تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ قَالَ يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ …:} یوسف علیہ السلام نے یاد دلایا کہ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جو کئی سال پہلے میں نے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے سچا کر دیا، محض پریشان خواب نہیں رہنے دیا۔ خواب اور اس ملاقات کے درمیان کی مدت کسی نے چالیس سال بتائی، کسی نے اسّی (۸۰) سال، ابن اسحاق نے اٹھارہ سال بتائی اور کہا کہ اہلِ کتاب کا خیال ہے کہ وہ چالیس سال یا اس کے لگ بھگ تھی۔ ”التحریر و التنویر“ میں ابن عاشور رحمہ اللہ نے بائیس سال لکھی ہے۔ اصل حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، مگر چالیس اور اسّی (۸۰) سال والی بات قرینِ قیاس معلوم نہیں ہوتی اور وحی الٰہی کے فیصلے کے بغیر تعیین کرنا اندھیرے میں تیر چلانا ہے۔
➌ {وَ قَدْ اَحْسَنَ بِيْۤ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ:} اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ خواب اور اس کی تعبیر کے درمیان کئی سال کا وقفہ ہو سکتا ہے، کنویں میں پھینکے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا سب سے پہلا احسان بذریعہ وحی حوصلہ دلانا تھا، پھر کنویں سے نکلوانا، پھر باعزت جگہ دینا، علم و حکمت عطا کرنا، غرض اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام پر بے شمار احسانات کیے تھے، مگر انھوں نے اللہ کے احسان کا تذکرہ قید خانے سے نکالنے سے شروع کیا، کیونکہ اس سے پہلے ساتھ آزمائشیں بھی تھیں اور ان کے تذکرے سے بھائیوں کی شرمندگی بھی ممکن تھی۔ یہ انبیاء ہی کا حوصلہ ہے کہ یوسف علیہ السلام نے بھائیوں کی کسی زیادتی کا ذکر نہیں کیا، بلکہ ان کے سارے برے سلوک کو شیطان کی کارستانی قرار دے کر انھیں شرمندگی سے بچانے کی کوشش کی۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو اللہ کے احسان تھے سو ذکر فرمائے اور جو تکلیف تھی دخل شیطان سے، اس کو منہ پر نہ لائے، مجمل سنا دیا۔“ (موضح)
➍ {وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ …:} بدو، بادیہ نشینی، حضر یعنی شہر میں رہنے کے بالمقابل ہے۔ {”بَدْوٌ“ ”بَدَا يَبْدُوْ“} کا مصدر ہے، یعنی ظاہر ہونا، کیونکہ بادیہ نشینوں کے گھر ہر ایک کو نظر آتے ہیں۔ مصر کے مقابلے میں کنعان کی حیثیت بدو کی تھی۔ یوسف علیہ السلام نے اپنے خاندان کے شہر میں آنے کو بھی اپنے آپ پر احسان کہا، کیونکہ شہر کے لوگ اکثر سلیقہ شعار، میل جول کی وجہ سے نرم طبیعت اور حصول علم کے مواقع کی وجہ سے علم سے آراستہ ہوتے ہیں، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا] [ترمذي، الفتن، باب من أتي أبواب السلطان افتتن: ۲۲۵۶۔ نسائي: ۴۳۱۴۔ أبوداوٗد: ۲۸۵۹۔ أحمد: 357/1، ح: ۳۳۶۱ و صححہ الألبانی عن ابن عباس رضی اللہ عنھما] ”جو بادیہ میں رہائش رکھے وہ سخت دل ہو جاتا ہے۔“ اور تمام انبیاء شہروں اور بستیوں ہی میں سے بھیجے گئے، جیسا کہ آگے آیت (۱۰۹) میں آ رہا ہے، بلکہ رسول ایسی بستی میں بھیجے گئے جو دوسری بستیوں کے مرکز تھے۔ (دیکھیے قصص: ۵۹) {” لَطِيْفٌ “} ایسی چیز جو حواس کی گرفت میں نہ آ سکے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت لطیف اس لحاظ سے ہے کہ وہ باریک سے باریک چیز کی خبر رکھنے والا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی تدبیر نہایت باریک ہوتی ہے جو نظر نہیں آتی اور اس لحاظ سے اس کا معنی لطف و کرم کرنے والا بھی ہے کہ وہ ایسے باریک طریقے سے مہربانی فرماتا ہے کہ نظر ہی نہیں آتا کہ یہ کیسے ہو گئی۔ (مفردات)
