وَ رَفَعَ اَبَوَیۡہِ عَلَی الۡعَرۡشِ وَ خَرُّوۡا لَہٗ سُجَّدًا ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ ہٰذَا تَاۡوِیۡلُ رُءۡیَایَ مِنۡ قَبۡلُ ۫ قَدۡ جَعَلَہَا رَبِّیۡ حَقًّا ؕ وَ قَدۡ اَحۡسَنَ بِیۡۤ اِذۡ اَخۡرَجَنِیۡ مِنَ السِّجۡنِ وَ جَآءَ بِکُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّیۡطٰنُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَ اِخۡوَتِیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَطِیۡفٌ لِّمَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۰۰﴾
اور اس نے اپنے ماں باپ کو تخت پر اونچا بٹھایا اور وہ اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گر پڑے اور اس نے کہا اے میرے باپ! یہ میرے پہلے کے خواب کی تعبیر ہے، بے شک میرے رب نے اسے سچا کر دیا اور بے شک اس نے مجھ پر احسان کیا جب مجھے قید خانے سے نکالا اور تمھیں صحرا سے لے آیا، اس کے بعد کہ شیطان نے میرے درمیان اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈال دیا۔ بے شک میرا رب جو چاہے اس کی باریک تدبیر کرنے والا ہے، بلاشبہ وہی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
En
اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
En
اور اپنے تخت پر اپنے ماں باپ کو اونچا بٹھایا اور سب اس کے سامنے سجدے میں گر گئے۔ تب کہا کہ اباجی! یہ میرے پہلے کے خواب کی تعبیر ہے میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا، اس نے میرے ساتھ بڑا احسان کیا جب کہ مجھے جیل خانے سے نکالا اور آپ لوگوں کو صحرا سے لے آیا اس اختلاف کے بعد جو شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ڈال دیا تھا۔ میرا رب جو چاہے اس کے لئے بہترین تدبیر کرنے واﻻ ہے۔ اور وه بہت علم وحکمت واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت100) ➊ {وَ رَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ …:} مصر پہنچ کر جب مجلس آراستہ ہوئی تو یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو اپنے تخت پر اونچا بٹھانے کا حکم دیا اور دوسرے تمام اہل مجلس کرسیوں یا قالینوں پر نیچے بیٹھے تھے۔ جب یوسف علیہ السلام مجلس میں آئے تو ساری مجلس نے جن میں ان کے والدین بھی شامل تھے، ان کی تعظیم کے لیے سجدہ کیا۔ بعض حضرات اس کا ترجمہ کرتے ہیں کہ سب لوگ جھک کر تعظیم بجا لائے، مگر {” خَرُّوْا “} کا لفظ اس مطلب کا ساتھ نہیں دیتا، کیونکہ{” وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا “} کا معنی ہے ”اور وہ اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گر پڑے۔“ حقیقت یہ ہے کہ پہلی امتوں میں تعظیم کے لیے سجدہ جائز تھا، جس میں مسجود کو اللہ کے کسی اختیار میں شریک نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ہاں عبادت کا سجدہ ہمیشہ غیر اللہ کے لیے حرام رہا ہے اور وہ ایسا سجدہ ہے کہ کسی کو غیبی علم اور قوت و اقتدار اور نفع نقصان کا مالک سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ یہ اللہ کے ساتھ شرک ہے، اس مقصد کے لیے قیام اور سینے پر ہاتھ باندھنا بھی شرک ہے۔ ایک سجدہ جبراً کروایا جاتا ہے، وہ نہ عبادت ہے نہ تعظیم، وہ مجبوری ہے۔ پہلی امتوں میں تعظیم کے لیے سجدہ جائز تھا، جیسا کہ فرشتوں کا آدم علیہ السلام کو سجدہ اور برادرانِ یوسف اور ان کے والدین کا یوسف علیہ السلام کو سجدہ تھا۔ یہ رواج عیسیٰ علیہ السلام کی امت تک جاری رہا۔ ہماری امت میں شرک کے ذرائع کے سدّباب کے لیے تعظیمی سجدہ بھی قیامت تک کے لیے حرام کر دیا گیا اور قیام بھی، ہاں آگے بڑھ کر استقبال کرنا مسنون ہے اور وہ اس عجمی رسم میں شامل نہیں جس میں کسی کے آنے پر سب لوگ اپنی اپنی جگہ کھڑے ہو جاتے ہیں، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ سجدۂ تعظیمی سے بھی صاف الفاظ میں منع فرمایا، چنانچہ عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب شام سے آئے تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا هٰذَا يَا مُعَاُذُ!؟ قَالَ أَتَيْتُ الشَّامَ فَوَافَقْتُهُمْ يَسْجُدُوْنَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ فَوَدِدْتُ فِيْ نَفْسِيْ أَنْ نَّفْعَلَ ذٰلِكَ بِكَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلاَ تَفْعَلُوْا، فَإِنِّيْ لَوْكُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَّسْجُدَ لِغَيْرِ اللّٰهِ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا] [ابن ماجہ، النکاح، باب حق الزوج علی المرأۃ: ۱۸۵۳۔ ابن حبان: ۴۱۷۱، و قال الألبانی حسن صحیح] ”معاذ! یہ کیا ہے؟“ کہا: ”میں شام گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں، تو میں نے اپنے دل میں چاہا کہ ہم آپ کے ساتھ ایسا ہی کریں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا مت کرو، کیونکہ اگر میں کسی کو حکم دینے والا ہوتا کہ وہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔“ سورۂ حٰم السجدہ (۳۷) میں بھی اللہ کے سوا سجدہ منع کر دیا گیا ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”پہلے وقت میں سجدۂ تعظیمی تھا، فرشتوں نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا ہے، اس وقت اللہ نے وہ رواج موقوف کیا، فرمایا: «{ وَ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ }» [الجن: ۱۸] اس وقت پہلے رواج پر چلنا ویسا ہے کہ کوئی اپنی بہن سے نکاح کرے کہ آدم علیہ السلام کے وقت ہوا ہے۔“ (موضح)
➋ {وَ قَالَ يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ …:} یوسف علیہ السلام نے یاد دلایا کہ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جو کئی سال پہلے میں نے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے سچا کر دیا، محض پریشان خواب نہیں رہنے دیا۔ خواب اور اس ملاقات کے درمیان کی مدت کسی نے چالیس سال بتائی، کسی نے اسّی (۸۰) سال، ابن اسحاق نے اٹھارہ سال بتائی اور کہا کہ اہلِ کتاب کا خیال ہے کہ وہ چالیس سال یا اس کے لگ بھگ تھی۔ ”التحریر و التنویر“ میں ابن عاشور رحمہ اللہ نے بائیس سال لکھی ہے۔ اصل حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، مگر چالیس اور اسّی (۸۰) سال والی بات قرینِ قیاس معلوم نہیں ہوتی اور وحی الٰہی کے فیصلے کے بغیر تعیین کرنا اندھیرے میں تیر چلانا ہے۔
➌ {وَ قَدْ اَحْسَنَ بِيْۤ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ:} اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ خواب اور اس کی تعبیر کے درمیان کئی سال کا وقفہ ہو سکتا ہے، کنویں میں پھینکے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا سب سے پہلا احسان بذریعہ وحی حوصلہ دلانا تھا، پھر کنویں سے نکلوانا، پھر باعزت جگہ دینا، علم و حکمت عطا کرنا، غرض اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام پر بے شمار احسانات کیے تھے، مگر انھوں نے اللہ کے احسان کا تذکرہ قید خانے سے نکالنے سے شروع کیا، کیونکہ اس سے پہلے ساتھ آزمائشیں بھی تھیں اور ان کے تذکرے سے بھائیوں کی شرمندگی بھی ممکن تھی۔ یہ انبیاء ہی کا حوصلہ ہے کہ یوسف علیہ السلام نے بھائیوں کی کسی زیادتی کا ذکر نہیں کیا، بلکہ ان کے سارے برے سلوک کو شیطان کی کارستانی قرار دے کر انھیں شرمندگی سے بچانے کی کوشش کی۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو اللہ کے احسان تھے سو ذکر فرمائے اور جو تکلیف تھی دخل شیطان سے، اس کو منہ پر نہ لائے، مجمل سنا دیا۔“ (موضح)
