وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡقُرٰی ؕ اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ وَ لَدَارُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾
اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجے مگر کچھ مرد، جن کی طرف ہم ان بستیوں والوں میں سے وحی کیا کرتے تھے، تو کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے اور یقینا آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو متقی بنے۔ تو کیا تم نہیں سمجھتے۔
En
اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ اور متّقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
En
آپ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں جتنے رسول بھیجے ہیں سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی نازل فرماتے گئے۔ کیا زمین میں چل پھر کر انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا کچھ انجام ہوا؟ یقیناً آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لئے بہت ہی بہتر ہے، کیا پھر بھی تم نہیں سمجھتے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت109) ➊ {وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ …:} اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسان ہونے کی وجہ سے نبی ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اترے۔ (دیکھیے فرقان: ۲۱) یہ رسول تو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ (دیکھیے فرقان: ۷) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے تمام رسول {”رِجَالٌ“} (مرد) ہی بھیجے۔ دوسرے مردوں سے ان کا فرق یہ تھا کہ ہم ان کی طرف وحی کرتے تھے جس سے دوسرے لوگ محروم تھے۔
➋ { اِلَّا رِجَالًا:} اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ کچھ عورتیں بھی پیغمبر ہوئی ہیں، مثلاً حوا، آسیہ، سارہ، ام موسیٰ اور مریم علیھن السلام۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ان عورتوں کو فرشتوں کے ذریعے سے وحی یا بشارت تو ضرور ملی ہے مگر اس سے ان کا معروف معنی میں نبی ہونا لازم نہیں آتا۔ نبی وہ ہے جس پر شرع کے احکام اتریں اور اس قسم کی وحی کسی عورت پر نہیں اتری، یہ شرف رجال (مردوں) ہی کو حاصل رہا ہے۔ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت فرما دی تھی کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، مگر اس آیت میں ان عورتوں کے جھوٹے دعوے کا پیشگی مزید رد ہے جنھوں نے آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا تھا، مثلاً سجاح نامی عورت۔ چنانچہ فرمایا کہ آپ سے پہلے ہم نے مردوں کو رسول بنا کر بھیجا، عورتوں کا اس میں کچھ دخل نہیں، کیونکہ رسول نے مردوں کو بھی دعوت دینا ہوتی ہے، الجھنا بھی پڑتا ہے، جنگ بھی ہوتی ہے اور یہ کام عورت کے بس کے نہیں ہیں۔
➌ { مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى:} اکثر اہل علم اس سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ نبی ہمیشہ شہروں اور بستیوں کے رہنے والوں میں سے آئے ہیں، بادیہ یا صحرا نشینوں سے نہیں آئے، کیونکہ بادیہ نشین قدرتی طور پر غیر سنجیدہ اور سخت طبع ہوتے ہیں۔ مگر ابن عاشور رحمہ اللہ نے فرمایا:”یہ حصر اضافی ہے حقیقی نہیں۔“ یعنی جو بات تم کہہ رہے ہو کہ آسمان سے فرشتہ اترنا چاہیے، یہ بات درست نہیں، تمام پیغمبر انسان ہی تھے اور زمین کی بستیوں ہی کے رہنے والے تھے، آسمان سے نہیں اترے تھے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ یعقوب علیہ السلام بدو میں رہتے تھے اور پیغمبر تھے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے فرمایا: «{ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ }» [یوسف: ۱۰۰] یاپھر یہ کہا جائے کہ یعقوب علیہ السلام بھی بستی ہی میں رہتے تھے، مگر ترقی یافتہ اور متمدن شہر مصر کے مقابلے میں اس بستی کنعان کی حیثیت بھی بدو اور صحرا کی تھی، جیسا کہ پیچھے گزرا۔