➎ { اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ:} یعنی یہ جو کچھ ہوا اسی کے کمال علم و حکمت کا کرشمہ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں سدی رحمہ اللہ کا قول بالکل ٹھیک ہے جب پہلے ہی ملاقات ہوئی تو آپ نے انہیں اپنے پاس کر لیا اور جب شہر کا دروازہ آیا تو فرمایا اب اطمینان کے ساتھ یہاں چلئے۔ لیکن اس میں بھی ایک بات رہ گئی ہے۔ «آوَىٰ» اصل میں منزل میں جگہ دینے کو کہتے ہیں جیسے «اوؤ الیہ احاہ» میں ہے۔ اور حدیث میں بھی ہے «من اوی محدثا» [صحیح بخاری:3179] پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کا مطلب یہ بیان نہ کریں کہ ان کے آ جانے کے بعد انہیں جگہ دینے کے بعد آپ نے ان سے فرمایا کہ تم امن کے ساتھ مصر میں داخل ہو یعنی یہاں قحط وغیرہ کی مصیبتوں سے محفوظ ہو کر با آرام رہو سہو، مشہور ہے کہ اور جو قحط سالی کے سال باقی تھے۔
اور حدیث میں ہے کہ سلمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام کے ابتدائی زمانے میں راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ کے سامنے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلمان مجھے سجدہ نہ کرو۔ سجدہ اس اللہ کو کرو جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبھی نہ مرے گا۔ [جمع الجوامع للسیوطی:877]
الغرض چونکہ اس شریعت میں جائز تھا اس لیے انہوں نے سجدہ کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا لیجئے ابا جی میرے خواب کا ظہور ہو گیا۔ میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا۔ اس کا انجام ظاہر ہو گیا۔ چنانچہ اور آیت میں قیامت کے دن کے لیے بھی یہی لفظ بولا گیا ہے «هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُ» [7-الأعراف: 53] پس یہ بھی اللہ کا مجھ پر ایک احسان عظیم ہے کہ اس نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا اور جو میں نے سوتے سوتے دیکھا تھا، الحمد للہ مجھے جاگنے میں بھی اس نے دکھا دیا۔ اور احسان اس کا یہ بھی ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نجات دی اور تم سب کو صحرا سے یہاں لا کر مجھ سے ملا دیا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ورفع أبويه على العرشِ}؛ أي: على سرير الملك ومجلس العزيز، {وخرُّوا له سجَّداً}؛ أي: أبوه وأمه وإخوته سجوداً على وجه التعظيم والتبجيل والإكرام. {وقال} لمَّا رأى هذه الحال ورأى سجودهم له: {يا أبتِ هذا تأويلُ رؤيايَ من قبلُ}: حين رأى أحد عشر كوكباً والشمس والقمر له ساجدين؛ فهذا وقوعُها الذي آلتْ إليه ووصلت. {قد جَعَلها ربِّي حقًّا}: فلم يَجْعَلْها أضغاثَ أحلام. {وقد أحسنَ بي}: إحساناً جسيماً، {إذْ أخْرَجَني من السجن وجاء بكم من البَدْو}: وهذا من لطفه وحسنِ خطابه عليه السلام؛ حيث ذَكَرَ حاله في السجن، ولم يَذْكُرْ حاله في الجبِّ؛ لتمام عفوِهِ عن إخوته، وأنَّه لا يذكر ذلك الذنب، وأنَّ إتيانكم من البادية من إحسان الله إليَّ، فلم يقل جاء بكم من الجوع والنصب، ولا قال: أحسنَ بكم، بل قال: أحسن بي، جعل الإحسان عائداً إليه؛ فتبارك من يختصُّ برحمتِهِ من يشاءُ من عبادِهِ ويَهَبُ لهم من لدنه رحمةً إنه هو الوهاب، {من بعدِ أن نَزَغَ الشيطان بيني وبينَ إخوتي}: فلم يقل: نَزَغَ الشيطانُ إخوتي، بل كأنَّ الذنب والجهل صدر من الطرفين؛ فالحمد لله الذي أخزى الشيطان ودَحَرَهُ وجَمَعَنا بعد تلك الفرقة الشاقة. {إنَّ ربِّي لطيفٌ لما يشاء}: يوصِلُ برَّه وإحسانه إلى العبد من حيث لا يشعر ويوصِلُه إلى المنازل الرفيعة من أمور يكرهها. {إنَّه هو العليمُ}: الذي يعلم ظواهر الأمور وبواطِنَها وسرائر العباد وضمائرهم. {الحكيم}: في وضعه الأشياء مواضعها وسَوْقِهِ الأمور إلى أوقاتها المقدَّرة لها.