اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَ الۡفَتۡحُ ۙ﴿۱﴾
جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔
جب خدا کی مدد آ پہنچی اور فتح (حاصل ہو گئی)
جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 1تا3) ➊ {اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ …:} ابن کثیر نے فرمایا کہ {” الْفَتْحُ “} سے مراد یہاں فتح مکہ ہے، اس پر اتفاق ہے۔ عرب کے قبائل اسلام قبول کرنے کے لیے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ اپنی قوم پر غالب آگیا تو بلاشبہ وہ نبی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے مکہ فتح فرما دیا تو وہ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد دو سال نہیں گزرے تھے کہ سارا عرب مسلمان ہو گیا اور تمام قبائل میں کوئی ایسا شخص نہ تھا جو اسلام کا اقرار نہ کرتا ہو۔ (الحمدللہ) بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا، جب مکہ فتح ہوا تو ہر قوم نے چاہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر پہلے اسلام قبول کر لے اور تمام قبائل اپنے مسلمان ہونے کے لیے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اسے اور اس کی قوم کو چھوڑدو، اگر یہ ان پر غالب آگیا تو بلاشبہ وہ نبی ہے۔ [دیکھیے بخاري، المغازي، باب: ۴۳۰۲]
➋ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے شیوخ بدر کی موجودگی میں مجھے بلوایا اور حاضرین سے پوچھا: ”اللہ تعالیٰ کے فرمان: «اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ» کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟“ تو ان میں سے بعض نے کہا کہ اس میں ہمیں حکم ہوا ہے کہ جب ہمیں فتح و نصرت حاصل ہو تو اللہ کی حمد اور استغفار کریں اور بعض خاموش رہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ابن عباس! تم بھی یہی کہتے ہو؟“ میں نے کہا:” نہیں!“ فرمایا: ”تو تم کیا کہتے ہو؟“ میں نے کہا: ”اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کا وقت ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی اطلاع دی ہے، فرمایا: «اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ» ”جب اللہ کی نصرت اور فتح آگئی۔“ یہ (فتح و نصرت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی علامت ہے، لہٰذا اب آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور اس سے استغفار کیجیے، یقینا وہ تواب ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس سورت کے متعلق مجھے بھی یہی معلوم ہے۔“ [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «فسبح بحمد ربک…» : ۴۹۷۰]
➌ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ شیوخ بدر نے جو تفسیر کی ہے وہ بھی بہت خوب صورت مفہوم ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد آٹھ رکعات ادا فرمائیں۔ اس لیے امیر لشکر کے لیے مستحب ہے کہ کوئی شہر فتح کرنے کے بعد اس میں داخل ہو تو آٹھ رکعات (نوافل) پڑھے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے مدائن فتح کیا تو ایسے ہی کیا تھا۔ البتہ عمر بن خطاب اور ابن عباس رضی اللہ عنھم نے جو مفہوم سمجھا ہے کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی موت کی اطلاع دی گئی ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا کام مکمل ہو چکا، اب آپ کو ہمارے پاس آنے کی تیاری کرنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی سمجھا، اس لیے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تسبیح و تحمید اور استغفار کثرت سے کرنے لگے۔