➍ {وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ …:} بدو، بادیہ نشینی، حضر یعنی شہر میں رہنے کے بالمقابل ہے۔ {”بَدْوٌ“ ”بَدَا يَبْدُوْ“} کا مصدر ہے، یعنی ظاہر ہونا، کیونکہ بادیہ نشینوں کے گھر ہر ایک کو نظر آتے ہیں۔ مصر کے مقابلے میں کنعان کی حیثیت بدو کی تھی۔ یوسف علیہ السلام نے اپنے خاندان کے شہر میں آنے کو بھی اپنے آپ پر احسان کہا، کیونکہ شہر کے لوگ اکثر سلیقہ شعار، میل جول کی وجہ سے نرم طبیعت اور حصول علم کے مواقع کی وجہ سے علم سے آراستہ ہوتے ہیں، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا] [ترمذي، الفتن، باب من أتي أبواب السلطان افتتن: ۲۲۵۶۔ نسائي: ۴۳۱۴۔ أبوداوٗد: ۲۸۵۹۔ أحمد: 357/1، ح: ۳۳۶۱ و صححہ الألبانی عن ابن عباس رضی اللہ عنھما] ”جو بادیہ میں رہائش رکھے وہ سخت دل ہو جاتا ہے۔“ اور تمام انبیاء شہروں اور بستیوں ہی میں سے بھیجے گئے، جیسا کہ آگے آیت (۱۰۹) میں آ رہا ہے، بلکہ رسول ایسی بستی میں بھیجے گئے جو دوسری بستیوں کے مرکز تھے۔ (دیکھیے قصص: ۵۹) {” لَطِيْفٌ “} ایسی چیز جو حواس کی گرفت میں نہ آ سکے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت لطیف اس لحاظ سے ہے کہ وہ باریک سے باریک چیز کی خبر رکھنے والا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی تدبیر نہایت باریک ہوتی ہے جو نظر نہیں آتی اور اس لحاظ سے اس کا معنی لطف و کرم کرنے والا بھی ہے کہ وہ ایسے باریک طریقے سے مہربانی فرماتا ہے کہ نظر ہی نہیں آتا کہ یہ کیسے ہو گئی۔ (مفردات)
➎ { اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ:} یعنی یہ جو کچھ ہوا اسی کے کمال علم و حکمت کا کرشمہ ہے۔
➋ {وَ قَالَ يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ …:} یوسف علیہ السلام نے یاد دلایا کہ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جو کئی سال پہلے میں نے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے سچا کر دیا، محض پریشان خواب نہیں رہنے دیا۔ خواب اور اس ملاقات کے درمیان کی مدت کسی نے چالیس سال بتائی، کسی نے اسّی (۸۰) سال، ابن اسحاق نے اٹھارہ سال بتائی اور کہا کہ اہلِ کتاب کا خیال ہے کہ وہ چالیس سال یا اس کے لگ بھگ تھی۔ ”التحریر و التنویر“ میں ابن عاشور رحمہ اللہ نے بائیس سال لکھی ہے۔ اصل حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، مگر چالیس اور اسّی (۸۰) سال والی بات قرینِ قیاس معلوم نہیں ہوتی اور وحی الٰہی کے فیصلے کے بغیر تعیین کرنا اندھیرے میں تیر چلانا ہے۔
➌ {وَ قَدْ اَحْسَنَ بِيْۤ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ:} اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ خواب اور اس کی تعبیر کے درمیان کئی سال کا وقفہ ہو سکتا ہے، کنویں میں پھینکے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا سب سے پہلا احسان بذریعہ وحی حوصلہ دلانا تھا، پھر کنویں سے نکلوانا، پھر باعزت جگہ دینا، علم و حکمت عطا کرنا، غرض اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام پر بے شمار احسانات کیے تھے، مگر انھوں نے اللہ کے احسان کا تذکرہ قید خانے سے نکالنے سے شروع کیا، کیونکہ اس سے پہلے ساتھ آزمائشیں بھی تھیں اور ان کے تذکرے سے بھائیوں کی شرمندگی بھی ممکن تھی۔ یہ انبیاء ہی کا حوصلہ ہے کہ یوسف علیہ السلام نے بھائیوں کی کسی زیادتی کا ذکر نہیں کیا، بلکہ ان کے سارے برے سلوک کو شیطان کی کارستانی قرار دے کر انھیں شرمندگی سے بچانے کی کوشش کی۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو اللہ کے احسان تھے سو ذکر فرمائے اور جو تکلیف تھی دخل شیطان سے، اس کو منہ پر نہ لائے، مجمل سنا دیا۔“ (موضح)
➍ {وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ …:} بدو، بادیہ نشینی، حضر یعنی شہر میں رہنے کے بالمقابل ہے۔ {”بَدْوٌ“ ”بَدَا يَبْدُوْ“} کا مصدر ہے، یعنی ظاہر ہونا، کیونکہ بادیہ نشینوں کے گھر ہر ایک کو نظر آتے ہیں۔ مصر کے مقابلے میں کنعان کی حیثیت بدو کی تھی۔ یوسف علیہ السلام نے اپنے خاندان کے شہر میں آنے کو بھی اپنے آپ پر احسان کہا، کیونکہ شہر کے لوگ اکثر سلیقہ شعار، میل جول کی وجہ سے نرم طبیعت اور حصول علم کے مواقع کی وجہ سے علم سے آراستہ ہوتے ہیں، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا] [ترمذي، الفتن، باب من أتي أبواب السلطان افتتن: ۲۲۵۶۔ نسائي: ۴۳۱۴۔ أبوداوٗد: ۲۸۵۹۔ أحمد: 357/1، ح: ۳۳۶۱ و صححہ الألبانی عن ابن عباس رضی اللہ عنھما] ”جو بادیہ میں رہائش رکھے وہ سخت دل ہو جاتا ہے۔“ اور تمام انبیاء شہروں اور بستیوں ہی میں سے بھیجے گئے، جیسا کہ آگے آیت (۱۰۹) میں آ رہا ہے، بلکہ رسول ایسی بستی میں بھیجے گئے جو دوسری بستیوں کے مرکز تھے۔ (دیکھیے قصص: ۵۹) {” لَطِيْفٌ “} ایسی چیز جو حواس کی گرفت میں نہ آ سکے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت لطیف اس لحاظ سے ہے کہ وہ باریک سے باریک چیز کی خبر رکھنے والا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی تدبیر نہایت باریک ہوتی ہے جو نظر نہیں آتی اور اس لحاظ سے اس کا معنی لطف و کرم کرنے والا بھی ہے کہ وہ ایسے باریک طریقے سے مہربانی فرماتا ہے کہ نظر ہی نہیں آتا کہ یہ کیسے ہو گئی۔ (مفردات)
➎ { اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ:} یعنی یہ جو کچھ ہوا اسی کے کمال علم و حکمت کا کرشمہ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ سوتیلی ماں اور سگی خالہ تھیں کیونکہ یوسف ؑ کی حقیقی ماں بنیامین کی ولادت کے بعد فوت ہوگئی تھیں۔ حضرت یعقوب ؑ نے اس کی وفات کے بعد اس کی ہمشیرہ سے نکاح کرلیا تھا یہی خالہ اب حضرت یعقوب ؑ کے ساتھ مصر میں گئی تھیں (فتح القدیر) لیکن امام ابن طبری نے اس کے برعکس یہ کہا ہے کہ یوسف ؑ کی والدہ فوت نہیں ہوئی تھیں اور وہی حقیقی والدہ تھیں۔ (ابن کثیر) 10۔ 2 بعض نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ ادب و تعظیم کے طور پر یوسف ؑ کے سامنے جھک گئے۔ لیکن (وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا) 12۔ یوسف:10) کے الفاظ بتلاتے ہیں کہ وہ زمین پر یوسف ؑ کے سامنے سجدہ ریز ہوئے، یعنی یہ سجدہ، سجدہ ہی کے معنی میں ہے۔ تاہم یہ سجدہ، سجدہ تعظیمی ہے سجدہ عبادت نہیں اور سجدہ تعظیمی حضرت یعقوب ؑ کی شریعت میں جائز تھا۔ اسلام شرک کے سد باب کے لئے سجدہ تعظیمی کو بھی حرام کردیا گیا ہے، اور اب سجدہ تعظیمی بھی کسی کے لئے جائز نہیں۔ 10۔ 3 یعنی حضرت یوسف ؑ نے جو خواب میں دیکھا تھا اتنی آزمائشوں سے گزرنے کے بعد بالآخر اس کی تعبیر سامنے آئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کو تخت شاہی پر بٹھایا اور والدین سمیت تمام بھائیوں نے اسے سجدہ کیا۔ 10۔ 4 اللہ کے احسنات میں کنویں سے نکلنے کا ذکر نہیں کیا تاکہ بھائی شرمندہ نہ ہوں۔ یہ اخلاق نبوی ہے۔ 10۔ 5 مصر جیسے متمدن علاقے کے مقابلے میں کنعان کی حیثیت ایک صحرا کی تھی، اس لئے اسے بَدُوْ سے تعبیر کیا۔ 10۔ 6 یہ بھی اخلاق کریمانہ کا ایک نمونہ کہ بھائیوں کو ذرا مورد الزام نہیں ٹھہرایا اور شیطان کو اس کارستانی کا باعث قرار دیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
