ترجمہ و تفسیر — سورۃ المسد/اللهب (111) — آیت 3

سَیَصۡلٰی نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ ۚ﴿ۖ۳﴾
عنقریب وہ شعلے والی آگ میں داخل ہو گا۔ En
وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گا
En
وه عنقریب بھڑکنے والی آگ میں جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4،3) ➊ {سَيَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ …: امْرَاَتُهٗ } کا عطف { سَيَصْلٰى } میں ابو لہب کی طرف لوٹنے والی ضمیر پر ہے، یعنی وہ اور اس کی بیوی شعلے مارتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ ابو لہب کی بیوی ام جمیل کا نام ارویٰ بنت حرب بن امیہ تھا، یہ قریش میں اونچے نسب والی عورت تھی، ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کی بہن اور معاویہ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھی اور اپنے خاوند کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت عداوت رکھتی تھی۔ (ابن کثیر)
➋ { حَمَّالَةَ الْحَطَبِ امْرَاَتُهٗ } سے حال ہے، یعنی اس کی بیوی ایندھن اٹھائے ہوئے آگ میں داخل ہوگی۔مفسرین نے اس کے تین معانی بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ وہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے جہنم میں داخل ہوگی، جو جہنم کو بھڑکانے کے لیے ایندھن ہے، دوسرا یہ کہ وہ لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عداوت کی آگ بھڑکاتی رہتی ہے اور تیسرا یہ کہ اپنی پیٹھ پر ایندھن لا کر آپ کی راہ میں کانٹے بچھاتی رہتی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ جلد ہی [3] وہ بھڑکتی آگ میں داخل ہو گا
[3] ابو لہب کنیت ہونے کی دنیا میں مناسبت یہ تھی کہ اس کا رنگ سیب کی طرح لال تھا اور آخرت میں مناسبت یہ ہو گی کہ شعلوں والی آگ میں پھینکا جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔ یعنی آگ اسے ہر جانب سے گھیرلے گی ﴿وَّامْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْؔحَطَبِ اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھانے والی ہے۔ اس کی بیوی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت اذیت پہنچاتی تھی، میاں بیوی دونوں گناہ اور ظلم پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے تھے، وہ تکلیف پہنچاتی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی تھی۔ اس کی پیٹھ پر بوجھ لاد دیا جائے گا اس شخص کے مانند جو ایندھن اکٹھا کرتا ہے۔ اس کی گردن میں ڈالنے کے لیے ایک رسی تیار کی گئی ہے۔ ﴿ مِّنْ مَّسَدٍ مونج کی۔یعنی کھجور کے پتوں کے ریشے سے بٹی ہوئی۔
یا اس کےمعنی یہ ہیں کہ (جہنم میں) وہ ایندھن اٹھا اٹھا کر اپنے شوہر پر ڈالے گی اور اس کے گلے میں کھجور کے پتوں کے ریشوں سے بٹی ہوئی رسی بندھی ہوئی ہو گی۔ دونوں معنوں کے مطابق اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے کیونکہ یہ سورۂ کریمہ اس وقت نازل ہوئی جب ابولہب اور اس کی بیوی ابھی ہلاک نہیں ہوئے تھے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ عنقریب انھیں جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ دونوں ایمان نہیں لائیں گے۔ پس یہ اسی طرح واقع ہوا جس طرح عالم الغیب والشہادہ نے خبر دی تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{سيصلى ناراً ذات لهبٍ}؛ أي: ستحيط به النَّار من كلِّ جانبٍ، هو {وامرأتُه حَمَّالةَ الحطبِ}: وكانت أيضاً شديدة الأذيَّة لرسول الله - صلى الله عليه وسلم -؛ تتعاون هي وزوجها على الإثم والعدوان، وتلقي الشرَّ، وتسعى غاية ما تقدر عليه في أذيَّة الرسول - صلى الله عليه وسلم -، وتجمع على ظهرها الأوزار ؛ بمنزلة من يجمع حطباً، قد أعدَّ له في عنقه حبلاً {من مسدٍ}؛ أي: من ليف، أو أنها تحمل في النار الحطب على زوجها متقلِّدةً في عنقها حبلاً من مسدٍ.

وعلى كلٍّ؛ ففي هذه السورة آيةٌ باهرةٌ من آيات الله؛ فإنَّ الله أنزل هذه السورة وأبو لهب وامرأته لم يهلكا، وأخبر أنَّهما سيعذَّبان في النار ولا بدَّ، ومن لازم ذلك أنَّهما لا يسلمان، فوقع كما أخبر عالم الغيب والشهادة.