➍ اس سورت کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سے بھی زیادہ آخرت کی تیاری شروع کر دی اور زیادہ سے زیادہ تسبیح و تحمید اور استغفار کرنے لگے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ {” اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ “} نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز نہیں پڑھی جس میں یہ نہ پڑھا ہو: [سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ] [بخاري، التفسیر، سورۃ: «إذا جاء نصر اللہ» : ۴۹۶۷] ” تو (ہر عیب سے) پاک ہے، اے ہمارے پروردگار! ہم تیری تعریف اور پاکی بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔“ بخاری کی اس سے بعد والی روایت بھی عائشہ رضی اللہ عنھا ہی سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں کثرت سے یہ دعا پڑھتے تھے: [سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ] [بخاري، التفسیر، سورۃ: «إذا جاء نصر اللہ» : ۴۹۶۸] ”اے ہمارے اللہ! اے ہمارے پروردگار! تو (ہر عیب سے) پاک ہے، ہم تیری تعریف اور پاکی بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا قرآن پر عمل کرتے ہوئے پڑھتے تھے۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ جَلَسَ فِيْ مَجْلِسٍ فَكَثُرَ فِيْهِ لَغَطُهُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَّقُوْمَ مِنْ مَّجْلِسِهِ ذٰلِكَ: سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ، إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِيْ مَجْلِسِهِ ذٰلِكَ] [ترمذي، الدعوات، باب ما یقول إذا قام من مجلسہ: ۳۴۳۳، وقال الألباني صحیح] ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس میں شور و غل زیادہ کر بیٹھے، پھر اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ پڑھ لے تو اس مجلس میں اس سے جو کچھ ہوا وہ معاف کر دیا جاتا ہے: [سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ] ”اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری حمد کے ساتھ (ہم تیری تعریف کرتے ہیں)، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتاہوں۔“
➏ {” اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا “} میں {” كَانَ “} استمرار کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے: ”یقینا وہ ہمیشہ سے بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔“
➋ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے شیوخ بدر کی موجودگی میں مجھے بلوایا اور حاضرین سے پوچھا: ”اللہ تعالیٰ کے فرمان: «اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ» کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟“ تو ان میں سے بعض نے کہا کہ اس میں ہمیں حکم ہوا ہے کہ جب ہمیں فتح و نصرت حاصل ہو تو اللہ کی حمد اور استغفار کریں اور بعض خاموش رہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ابن عباس! تم بھی یہی کہتے ہو؟“ میں نے کہا:” نہیں!“ فرمایا: ”تو تم کیا کہتے ہو؟“ میں نے کہا: ”اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کا وقت ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی اطلاع دی ہے، فرمایا: «اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ» ”جب اللہ کی نصرت اور فتح آگئی۔“ یہ (فتح و نصرت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی علامت ہے، لہٰذا اب آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور اس سے استغفار کیجیے، یقینا وہ تواب ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس سورت کے متعلق مجھے بھی یہی معلوم ہے۔“ [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «فسبح بحمد ربک…» : ۴۹۷۰]
➌ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ شیوخ بدر نے جو تفسیر کی ہے وہ بھی بہت خوب صورت مفہوم ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد آٹھ رکعات ادا فرمائیں۔ اس لیے امیر لشکر کے لیے مستحب ہے کہ کوئی شہر فتح کرنے کے بعد اس میں داخل ہو تو آٹھ رکعات (نوافل) پڑھے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے مدائن فتح کیا تو ایسے ہی کیا تھا۔ البتہ عمر بن خطاب اور ابن عباس رضی اللہ عنھم نے جو مفہوم سمجھا ہے کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی موت کی اطلاع دی گئی ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا کام مکمل ہو چکا، اب آپ کو ہمارے پاس آنے کی تیاری کرنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی سمجھا، اس لیے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تسبیح و تحمید اور استغفار کثرت سے کرنے لگے۔
