یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ ان سی یوں ہی جھوٹ موٹ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ محض ایسے وسوسے کا پیدا ہوجانا ایمان کے منافی نہیں ہے۔ 110۔ 4 یہ نجات پانے والے اہل ایمان ہی ہوتے تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

110۔ (پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا رہا) حتیٰ کہ جب رسول مایوس ہو گئے اور لوگوں کو (بھی) یقین ہو گیا کہ ان سے جھوٹ [104] بولا گیا ہے تو پیغمبروں کے پاس ہماری مدد آ گئی۔ پھر ہم جسے چاہیں بچا لیتے ہیں۔ تاہم مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب نہیں ٹالا جا سکتا
[104] اللہ کی مدد میں تاخیر سے مومنوں پر اثر:۔
اس آخری جملہ کی تشریح کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: سیدنا عروہ بن زبیرؓ نے سیدہ عائشہؓ سے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں کو جن لوگوں نے مانا اور ان کی تصدیق کی۔ جب ایک مدت دراز تک ان پر آفت اور مصیبت آتی رہی اور اللہ کی مدد آنے میں دیر ہو گئی اور پیغمبر جھٹلانے والوں کے ایمان لانے سے نا امید ہو گئے اور یہ گمان کرنے لگے کہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں اب وہ بھی ہمیں جھوٹا سمجھنے لگیں گے۔ اس وقت اللہ کی مدد آن پہنچی۔ [بخاري، كتاب التفسير]
اس آیت سے اللہ کے قانون امہال (مہلت دینے کے قانون) پر روشنی پڑتی ہے۔ یعنی بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ رسولوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب جن لوگوں نے ایمان لانا تھا وہ لا چکے۔ پھر بھی ان پر عذاب الٰہی نہ آیا جس کا رسولوں کی زبان سے انھیں وعدہ دیا گیا تھا۔ اب جو لوگ ایمان لا کر منکرین حق کے ظلم و ستم برداشت کر رہے تھے اور ان سے جو وعدہ فتح و نصرت کیا جا رہا تھا۔ ایک تو وہ پورا نہیں ہو رہا تھا۔ دوسرے منکرین حق کو یہ یقین ہو گیا کہ نبیوں کے یہ عذاب کے وعدے سب ڈھکوسلے ہیں۔ لہٰذا ایمان لانے والے بھی یہ سمجھنے لگے کہ ان پیغمبروں نے ہمارے ساتھ کہیں جھوٹ ہی نہ بولا ہو۔ یا ایسے وعدے جھوٹے ہی نہ ثابت ہوں۔ ایسے مایوس کن حالات میں بعض دفعہ پیغمبروں کے پائے ثبات میں بھی لغزش آنے لگی ہو۔ جیسا کہ سورۃ بقرہ میں ہے۔ ﴿وَزُلْزِلُوْا حَتّيٰ يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتيٰ نَصْرُ اللّٰهِ [2: 214]
اس وقت اللہ کا عذاب آگیا اور جب عذاب کا وقت آجاتا ہے تو پھر وہ موخر نہیں ہو سکتا اور اس عذاب سے اللہ ایمان والوں کو بچانے کی کوئی راہ دکھلا ہی دیتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جب مخالفت عروج پر ہو ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس کی مدد اس کے رسولوں پر بروقت اترتی ہے۔ دنیا کے جھٹکے جب زوروں پر ہوتے ہیں، مخالفت جب تن جاتی ہے، اختلاف جب بڑھ جاتا ہے، دشمنی جب پوری ہو جاتی ہے، انبیاء اللہ کو جب چاروں طرف سے گھیر لیا جاتا ہے، معاً اللہ کی مدد آ پہنچتی ہے۔ «كُذِبُوا» اور «كُذِّبُوْا» دونوں قرأتیں ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قرأت ذال کی تشدید سے ہے، چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عائشہ سے پوچھا کہ یہ لفظ «كُذِبُوا» ہے یا «كُذِّبُوْا» ہے؟ عائشہ نے فرمایا «كُذِّبُوْا» ہے ذال کی تشدید کے ساتھ۔ انہوں نے کہا پھر تو یہ معنی ہوئے کہ رسولوں نے گمان کیا کہ وہ جھٹلائے گئے تو یہ گمان کی کون سی بات تھی یہ تو یقینی بات تھی کہ وہ جھٹلائے جاتے تھے۔ آپ نے فرمایا بیشک یہ یقینی بات تھی کہ وہ کفار کی طرف سے جھٹلائے جاتے تھے لیکن وہ وقت بھی آئے کہ ایماندار امتی بھی ایسے زلزلے میں ڈالے گئے اور اس طرح ان کی مدد میں تاخیر ہوئی کہ رسولوں کے دل میں آئی کہ غالباً اب تو ہماری جماعت بھی ہمیں جھٹلانے لگی ہو گی۔ اب مدد رب آئی۔ اور انہیں غلبہ ہوا۔ تم اتنا تو خیال کرو کہ [کُذِبوُا]‏‏‏‏ کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے؟ معاذاللہ کیا انبیاء علیہم السلام اللہ کی نسبت یہ بدگمانی کر سکتے ہیں کہ انہیں رب کی طرف سے جھٹلایا گیا؟ [صحیح بخاری:4695]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں [کُُذِبوُا]‏‏‏‏ ہے۔ آپ اس کی دلیل میں آیت «حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ» [2- البقرة: 214]‏‏‏‏ پڑھ دیتے تھے یعنی یہاں تک کہ انبیاء اور ایماندار کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے۔ یاد رکھو مدد رب بالکل قریب ہے۔ سیدہ عائشہ [رضی اللہ عنہا]‏‏‏‏ اس کا سختی سے انکار کرتی تھیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ جناب رسول اللہ نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے جتنے وعدے کئے، آپ کو کامل یقین تھا کہ وہ سب یقینی اور حتمی ہیں اور سب پورے ہو کر ہی رہیں گے آخر دم تک کبھی نعوذ باللہ آب کے دل میں یہ وہم ہی پیدا نہیں ہوا کہ کوئی وعدہ ربانی غلط ثابت ہو گا۔ یا ممکن ہے کہ غلظ ہو جائے یا پورا نہ ہو۔ ہاں انبیاء علیہم السلام پر برابر بلائیں اور آزمائشیں آتی رہیں، یہاں تک کہ ان کے دل میں یہ خطرہ پیدا ہونے لگا کہ کہیں میرے ماننے والے بھی مجھ سے بدگمان ہو کر مجھے جھٹلا نہ رہے ہوں۔
ایک شخص قاسم بن محمد کے پاس آ کر کہتا ہے کہ محمد بن کعب قرظی «كُذِبُوْا» پڑھتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ان سے کہہ دو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے وہ «كُذِّبُوْا» پڑھتی تھیں یعنی ان کے ماننے والوں نے انہیں جھٹلایا۔ پس ایک قرأت تو تشدید کے ساتھ ہے دوسری تخفیف کے ساتھ ہے، پھر اس کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تو وہ مری ہے جو اوپر گزر چکا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے یہ آیت اسی طرح پڑھ کر فرمایا یہی وہ ہے جو تو برا جانتا ہے۔ یہ روایت اس روایت کے خلاف ہے، جسے ان دونوں بزرگوں سے اوروں نے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا جب رسول ناامید ہو گئے کہ ان کی قوم ان کی مانے گی اور قوم نے یہ سمجھ لیا کہ نبیوں نے ان سے جھوٹ کہا، اسی وقت اللہ کی مدد آ پہنچی اور جسے اللہ نے چاہا نجات بخشی۔ اسی طرح کی تفسیر اوروں سے بھی مروی ہے۔ ایک نوجوان قریشی نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے کہا کہ ہمیں بتائیے، اس لفظ کو کیا پڑھیں، مجھ سے تو اس لفظ کی قرأت کی وجہ سے ممکن ہے کہ اس سورت کا پڑھنا ہی چھوٹ جائے۔ آپ نے فرمایا سنو اس کا مطلب یہ کہ انبیاء اس سے مایوس ہو گئے کہ ان کی قوم ان کی بات مانے گی اور قوم والے سمجھ بیٹھے کہ نبیوں نے غلط کہا ہے یہ سن کر ضحاک بن مزاحم بہت ہی خوش ہوئے اور فرمایا کہ اس جیسا جواب کسی ذی علم کا میں نے نہیں سنا اگر میں یہاں سے یمن پہنچ کر بھی ایسے جواب کو سنتا تو میں اسے بھی بہت آسان جانتا۔
مسلم بن یسار رحمہ اللہ نے بھی آپ کا یہ جواب سن کر اٹھ کر آپ سے معانقہ کیا اور کہا اللہ تعالیٰ آپ کی پریشانیوں کو بھی اسی طرح دور کر دے، جس طرح آپ نے ہماری پریشانی دور فرمائی۔ بہت سے اور مفسرین نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے بلکہ مجاہد رحمہ اللہ کی تو قرأت ذال کے زبر سے ہے یعنی «كُذِبُوا» ہاں بعض مفسرین «وَظَنُّوا» کا فاعل مومنوں کو بتاتے ہیں اور بعض کافرویں کو یعنی کافروں نے یا یہ کہ بعض مومنوں نے یہ گمان کیا کہ رسولوں سے جو وعدہ مدد کا تھا اس میں وہ جھوٹے ثابت ہوئے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو فرماتے ہیں رسول ناامید ہو گئے یعنی اپنی قوم کے ایمان سے اور نصرت ربانی میں دیر دیکھ کر ان کو قوم گمان کرنے لگی کہ وہ جھوٹا وعدہ دئے گئے تھے۔ پس یہ دونوں روایتیں تو ان دونوں بزرگ صحابیوں سے مروی ہیں۔ اور سیدہ عائشہ [رضی اللہ عنہا]‏‏‏‏ اس کا صاف انکار کرتی ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ بھی قول صدیقہ کی طرفداری کرتے اور دوسرے قول کی تردید کرتے ہیں اور اسے ناپسند کر کے رد کر دیتے ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