100۔ اور یوسف نے اپنے والدین کو اٹھا کر (اپنے ساتھ) تخت پر بٹھایا اور اس کے بھائی یوسف کے آگے سجدہ [94] میں گر گئے۔ یوسف نے کہا: ابا جان! یہ ہے میرے اس خواب کی تعبیر جو میں نے بہت پہلے دیکھی تھی۔ اللہ نے اس کو حقیقت بنا دیا اس نے اس وقت بھی مجھ پر احسان کیا جب مجھے قید خانہ سے نکالا اور اس وقت بھی جبکہ آپ سب کو دیہات سے میرے یہاں لایا حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان [95] فتنہ کھڑا کر چکا تھا۔ بلا شبہ میرا پروردگار غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیئت پوری کرتا ہے کیونکہ وہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے
[94] سیدنا یوسفؑ کے خواب کے واقع ہونے کا وقت:۔
دوسرے دن جب سیدنا یوسفؑ شاہی دربار میں پہنچے تو آپؑ نے اپنے والدین کو تخت شاہی پر اپنے ساتھ بٹھا لیا اور یہ والدہ سیدنا یوسفؑ کی کوئی سوتیلی والدہ ہی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ان دونوں چھوٹے بھائیوں کی حقیقی والدہ راحیل، بن یمین کی پیدائش کے وقت ہی فوت ہو گئی تھی۔ جب والدین اور برادران یوسف نے سیدنا یوسف کی یہ شان و شوکت دیکھی تو والدین نیچے اترے اور وہ دونوں اور گیارہ بھائی سب کے سب سیدنا یوسفؑ کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔ اس سجدہ کے تعظیمی سجدہ ہونے میں تو کسی کو اختلاف نہیں، اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا اس سجدہ کی صورت وہی تھی جس پر شرعاً لفظ سجدہ کا اطلاق ہوتا ہے۔ جیسے ہم نماز میں سجدہ کرتے ہیں یا سجدہ کے معنی صرف جھک جانا ہے۔ جیسے دوسرے کو سلام کرتے وقت بھی بعض دفعہ انسان جھک جاتا ہے۔ کیونکہ لغوی لحاظ سے لفظ سجد میں اس معنی کی بھی گنجائش ہے۔ اگر دوسرے معنی لیے جائیں تو پھر تو کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ محض تھوڑا سا جھک جانے پر بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے البتہ جن مفسرین نے پہلے معنی مراد لئے ہیں وہ صراحت کر دیتے ہیں کہ سجدہ تعظیمی ہماری شریعت میں فی الواقع حرام ہے۔ لیکن پہلی شریعتوں میں اس کی اجازت تھی۔ سجدا سے پہلے خروا کا لفظ ہمارے خیال میں دوسرے معنی کی ہی تائید کرتا ہے۔
[95] سیدنا یوسفؑ کا اللہ کے احسانات کا شکر ادا کرنا:۔
یہ صورت حال دیکھ کر سیدنا یوسفؑ کو اپنے پر اللہ کے احسانات یاد آنا شروع ہو گئے۔ اور اپنے والد محترم سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ جو خواب میں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ یہ اس کی حقیقی تعبیر سب کے سامنے آ گئی ہے۔ (اس خواب اور اس کی حقیقت کا برادران یوسف کو اسی مجلس میں علم ہوا۔ اس سے پہلے یہ خواب نہ سیدنا یوسفؑ نے کسی کو بتایا تھا اور نہ سیدنا یعقوبؑ نے) یہ بھی اللہ کا مجھ پر بڑا فضل و احسان ہے اور اس وقت بھی اللہ نے بڑا احسان کیا تھا۔ جب مجھے قید سے نکالا تھا اور مجھے باعزت طور پر عورتوں کے مکر و فریب سے بری کیا تھا۔ پھر اب یہ احسان کیا ہے کہ آپ سب لوگوں کو دیہات سے نکال کر یہاں میرے پاس لے آیا ہے۔ یہاں ہر طرح کی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے با فراغت میسر کی ہیں اور ہم سب کو یہاں اکٹھا کر دیا ہے کہ پیارو محبت سے گزر بسر کریں۔ ورنہ شیطان نے تو ہم بھائیوں کے درمیان فتنہ کھڑا کر ہی دیا تھا۔ (اس وقت بھی سیدنا یوسفؑ نے بھائیوں سے نہ کوئی شکایت کی اور نہ ان پر کوئی الزام رکھا تاکہ وہ مزید شرمسار نہ ہوں) پھر اسی فتنہ سے بمصداق: عدو شرے بر انگیزد کہ خیر مادراں باشد۔ اللہ تعالیٰ نے غیر محسوس انداز میں میرے لئے ہر طرح کی بھلائی کی راہیں پیدا کر دیں۔ کسی کو کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ مجھے کنویں میں ڈالنے پھر قید خانہ میں ڈالنے میں اللہ کی کیا کیا حکمتیں پنہاں تھیں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
بھائیوں پر یوسف علیہ السلام نے اپنے آپ کو ظاہر کر کے فرمایا تھا کہ ابا جی کو اور گھر کے سب لوگوں کو یہیں لے آؤ۔ بھائیوں نے یہی کیا، اس بزرگ قافلے نے کنعان سے کوچ کیا جب مصر کے قریب پہنچے تو نبی اللہ یوسف علیہ السلام بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لیے چلے اور حکم شاہی سے شہر کے تمام امیر امرا اور ارکان دولت بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لیے شہر سے باہر آیا تھا۔ اس کے بعد جو جگہ دینے وغیرہ کا ذکر ہے اس کی بابت بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کی عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی آپ نے ان سے فرمایا تم مصر میں چلو، ان شاءاللہ پر امن اور بے خطر رہو گے اب شہر میں داخلے کے بعد آپ نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی اور انہیں اونچے تخت پر بٹھایا۔
لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں سدی رحمہ اللہ کا قول بالکل ٹھیک ہے جب پہلے ہی ملاقات ہوئی تو آپ نے انہیں اپنے پاس کر لیا اور جب شہر کا دروازہ آیا تو فرمایا اب اطمینان کے ساتھ یہاں چلئے۔ لیکن اس میں بھی ایک بات رہ گئی ہے۔ «آوَىٰ» اصل میں منزل میں جگہ دینے کو کہتے ہیں جیسے «اوؤ الیہ احاہ» میں ہے۔ اور حدیث میں بھی ہے «من اوی محدثا» [صحیح بخاری:3179] پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کا مطلب یہ بیان نہ کریں کہ ان کے آ جانے کے بعد انہیں جگہ دینے کے بعد آپ نے ان سے فرمایا کہ تم امن کے ساتھ مصر میں داخل ہو یعنی یہاں قحط وغیرہ کی مصیبتوں سے محفوظ ہو کر با آرام رہو سہو، مشہور ہے کہ اور جو قحط سالی کے سال باقی تھے۔
لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں سدی رحمہ اللہ کا قول بالکل ٹھیک ہے جب پہلے ہی ملاقات ہوئی تو آپ نے انہیں اپنے پاس کر لیا اور جب شہر کا دروازہ آیا تو فرمایا اب اطمینان کے ساتھ یہاں چلئے۔ لیکن اس میں بھی ایک بات رہ گئی ہے۔ «آوَىٰ» اصل میں منزل میں جگہ دینے کو کہتے ہیں جیسے «اوؤ الیہ احاہ» میں ہے۔ اور حدیث میں بھی ہے «من اوی محدثا» [صحیح بخاری:3179] پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کا مطلب یہ بیان نہ کریں کہ ان کے آ جانے کے بعد انہیں جگہ دینے کے بعد آپ نے ان سے فرمایا کہ تم امن کے ساتھ مصر میں داخل ہو یعنی یہاں قحط وغیرہ کی مصیبتوں سے محفوظ ہو کر با آرام رہو سہو، مشہور ہے کہ اور جو قحط سالی کے سال باقی تھے۔