➍ { اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} کفار آخرت کو تو مانتے نہیں تھے، اس لیے انھیں سمجھانے کے لیے دنیا میں گزرنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ انھوں نے شام کو جاتے ہوئے پہاڑوں کو کھود کر بنائے ہوئے قوم ثمود کے مکانات اور قوم لوط کی بستیوں کی جگہ والاخرابہ اور پھر مصر کے اہرام نہیں دیکھیے کہ انھیں عبرت ہوتی۔
➎ { وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ …:} اگرچہ پچھلے کلام کا تقاضا تھا کہ کہا جاتا کہ ان کفار سے آخرت میں ہونے والا معاملہ اس سے بھی کہیں برا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ان کا ذکر ہی چھوڑ کر متقی لوگوں کا انجام ذکر فرمایا، جس سے ان کا انجام خود بخود ظاہر ہو رہا ہے، اسے بلاغت کی اصطلاح میں احتباک کہتے ہیں۔
➋ { اِلَّا رِجَالًا:} اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ کچھ عورتیں بھی پیغمبر ہوئی ہیں، مثلاً حوا، آسیہ، سارہ، ام موسیٰ اور مریم علیھن السلام۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ان عورتوں کو فرشتوں کے ذریعے سے وحی یا بشارت تو ضرور ملی ہے مگر اس سے ان کا معروف معنی میں نبی ہونا لازم نہیں آتا۔ نبی وہ ہے جس پر شرع کے احکام اتریں اور اس قسم کی وحی کسی عورت پر نہیں اتری، یہ شرف رجال (مردوں) ہی کو حاصل رہا ہے۔ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت فرما دی تھی کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، مگر اس آیت میں ان عورتوں کے جھوٹے دعوے کا پیشگی مزید رد ہے جنھوں نے آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا تھا، مثلاً سجاح نامی عورت۔ چنانچہ فرمایا کہ آپ سے پہلے ہم نے مردوں کو رسول بنا کر بھیجا، عورتوں کا اس میں کچھ دخل نہیں، کیونکہ رسول نے مردوں کو بھی دعوت دینا ہوتی ہے، الجھنا بھی پڑتا ہے، جنگ بھی ہوتی ہے اور یہ کام عورت کے بس کے نہیں ہیں۔
➌ { مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى:} اکثر اہل علم اس سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ نبی ہمیشہ شہروں اور بستیوں کے رہنے والوں میں سے آئے ہیں، بادیہ یا صحرا نشینوں سے نہیں آئے، کیونکہ بادیہ نشین قدرتی طور پر غیر سنجیدہ اور سخت طبع ہوتے ہیں۔ مگر ابن عاشور رحمہ اللہ نے فرمایا:”یہ حصر اضافی ہے حقیقی نہیں۔“ یعنی جو بات تم کہہ رہے ہو کہ آسمان سے فرشتہ اترنا چاہیے، یہ بات درست نہیں، تمام پیغمبر انسان ہی تھے اور زمین کی بستیوں ہی کے رہنے والے تھے، آسمان سے نہیں اترے تھے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ یعقوب علیہ السلام بدو میں رہتے تھے اور پیغمبر تھے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے فرمایا: «{ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ }» [یوسف: ۱۰۰] یاپھر یہ کہا جائے کہ یعقوب علیہ السلام بھی بستی ہی میں رہتے تھے، مگر ترقی یافتہ اور متمدن شہر مصر کے مقابلے میں اس بستی کنعان کی حیثیت بھی بدو اور صحرا کی تھی، جیسا کہ پیچھے گزرا۔
➍ { اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} کفار آخرت کو تو مانتے نہیں تھے، اس لیے انھیں سمجھانے کے لیے دنیا میں گزرنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ انھوں نے شام کو جاتے ہوئے پہاڑوں کو کھود کر بنائے ہوئے قوم ثمود کے مکانات اور قوم لوط کی بستیوں کی جگہ والاخرابہ اور پھر مصر کے اہرام نہیں دیکھیے کہ انھیں عبرت ہوتی۔
➎ { وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ …:} اگرچہ پچھلے کلام کا تقاضا تھا کہ کہا جاتا کہ ان کفار سے آخرت میں ہونے والا معاملہ اس سے بھی کہیں برا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ان کا ذکر ہی چھوڑ کر متقی لوگوں کا انجام ذکر فرمایا، جس سے ان کا انجام خود بخود ظاہر ہو رہا ہے، اسے بلاغت کی اصطلاح میں احتباک کہتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