➍ اس سورت کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سے بھی زیادہ آخرت کی تیاری شروع کر دی اور زیادہ سے زیادہ تسبیح و تحمید اور استغفار کرنے لگے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ {” اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ “} نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز نہیں پڑھی جس میں یہ نہ پڑھا ہو: [سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ] [بخاري، التفسیر، سورۃ: «إذا جاء نصر اللہ» : ۴۹۶۷] ” تو (ہر عیب سے) پاک ہے، اے ہمارے پروردگار! ہم تیری تعریف اور پاکی بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔“ بخاری کی اس سے بعد والی روایت بھی عائشہ رضی اللہ عنھا ہی سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں کثرت سے یہ دعا پڑھتے تھے: [سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ] [بخاري، التفسیر، سورۃ: «إذا جاء نصر اللہ» : ۴۹۶۸] ”اے ہمارے اللہ! اے ہمارے پروردگار! تو (ہر عیب سے) پاک ہے، ہم تیری تعریف اور پاکی بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا قرآن پر عمل کرتے ہوئے پڑھتے تھے۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ جَلَسَ فِيْ مَجْلِسٍ فَكَثُرَ فِيْهِ لَغَطُهُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَّقُوْمَ مِنْ مَّجْلِسِهِ ذٰلِكَ: سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ، إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِيْ مَجْلِسِهِ ذٰلِكَ] [ترمذي، الدعوات، باب ما یقول إذا قام من مجلسہ: ۳۴۳۳، وقال الألباني صحیح] ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس میں شور و غل زیادہ کر بیٹھے، پھر اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ پڑھ لے تو اس مجلس میں اس سے جو کچھ ہوا وہ معاف کر دیا جاتا ہے: [سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ] ”اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری حمد کے ساتھ (ہم تیری تعریف کرتے ہیں)، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتاہوں۔“
➏ {” اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا “} میں {” كَانَ “} استمرار کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے: ”یقینا وہ ہمیشہ سے بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ جب اللہ کی مدد اور فتح [1] آ پہنچی
[1] فتح مکہ۔ مکہ پر چڑھائی کا سبب اور کیفیت :۔
فتح سے مراد کسی عام معرکہ کی فتح نہیں بلکہ اس سے مراد مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن قریش کا مرکز شہر مکہ ہے۔ تمام قبائل عرب اس بات کے منتظر تھے کہ آیا مسلمان مکہ کو فتح کر سکیں گے یا نہیں؟ اگر کر لیں تو اسلام سچا مذہب ہے ورنہ نہیں۔ ان لوگوں نے اپنے اسلام لانے کو بھی فتح مکہ سے مشروط اور فتح مکہ تک موخر کر رکھا تھا۔ گویا فتح مکہ اسلام اور کفر کے درمیان ایک فیصلہ کن فتح تھی۔ اور خالصتاً اللہ کی مدد سے اور معجزانہ انداز سے واقع ہوئی تھی۔ جس میں مسلمانوں کو معمولی سے معرکہ کی بھی ضرورت پیش نہ آئی۔ مکہ پر چڑھائی کا فوری سبب قریش مکہ کی عہد شکنی تھی جو انہوں نے صلح حدیبیہ کی شرائط کو پس پشت ڈال کر اور اپنے حلیف قبیلہ بنو بکر کی علی الاعلان مدد کر کے کی تھی۔ اور جب بنو خزاعہ کی فریاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سامنے کچھ شرائط پیش کیں تو قریشی نوجوانوں نے انہیں ٹھکرا دیا تھا۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی خفیہ طریق سے مکہ پر چڑھائی کی تیاری شروع کر دی اور اپنے حلیف قبائل کو بھی خفیہ طور پر پیغام بھیج دیا تھا۔