، وہ یعقوب علیہ السلام کی تشریف آوری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دور کر دئے۔ جیسے کہ اہل مکہ کی قحط سالی سے تنگ آ کر ابوسفیان نے آپ سے شکایت کی اور بہت روئے پیٹے اور سفارش چاہی۔[صحیح بخاری:2798] عبدالرحمٰن کہتے ہیں یوسف علیہ السلام کی والدہ کا تو پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا۔ اس وقت آپ کے والد صاحب کے ہمراہ آپ کی خالہ صاحبہ آئی تھیں۔ لیکن امام ابن جریر اور امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ کی والدہ خود ہی زندہ موجود تھیں، ان کی موت پر کوئی صحیح دلیل نہیں اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ اس بات کو چاہتے ہیں کہ آپ کی والدہ ماجدہ زندہ موجود تھیں، یہی بات ٹھیک بھی ہے۔ آپ علیہ السلام نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ تخت شاہی پر بٹھا لیا۔ اس وقت ماں باپ بھی اور گیارہ بھائی کل کے کل آپ کے سامنے سجدے میں گر پڑے۔ آپ نے فرمایا «اذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ» [12-یوسف: 4] ابا جی لیجئے میرے خواب کی تعبیر ظاہر ہو گئی یہ ہیں گیارہ ستارے اور یہ ہیں سورج چاند جو میرے سامنے سجدے میں ہیں۔ ان کی شرع میں یہ جائز تھی کہ بڑوں کو سلام کے ساتھ سجدہ کرتے تھے بلکہ آدم علیہ السلام سے عیسیٰ علیہ السلام تک یہ بات جائز ہی رہی لیکن اس ملت محمدیہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے کسی اور کے لیے سوائے اپنی ذات پاک کے سجدے کو مطلقاً حرام کر دیا۔ اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اسے اپنے لیے ہی مخصوص کر لیا۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کے قول کا ماحصل مضمون یہی ہے
حدیث شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہما ملک شام گئے، وہاں انہوں نے دیکھا کہ شامی لوگ اپنے بڑوں کو سجدے کرتے ہیں یہ جب لوٹے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، معاذ یہ کیا بات ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے اہل شام کو دیکھا کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی کے لیے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کے سامنے سجدہ کرے۔ بہ سبب اس کے بہت بڑے حق کے جو اس پر ہے۔ [سنن ابن ماجه:1853، قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ سلمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام کے ابتدائی زمانے میں راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ کے سامنے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلمان مجھے سجدہ نہ کرو۔ سجدہ اس اللہ کو کرو جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبھی نہ مرے گا۔ [جمع الجوامع للسیوطی:877]
الغرض چونکہ اس شریعت میں جائز تھا اس لیے انہوں نے سجدہ کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا لیجئے ابا جی میرے خواب کا ظہور ہو گیا۔ میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا۔ اس کا انجام ظاہر ہو گیا۔ چنانچہ اور آیت میں قیامت کے دن کے لیے بھی یہی لفظ بولا گیا ہے «هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُ» [7-الأعراف: 53] پس یہ بھی اللہ کا مجھ پر ایک احسان عظیم ہے کہ اس نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا اور جو میں نے سوتے سوتے دیکھا تھا، الحمد للہ مجھے جاگنے میں بھی اس نے دکھا دیا۔ اور احسان اس کا یہ بھی ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نجات دی اور تم سب کو صحرا سے یہاں لا کر مجھ سے ملا دیا۔