19۔ 1 یہ آیت اس بات پر قطعی حکم ہے کہ تمام نبی مرد ہی ہوئے ہیں، عورتوں میں سے کسی کو نبوت کا مقام نہیں ملا، اسی طرح ان کا تعلق قریہ سے تھا، جو قصبہ دیہات اور شہر سب شامل ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اہل بادیہ (صحرا نشینوں) میں سے نہیں تھا کیونکہ اہل بادیہ نسبتاً طبعیت کے سخت اور اخلاق کے کھردرے ہوتے ہیں اور شہری ان کی نسبت نرم، دھیمے اور با اخلاق ہوتے ہیں اور یہ خوبیاں نبوت کے لئے ضروری ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
109۔ آپ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے وہ سب مرد ہی تھے اور انھیں بستیوں کے رہنے والے تھے جن کی طرف [103] ہم وحی کرتے رہے۔ کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کا کیا انجام ہوا؟ اور جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے لئے آخرت کا گھر ہی بہتر ہے۔ کیا یہ کچھ سمجھتے نہیں؟
[103] رسول کا اسی قوم سے اور بشر ہونا کیوں ضروری ہے؟
یہ در اصل ہر دور کے منکرین رسالت اور اسی طرح کفار مکہ کے ایک اعتراض کا جواب ہے کہ ہم اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی نبوت اور رسالت پر ایمان کیسے لائیں جسے ہماری طرح تمام بشری احتیاجات اور کمزوریاں لاحق ہیں۔ یہ اعتراض ذکر کیے بغیر اس آیت میں اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ یعنی تمام انبیاء نے اپنی قوم کے سامنے اپنا بچپن اور جوانی گزاری، تاکہ ان کی نبوت سے پہلے کی زندگی ان کی دعوت پر گواہی کی حیثیت سے پیش کی جا سکے اور ان کی قوم ان کی دعوت کو اچھی طرح سمجھ سکے اور اگر ہم باہر سے کوئی اجنبی آدمی نبی بنا کر بھیج دیتے تو کیا وہ ان کی دعوت کو سمجھ سکتے تھے، پھر اگر وہ سمجھ ہی نہ پاتے تو کیا ایمان لا سکتے تھے؟ پھر جب اس صورت کے علاوہ کوئی دوسری صورت ممکن ہی نہیں تو ان کے لیے ایسے اعتراض کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جن لوگوں نے ایسے ہی اعتراض کر کے انبیاء کی دعوت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا کم از کم ان کا انجام ہی دیکھ لیتے۔ پھر اس سے یہ نتیجہ بھی نکالا جا سکتا تھا کہ جب دنیا میں ان منکرینِ حق کا یہ حشر ہوا ہے تو آخرت میں تو اس سے بھی بد تر ہو گا نیز یہ کہ جن لوگوں نے دنیا میں اپنی اصلاح کر لی اور اللہ سے ڈرتے رہے وہ صرف دنیا میں ہی اچھے نہ رہے بلکہ آخرت میں ان کا انجام اس سے بھی بہتر ہو گا۔
کوئی عورت نبیہ نہیں ہوئی:۔
اس آیت میں ضمناً دو باتیں مزید معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ کوئی عورت کسی دور میں نبی نہیں بنائی گئی۔ دوسرے یہ کہ کوئی نبی کسی بدوی یا جنگلی علاقہ میں مبعوث نہیں کیا گیا۔ وہ بڑی بستیوں یا شہروں میں ہی پیدا ہوئے اور وہی ان کا مرکز تبلیغ رہا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
رسول اور نبی صرف مرد ہی ہوئے ہیں ٭٭
بیان فرماتا ہے کہ رسول اور نبی مرد ہی بنتے رہے نہ کہ عورتیں۔ جمہور اہل اسلام کا یہی قول ہے کہ نبوت عورتوں کو کبھی نہیں ملی۔ اس آیت کریمہ کا سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ لیکن بعض کا قول ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی بیوی سارہ، عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ مریم بھی نبیہ تھیں۔ ملائکہ نے سارہ کو ان کے لڑکے اسحاق اور پوتے یعقوب کی بشارت دی۔ «وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ» [28-القصص: 8] موسیٰ علیہ السلام کی ماں کی طرف انہیں دودھ پلانے کی وحی ہوئی۔ مریم کو عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت فرشتے نے دی۔ «وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ» [3-آل عمران: 42، 43] فرشتوں نے مریم علیہ السلام سے کہا کہ اللہ نے تجھے پسندیدہ پاک اور برگزیدہ کر لیا ہے تمام جہان کی عورتوں پر۔ اے مریم اپنے رب کی فرماں برداری کرتی رہو، اس کے لیے سجدے کر اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اتنا تو ہم مانتے ہیں، جتنا قرآن نے بیان فرمایا۔ لیکن اس سے ان کی نبوت ثابت نہیں ہوتی۔ صرف اتنا فرمان یا اتنی بشارت یا اتنے حکم کسی کی نبوت کے لیے دلیل نہیں۔