ابو سفیان کی گرفتاری :۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے روانہ ہوئے تو لشکر کی تعداد چار ہزار تھی۔ راستہ میں حلیف قبائل ملتے گئے اور مکہ پہنچنے تک دس ہزار کا جرار لشکر آپ کے ہمرکاب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے قریب مر الظہران میں پڑاؤ ڈالا تو اس لشکر کو میلوں میں پھیلا دیا اور حکم دیا کہ آگ کے بڑے بڑے الاؤ روشن کیے جائیں۔ دشمن یہ منظر دیکھ کر اس قدر مرعوب ہو گیا کہ اس میں مقابلہ کی سکت ہی نہ رہی۔ ابو سفیان اپنے دو ساتھیوں سمیت حالات کا جائزہ لینے نکلا ہی تھی کہ گرفتار ہو گیا۔ سیدنا عباسؓ نے اسے اپنے گھوڑے کے پیچھے بٹھایا تاکہ بلا تاخیر اس کے لیے دربار نبوی سے امان کا پروانہ حاصل کر لیا جائے۔ سیدنا عمرؓ کو خبر ہوئی تو وہ بھی فوراً دربار نبوی کو روانہ ہوئے تاکہ ابو سفیان کو دربار نبوی میں پہنچنے سے پہلے اور امان ملنے سے پیشتر ہی قتل کر دیا جائے۔ اتفاق کی بات کہ سیدنا عباس پہلے پہنچ گئے اور ابو سفیان کی جان بچ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا اور سیدنا عباس سے کہا کہ اسے اپنے خیمہ میں لے جائیں۔
آپ کا مسلمانوں کو کفار کے سامنے شان و شوکت کا مظاہرہ کرنے کا حکم :۔
دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان کو پہاڑی کے ایک بلند مقام پر کھڑا کیا اور اسلامی لشکر، جو قبائل کے لحاظ سے مختلف فوجی دستوں میں بٹا ہوا تھا، کو حکم دیا کہ ابو سفیان کے سامنے پوری شان و شوکت کے ساتھ گزرتے جائیں۔ اس نظارہ نے صرف ابو سفیان پر ہی نہیں، تمام کفار کے دلوں پر اسلام کی ایسی دھاک بٹھا دی کہ مقابلہ کا کسی کو خیال تک نہ آیا اور اس طرح عرب کا یہ مرکزی شہر بلا مقابلہ اور بغیر کسی خون خرابہ کے فتح ہو گیا۔
معافی کا اعلان :۔
فتح کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان جانی دشمنوں کو بڑی فراخدلی کے ساتھ معاف کر دیا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ نہ صرف ابو سفیان اور اس کے اہل خانہ مسلمان ہو گئے بلکہ اہل مکہ کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ کافروں کے دلوں میں اس طرح رعب ڈال دینا اور مکہ کا اس طرح بلا مقابلہ فتح ہو جانا بلا شبہ اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
گناہوں کی بخشش مانگو اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرو ٭٭
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ { بڑی عمر والے بدری مجاہدین کے ساتھ ساتھ عمر فاروق رضی اللہ عنہ مجھے بھی شامل کر لیا کرتے تھے تو شاید کسی کے دل میں اس کی کچھ ناراضگی پیدا ہوئی ہو گی اس نے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ نہ آیا کریں، ان جتنے تو ہمارے بچے ہیں خلیقۃ المسلمین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم انہیں خوب جانتے ہو ایک دن سب کو بلایا اور مجھے بھی یاد فرمایا میں سمجھ گیا کہ آج انہیں کچھ دکھانا چاہتے ہیں جب ہم سب جا پہنچے تو امیرالمومنین رضی اللہ عنہ نے ہم سے پوچھا کہ سورۃ «إِذَا جَاءَ» کی نسبت تمہیں کیا علم ہے؟ بعض نے کہا اس میں ہمیں اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے اور گناہوں کی بخشش چاہنے کا حکم کیا گیا ہے کہ جب مدد اللہ آ جائے اور ہماری فتح ہو تو ہم یہ کریں اور بعض بالکل خاموش رہے تو آپ نے میری طرف توجہ فرمائی اور کہا کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں نے کہا نہیں، فرمایا: پھر اور کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کا پیغام ہے آپ کو معلوم کرایا جا رہا ہے کہ اب آپ کی دنیوی زندگی ختم ہونے کو ہے آپ تسبیح، حمد اور استفغار میں مشغول ہو جائیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہی میں بھی جانتا ہوں ۱؎۔ [صحیح بخاری:4970] جب یہ سورت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اب اسی سال میرا انتقال ہو جائے گا مجھے میرے انتقال کی خبر دی گئی ہے } ۱؎۔ [مسند احمد:217/1]
