اس آیت کی تفسیر آیت 3 میں تا آیت 5 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 یعنی جہنم میں یہ اپنے خاوند کی آگ پر لکڑیاں لا لا کر ڈالے گی، تاکہ مزید آگ بھڑکے۔ یہ اللہ کی طرف سے ہوگا۔ یعنی جس طرح یہ دنیا میں اپنے خاوند کی، اس کے کفر وعناد میں مددگار تھی آخرت میں بھی عذاب میں اس کی مددگار ہوگی۔ (ابن کثیر) بعض کہتے ہیں کہ وہ کانٹے دار جھاڑیاں ڈھو ڈھو کر لاتی اور نبی کریم کے راستے میں لا کر بچھا دیتی تھی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اس کی چغل خوری کی عادت کی طرف اشارہ ہے۔ چغل خوری کے لیے یہ عربی محاورہ ہے۔ یہ کفار قریش کے پاس جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبت کرتی اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت پر اکساتی تھی۔ (فتح الباری)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ اور اس کی بیوی جو ایندھن [4] اٹھائے پھرتی ہے
[4] ابو لہب کی بیوی کا تعارف :۔
ابو لہب کی بیوی کا نام ارویٰ اور کنیت ام جمیل تھی۔ ابو سفیان بن حرب بن امیہ کی بہن تھی۔ جو ابو جہل کی موت کے بعد رئیس قریش اور سپہ سالار افواج بنا تھا۔ رسول دشمنی میں یہ عورت بھی اپنے خاوند سے کسی صورت کم نہ تھی۔ جنگل سے خار دار جھاڑ جھنکار اٹھا لاتی اور رات کے اندھیرے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے آگے ڈال دیتی تاکہ جب آپ صبح بیت اللہ کو جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں کانٹے چبھ جائیں۔ نیز آپ کے بال بچے بھی زخمی ہوں۔ خاصی بد زبان اور مفسدہ پرداز عورت تھی۔ جب سورۃ لہب نازل ہوئی تو یہ مٹھی بھر کنکریاں لے کر بیت اللہ کو چل کھڑی ہوئی۔ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجو کی صورت میں سورۃ لہب کا جواب دے اور کنکریاں مار کر اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کرے۔ اتفاق کی بات کہ اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نظر ہی نہ آئے۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ سے کہنے لگی:”تمہارا ساتھی کدھر ہے؟ سنا ہے وہ میری ہجو کرتا ہے۔“ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے جواب دیا کہ ”اس نے تو کوئی ہجو نہیں کی۔ (یعنی اگر ہجو کی ہے تو وہ اللہ نے کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی) یہ جواب سن کر وہ واپس چلی آئی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