اہل سنت والجماعت کا اور سب کا مذہب یہ کہ عورتوں میں سے کوئی نبوت والی نہیں۔ ہاں ان میں صدیقات ہیں جیسے کہ سب سے اشرف و افضل عورت مریم کی نسبت قرآن نے فرمایا ہے «مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ» [5-المائدہ: 75] پس اگر وہ نبی ہوتیں تو اس مقام میں وہی مرتبہ بیان کیا جاتا۔ آیت میں ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً اَتَصْبِرُوْنَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا» [25- الفرقان: 20] یعنی تجھ سے بھلے جتنے رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی رکھتے تھے۔ اور آیت میں ہے «وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ فَأَنجَيْنَاهُمْ وَمَن نَّشَاءُ وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ» [21-الأنبياء: 8، 9] وہ ایسے نہ تھے کہ کھانا کھانے سے پاک ہوں، نہ ایسے تھے کہ کبھی مرنے والے ہی نہ ہوں، ہم نے ان سے اپنے وعدے پورے کئے، انہیں اور ان کے ساتھ جنہیں ہم نے چاہا، نجات دی اور مسرف لوگوں کو ہلاک کر دیا۔ اسی طرح اور آیت میں ہے «مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ» [46- الأحقاف: 9] یعنی میں کوئی پہلا رسول تو نہیں؟ الخ، یاد رہے کہ اہل قری سے مراد اہل شہر ہیں نہ کہ بادیہ نشین وہ تو بڑے کج طبع اور بداخلاق ہوتے ہیں۔ مشہور و معروف ہے کہ شہری نرم طبع اور خوض خلق ہوتے ہیں اسی طرح بستیوں سے دور والے، پرے کنارے رہنے والے بھی عموماً ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے ہوتے ہیں۔ قرآن فرماتا ہے «اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجْدَرُ اَلَّا يَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ» [9- التوبہ: 97] جنگلوں کے رہنے والے بدو کفر ونفاق میں بہت سخت ہیں۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ بھی یہی مطلب بیان فرماتے ہیں کیونکہ شہریوں میں علم وحلم زیادہ ہوتا ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ بادیہ نشین اعراب میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدلہ دیا لیکن اسے اس نے بہت کم سمجھا، آپ نے اور دیا اور دیا یہاں تک کہ اسے خوش کر دیا۔ پھر فرمایا میرا تو جی چاہتا ہے کہ سوائے قریش اور انصاری اور ثقفی اور دوسی لوگوں کے اوروں کا تحفہ قبول ہی نہ کروں۔ [سنن ترمذي:3945، قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ وہ مومن جو لوگوں سے ملے جلے اور ان کی ایذاؤں پر صبر کرے، [سنن ابن ماجه:4032، قال الشيخ الألباني:صحیح] وہ اس سے بہتر ہے جو نہ ان سے ملے جلے ہو نہ ان کی ایذاؤں پر صبر کرے۔ یہ جھٹلانے والے کیا ملک میں چلتے پھرتے نہیں؟ کہ اپنے سے پہلے کے جھٹلانے والوں کی حالتوں کو دیکھیں اور ان کے انجام پر غور کریں؟ جیسے فرمان ہے «اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِهَآ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ» [22- الحج: 46] یعنی کیا انہوں نے زمین کی سیر نہیں کی کہ ان کے دل سجھدار ہوتے، الخ۔ ان کے کان سن لیتے، ان کی آنکھیں دیکھ لیتیں کہ ان جیسے گنہگاروں کا کیا حشر ہوتا رہا ہے؟ وہ نجات سے محروم رہتے ہیں، عتاب الٰہی انہیں غارت کر دیتا ہے، عالم آخرت ان کے لیے بہت ہی بہتر ہے جو احتیاط سے زندگی گزار دیتے ہیں۔ یہاں بھی نجات پاتے ہیں اور وہاں بھی اور وہاں کی نجات یہاں کی نجات سے بہت ہی بہتر ہے۔ وعدہ الٰہی ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [40- غافر: 51] ہم اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دینا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور قیامت کے دن بھی ان کی امداد کریں گے، اس دن گواہ کھڑے ہوں گے، ظالموں کے عذر بےسود رہیں گے، ان پر لعنت برسے گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا۔ گھر کی اضافت آخرت کی طرف کی۔ جیسے صلوۃ اولیٰ اور مسجد جامع اور عام اول اور بارحۃ الاولیٰ اور یوم الخمیس میں ایسے ہی اضافت ہے، عربی شعروں میں بھی یہ اضافت بکثرت آئی ہے۔