مجاہد، ابوالعالیہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تھے فرمانے لگے: ”اللہ اکبر، اللہ اکبر اللہ کی مدد آ گئی اور فتح بھی یمن والے آ گئے“، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! یمن والے کیسے ہیں؟ فرمایا: ”وہ نرم دل لوگ ہیں سلجھی ہوئی طبیعت والے ہیں ایمان تو اہل یمن کا ہے اور سمجھ بھی اہل یمن کی ہے اور حکمت بھی اہل یمن والوں کی ہے“} ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38230:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ { جب یہ سوت اتری چونکہ اس میں آپ کے انتقال کی خبر تھی تو آپ نے اپنے کاموں میں اور کمر کس لی } اور تقریباً وہی فرمایا جو اوپر گزرا۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11903]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ { جب یہ سوت اتری چونکہ اس میں آپ کے انتقال کی خبر تھی تو آپ نے اپنے کاموں میں اور کمر کس لی } اور تقریباً وہی فرمایا جو اوپر گزرا۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11903]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ { سورتوں میں پوری سورت نازل ہونے کے اعتبار سے سب سے آخری سورت یہی ہے } ۱؎۔ [طبرانی کبیر:10736]
اور حدیث میں ہے کہ {جب یہ سورت اتری آپ نے اس کی تلاوت کی اور فرمایا: ”لوگ ایک کنارہ ہوں، میں اور میرے اصحاب ایک کنارہ میں ہیں، سنو فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں البتہ جہاد اور نیت ہے“}۔
مروان کو جب یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے سنائی تو یہ کہنے لگا، جھوٹ کہتا ہے اس وقت مروان کے ساتھ اس کے تخت پر سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما بھی بیٹھے تھے، تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ان دونوں کو بھی اس حدیث کی خبر ہے یہ بھی اس حدیث کو بیان کر سکتے ہیں لیکن ایک کو تو اپنی سرداری چھن جانے کا خوف ہے اور دوسرے کو زکوٰۃ کی وصولی کے عہدے سے سبکدوش ہو جانے کا ڈر ہے مروان نے یہ سن کر کوڑا اٹھا کر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کو مارنا چاہا ان دونوں بزرگوں نے جب یہ دیکھا تو کہنے لگے مروان سن ابوسعید نے سچ بیان فرمایا ۱؎ [مسند احمد:22/3:صحيح لغيره دون الجملة] یہ حدیث ثابت ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ {جب یہ سورت اتری آپ نے اس کی تلاوت کی اور فرمایا: ”لوگ ایک کنارہ ہوں، میں اور میرے اصحاب ایک کنارہ میں ہیں، سنو فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں البتہ جہاد اور نیت ہے“}۔
مروان کو جب یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے سنائی تو یہ کہنے لگا، جھوٹ کہتا ہے اس وقت مروان کے ساتھ اس کے تخت پر سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما بھی بیٹھے تھے، تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ان دونوں کو بھی اس حدیث کی خبر ہے یہ بھی اس حدیث کو بیان کر سکتے ہیں لیکن ایک کو تو اپنی سرداری چھن جانے کا خوف ہے اور دوسرے کو زکوٰۃ کی وصولی کے عہدے سے سبکدوش ہو جانے کا ڈر ہے مروان نے یہ سن کر کوڑا اٹھا کر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کو مارنا چاہا ان دونوں بزرگوں نے جب یہ دیکھا تو کہنے لگے مروان سن ابوسعید نے سچ بیان فرمایا ۱؎ [مسند احمد:22/3:صحيح لغيره دون الجملة] یہ حدیث ثابت ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”ہجرت نہیں رہی ہاں جہاد اور نیت ہے جب تمہیں چلنے کو کہا جائے اٹھ کھڑے ہو جایا کرو“}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1834]
صحیح بخاری اور صحیح مسلم شریف میں یہ حدیث موجود ہے ہاں یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض صحابہ نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے اس سورت کا یہ مطلب بیان کیا کہ جب ہم پر اللہ تعالیٰ شہر اور قلعے فتح کر دے اور ہماری مدد فرمائے تو ہمیں حکم مل رہا ہے کہ ہم اس کی تعریفیں بیان کریں اس کا شکر کریں اور اس کی پاکیزگی بیان کریں، نماز ادا کریں اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں یہ مطلب بھی بالکل صحیح ہے۔