اور حدیث میں ہے کہ سلمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام کے ابتدائی زمانے میں راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ کے سامنے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلمان مجھے سجدہ نہ کرو۔ سجدہ اس اللہ کو کرو جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبھی نہ مرے گا۔ [جمع الجوامع للسیوطی:877]
الغرض چونکہ اس شریعت میں جائز تھا اس لیے انہوں نے سجدہ کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا لیجئے ابا جی میرے خواب کا ظہور ہو گیا۔ میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا۔ اس کا انجام ظاہر ہو گیا۔ چنانچہ اور آیت میں قیامت کے دن کے لیے بھی یہی لفظ بولا گیا ہے «هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُ» [7-الأعراف: 53] پس یہ بھی اللہ کا مجھ پر ایک احسان عظیم ہے کہ اس نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا اور جو میں نے سوتے سوتے دیکھا تھا، الحمد للہ مجھے جاگنے میں بھی اس نے دکھا دیا۔ اور احسان اس کا یہ بھی ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نجات دی اور تم سب کو صحرا سے یہاں لا کر مجھ سے ملا دیا۔
آپ چونکہ جانوروں کے پالنے والے تھے، اس لیے عموماً بادیہ میں ہی قیام رہتا تھا، فلسطین بھی شام کے جنگلوں میں ہے اکثر اوقات پڑاؤ رہا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ یہ اولاج میں حسمی کے نیچے رہا کرتے تھے اور مویشی پالتے تھے، اونٹ بکریاں وغیرہ ساتھ رہتی تھیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:307/7] پھر فرماتے ہیں اس کے بعد کہ شیطان نے ہم میں پھوٹ ڈلوا دی تھی، اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے، اس کے ویسے ہی اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے آسان اور سہل کر دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے اپنے افعال اقوال قضاء و قدر مختار و مراد میں وہ باحکمت ہے۔ سلیمان کا قول ہے کہ خواب کے دیکھنے اور اس کی تاویل کے ظاہر ہونے میں چالیس سال کا وقفہ تھا۔ عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں خواب کی تعبیر کے واقع ہونے میں اس سے زیادہ زمانہ لگتا بھی نہیں یہ آخری مدت ہے۔[تفسیر ابن جریر الطبری:308/7:] حضرت حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ باپ بیٹے اسی برس کے بعد ملے تم خیال تو کرو کہ زمین پر یعقوب علیہ السلام سے زیادہ اللہ کا کوئی محبوب بندہ نہ تھا۔
پھر بھی اتنی مدت انہیں فراق یوسف علیہ السلام میں گزری، ہر وقت آنکھوں سے آنسو جاری رہتے اور دل میں غم کی موجیں اٹھتیں اور روایت میں ہے کہ یہ مدت تراسی سال کی تھی۔ فرماتے ہیں جب یوسف علیہ السلام کنویں میں ڈالے گئے اس وقت آپ کی عمر سترہ سال کی تھی۔ اسی برس تک آپ علیہ السلام باپ کی نظروں سے اوجھل رہے۔ پھر ملاقات کے بعد تیئس برس زندہ رہے اور ایک سو بیس برس کی عمر میں انتقال کیا۔ بقول حضرت قتادہ رحمہ اللہ ترپن برس کے بعد باپ بیٹا ملے۔ ایک قول ہے کہ اٹھارہ سال ایک دوسرے سے دور رہے اور ایک قول ہے کہ چالیس سال کی جدائی رہی اور پھر مصر میں باپ سے ملنے کے بعد سترہ سال زندہ رہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو اسرائیل جب مصر پہنچے ہیں ان کی تعداد صرف تریسٹھ کی تھی اور جب یہاں سے نکلے ہیں اس وقت ان کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار کی تھی۔ مسروق کہتے ہیں آنے کے وقت یہ مع مرد و عورت تین سو نوے تھے، عبداللہ بن شداد کا قول ہے کہ جب یہ لوگ آئے کل چھیاسی تھے یعنی مرد عورت بوڑھے بچے سب ملا کر اور جب نکلے ہیں اس وقت ان کی گنتی چھ لاکھ سے اوپر اوپر تھی۔