اور یہ تفسیر بھی نہایت پیاری ہے دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی ۱؎ [صحیح بخاری:1103] گو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ ضحیٰ کی نماز تھی لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ ضحیٰ کی نماز آپ ہمیشہ نہیں پڑھتے تھے پھر اس دن جبکہ شغل اور کام بہت زیادہ تھا مسافرت تھی یہ کیسے پڑھی؟ آپ کی اقامت فتح کے موقعہ پر مکہ شریف میں رمضان شریف کے آخر تک انیس دن رہی آپ فرض نماز کو بھی قصر کرتے رہے روزہ بھی نہیں رکھا اور تمام لشکر جو تقریباً دس ہزار تھا اسی طرح کرتا رہا ان حقائق سے یہ بات صاف ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ نماز فتح کے شکریہ کی نماز تھی اسی لیے سردار لشکر امام وقت پر مستحب ہے کہ جب کوئی شہر فتح ہو تو داخل ہوتے ہی دو رکعت نماز ادا کرے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فتح مدائن والے دن ایسا ہی کیا تھا ان آٹھ رکعت کو دو دو رکعت کر کے ادا کرے گو بعض کا یہ قول بھی ہے کہ آٹھوں ایک ہی سلام سے پڑھ لے لیکن ابوداؤد کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز میں ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا ہے ۱؎۔ [سنن ابوداود:1290،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
دوسری تفسیر بھی صحیح ہے جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے کی ہے کہ اس میں آپ کو آپ کے وصال کی خبر دی گئی کہ جب آپ اپنی بستی مکہ فتح کر لیں جہاں سے ان کفار نے آپ کو نکل جانے پر مجبور کیا تھا اور آپ اپنی آنکھوں اپنی محنت کا پھل دیکھ لیں کہ فوجوں کی فوجیں آپ کے جھنڈے تلے آ جائیں جوق در جوق لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں تو ہماری طرف آنے کی اور ہم سے ملاقات کی تیاریوں میں لگ جاؤ سمجھ لو کہ جو کام ہمیں تم سے لینا تھا پورا ہو چکا اب آخرت کی طرف نگاہیں ڈالو جہاں آپ کے لیے بہت بہتری ہے اور اس دنیا سے بہت زیادہ بھلائی آپ کے لیے وہاں ہے وہیں آپ کی مہمانی تیار ہے اور مجھ جیسا میزبان ہے تم ان نشانات کو دیکھ کر بکثرت میری حمد و ثناء کرو اور توبہ استغفار میں لگ جاؤ۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم شریف میں یہ حدیث موجود ہے ہاں یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض صحابہ نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے اس سورت کا یہ مطلب بیان کیا کہ جب ہم پر اللہ تعالیٰ شہر اور قلعے فتح کر دے اور ہماری مدد فرمائے تو ہمیں حکم مل رہا ہے کہ ہم اس کی تعریفیں بیان کریں اس کا شکر کریں اور اس کی پاکیزگی بیان کریں، نماز ادا کریں اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں یہ مطلب بھی بالکل صحیح ہے۔
اور یہ تفسیر بھی نہایت پیاری ہے دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی ۱؎ [صحیح بخاری:1103] گو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ ضحیٰ کی نماز تھی لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ ضحیٰ کی نماز آپ ہمیشہ نہیں پڑھتے تھے پھر اس دن جبکہ شغل اور کام بہت زیادہ تھا مسافرت تھی یہ کیسے پڑھی؟ آپ کی اقامت فتح کے موقعہ پر مکہ شریف میں رمضان شریف کے آخر تک انیس دن رہی آپ فرض نماز کو بھی قصر کرتے رہے روزہ بھی نہیں رکھا اور تمام لشکر جو تقریباً دس ہزار تھا اسی طرح کرتا رہا ان حقائق سے یہ بات صاف ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ نماز فتح کے شکریہ کی نماز تھی اسی لیے سردار لشکر امام وقت پر مستحب ہے کہ جب کوئی شہر فتح ہو تو داخل ہوتے ہی دو رکعت نماز ادا کرے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فتح مدائن والے دن ایسا ہی کیا تھا ان آٹھ رکعت کو دو دو رکعت کر کے ادا کرے گو بعض کا یہ قول بھی ہے کہ آٹھوں ایک ہی سلام سے پڑھ لے لیکن ابوداؤد کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز میں ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا ہے ۱؎۔ [سنن ابوداود:1290،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
دوسری تفسیر بھی صحیح ہے جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے کی ہے کہ اس میں آپ کو آپ کے وصال کی خبر دی گئی کہ جب آپ اپنی بستی مکہ فتح کر لیں جہاں سے ان کفار نے آپ کو نکل جانے پر مجبور کیا تھا اور آپ اپنی آنکھوں اپنی محنت کا پھل دیکھ لیں کہ فوجوں کی فوجیں آپ کے جھنڈے تلے آ جائیں جوق در جوق لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں تو ہماری طرف آنے کی اور ہم سے ملاقات کی تیاریوں میں لگ جاؤ سمجھ لو کہ جو کام ہمیں تم سے لینا تھا پورا ہو چکا اب آخرت کی طرف نگاہیں ڈالو جہاں آپ کے لیے بہت بہتری ہے اور اس دنیا سے بہت زیادہ بھلائی آپ کے لیے وہاں ہے وہیں آپ کی مہمانی تیار ہے اور مجھ جیسا میزبان ہے تم ان نشانات کو دیکھ کر بکثرت میری حمد و ثناء کرو اور توبہ استغفار میں لگ جاؤ۔
صحیح بخاری کی حدیث میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع، سجدے میں بکثرت «سُبْحَانك اللَّهُمَّ رَبّنَا وَبِحَمْدِك اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي» پڑھا کرتے تھے آپ قرآن کی اس آیت «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا» ۱؎ [110-النصر:3] پر عمل کرتے تھے} ۱؎ [صحیح بخاری:794]
اور روایت میں ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں ان کلمات کا اکثر ورد کرتے تھے «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَأَتُوب إِلَيْهِ» اللہ کی ذات پاک ہے اسی کے لیے سب تعریفیں مختص ہیں میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف جھکتا ہوں اور فرمایا کرتے تھے کہ ”میرے رب نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ جب میں یہ علامت دیکھ لوں کہ مکہ فتح ہو گیا اور دین اسلام میں فوجیں کی فوجیں داخل ہونے لگیں تو میں ان کلمات کو بکثرت کہوں چنانچہ بحمد اللہ میں اسے دیکھ چکا لہٰذا اب اس وظیفے میں مشغول ہوں“} ۱؎۔ [صحیح مسلم:484] (مسند احمد)
ابن جریر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں بیٹھتے اٹھتے چلتے پھرتے آتے جاتے «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ» پڑھا کرتے میں نے ایک مرتبہ پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے تو آپ نے اس سورت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”مجھے حکم الٰہی یہی ہے“} ہے ۱؎، [تفسیر ابن جریر الطبری:38248:ضعیف]
کسی مجلس میں بیٹھیں پھر وہ مجلس برخاست ہو تو کیا پڑھنا چاہیئے اسے ہم اپنی ایک مستقل تصنیف میں لکھ چکے ہیں۔
مسند احمد میں ہے کہ {جب یہ سورت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اکثر اپنی نماز میں تلاوت کرتے اور رکوع میں تین مرتبہ یہ پڑھتے «سُبْحَانك اللَّهُمَّ رَبّنَا وَبِحَمْدِك اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي إِنَّك أَنْتَ التَّوَّاب الرَّحِيم» }۔ ۱؎ [مسند احمد:410/1:حسن لغیرہ]
فتح سے مراد یہاں فتح مکہ ہے اس پر اتفاق ہے عموماً عرب قبائل اسی کے منتظر تھے کہ اگر یہ اپنی قوم پر غالب آ جائیں اور مکہ ان کے زیر نگیں آ جائے تو پھر ان کے نبی ہونے میں ذرا سا بھی شک شبہ نہیں اب جبکہ اللہ نے اپنے حبیب کے ہاتھوں مکہ فتح کرا دیا تو یہ سب اسلام میں آ گئے اس کے بعد دو سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ سارا عرب مسلمان ہو گیا اور ہر ایک قبیلے میں اسلام اپنا راج کرنے لگا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اور روایت میں ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں ان کلمات کا اکثر ورد کرتے تھے «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَأَتُوب إِلَيْهِ» اللہ کی ذات پاک ہے اسی کے لیے سب تعریفیں مختص ہیں میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف جھکتا ہوں اور فرمایا کرتے تھے کہ ”میرے رب نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ جب میں یہ علامت دیکھ لوں کہ مکہ فتح ہو گیا اور دین اسلام میں فوجیں کی فوجیں داخل ہونے لگیں تو میں ان کلمات کو بکثرت کہوں چنانچہ بحمد اللہ میں اسے دیکھ چکا لہٰذا اب اس وظیفے میں مشغول ہوں“} ۱؎۔ [صحیح مسلم:484] (مسند احمد)
ابن جریر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں بیٹھتے اٹھتے چلتے پھرتے آتے جاتے «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ» پڑھا کرتے میں نے ایک مرتبہ پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے تو آپ نے اس سورت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”مجھے حکم الٰہی یہی ہے“} ہے ۱؎، [تفسیر ابن جریر الطبری:38248:ضعیف]
کسی مجلس میں بیٹھیں پھر وہ مجلس برخاست ہو تو کیا پڑھنا چاہیئے اسے ہم اپنی ایک مستقل تصنیف میں لکھ چکے ہیں۔
مسند احمد میں ہے کہ {جب یہ سورت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اکثر اپنی نماز میں تلاوت کرتے اور رکوع میں تین مرتبہ یہ پڑھتے «سُبْحَانك اللَّهُمَّ رَبّنَا وَبِحَمْدِك اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي إِنَّك أَنْتَ التَّوَّاب الرَّحِيم» }۔ ۱؎ [مسند احمد:410/1:حسن لغیرہ]
فتح سے مراد یہاں فتح مکہ ہے اس پر اتفاق ہے عموماً عرب قبائل اسی کے منتظر تھے کہ اگر یہ اپنی قوم پر غالب آ جائیں اور مکہ ان کے زیر نگیں آ جائے تو پھر ان کے نبی ہونے میں ذرا سا بھی شک شبہ نہیں اب جبکہ اللہ نے اپنے حبیب کے ہاتھوں مکہ فتح کرا دیا تو یہ سب اسلام میں آ گئے اس کے بعد دو سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ سارا عرب مسلمان ہو گیا اور ہر ایک قبیلے میں اسلام اپنا راج کرنے لگا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
صحیح بخاری میں بھی سیدنا عمرو بن سلمہ کا یہ مقولہ موجود ہے کہ {مکہ فتح ہوتے ہی ہر قبیلے نے اسلام کی طرف سبقت کی ان سب کو اسی بات کا انتظار تھا اور کہتے تھے کہ انہیں اور ان کی قوم کو چھوڑو دیکھو اگر یہ نبی برحق ہیں تو اپنی قوم پر غالب آ جائیں گے اور مکہ پر ان کا جھنڈا نصب ہو جائے گا} ۱؎۔ [صحیح بخاری:4302]
ہم نے غزوہ فتح مکہ کا پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ اپنی سیرۃ کی کتاب میں لکھا ہے جو صاحب تفصیلات دیکھنا چاہیں وہ اس کتاب کو دیکھ لیں۔“ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
مسند احمد میں ہے کہ {سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پڑوسی جب اپنے کسی سفر سے واپس آئے تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ان سے ملاقات کرنے کے لیے گئے انہوں نے لوگوں کی پھوٹ اور ان کے اختلاف کا حال بیان کیا اور ان کی نو ایجاد بدعتوں کا تذکرہ کیا تو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور روتے ہوئے فرمانے لگے کہ میں نے اللہ کے حبیب شافع روز جزاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ لوگوں کی فوجوں کی فوجیں اللہ کے دین میں داخل ہوئیں لیکن عنقریب جماعتوں کی جماعتیں ان میں سے نکلنے بھی لگ جائیں گی} ۱؎۔ [مسند احمد:343/3:ضعیف]
اس سورت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمدلله على احسانه»
ہم نے غزوہ فتح مکہ کا پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ اپنی سیرۃ کی کتاب میں لکھا ہے جو صاحب تفصیلات دیکھنا چاہیں وہ اس کتاب کو دیکھ لیں۔“ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
مسند احمد میں ہے کہ {سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پڑوسی جب اپنے کسی سفر سے واپس آئے تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ان سے ملاقات کرنے کے لیے گئے انہوں نے لوگوں کی پھوٹ اور ان کے اختلاف کا حال بیان کیا اور ان کی نو ایجاد بدعتوں کا تذکرہ کیا تو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور روتے ہوئے فرمانے لگے کہ میں نے اللہ کے حبیب شافع روز جزاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ لوگوں کی فوجوں کی فوجیں اللہ کے دین میں داخل ہوئیں لیکن عنقریب جماعتوں کی جماعتیں ان میں سے نکلنے بھی لگ جائیں گی} ۱؎۔ [مسند احمد:343/3:ضعیف]
اس سورت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمدلله على احسانه»