ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 83

مُّسَوَّمَۃً عِنۡدَ رَبِّکَ ؕ وَ مَا ہِیَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ بِبَعِیۡدٍ ﴿٪۸۳﴾
جو تیرے رب کے ہاں سے نشان لگائے ہوئے تھے اور وہ ان ظالموں سے ہرگز کچھ دور نہیں۔ En
جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں
En
تیرے رب کی طرف سے نشان دار تھے اور وه ان ﻇالموں سے کچھ بھی دور نہ تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 83) ➊ {مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ:} نشان لگے ہوئے یعنی ان میں سے ہر پتھر پر کوئی علامت بنائی گئی تھی کہ اس سے کس کو ہلا ک کرنا ہے۔ (ابن کثیر)
➋ { وَ مَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ:} اس کے دو معنی ہیں، ایک تو یہ کہ جو لوگ بھی ظلم کی روش پر چلیں گے (مثلاً مغربی اقوام اور ان کے پرستار جو دھڑلے سے اس فعل بد کا ارتکاب اور اس کی اشاعت کر رہے ہیں) ان پر بھی یہ عذاب آنا کچھ دور نہیں، یا الف لام عہد کا ہو تو ان ظالموں (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کافروں) پر بھی نزول عذاب بعید از قیاس نہیں۔ اگر قوم لوط پر عذاب آ سکتا ہے تو ان پر بھی آ سکتا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ الٹی ہوئی بستیاں ان مکہ کے ظالموں سے کچھ دور نہیں، بلکہ ملک شام کو جاتے ہوئے دائمی آباد راستے میں ہیں، جن کی بے مثال بربادی یہ لوگ صبح و شام آتے جاتے دیکھتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ حجر (۷۶) اور صافات (۱۳۷، ۱۳۸) کے حواشی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

83۔ 1 اس آیت میں ھی کا مرجع بعض مفسرین کے نزدیک وہ نشان زدہ کنکریلے پتھر ہیں جو ان پر برسائے گئے اور بعض کے نزدیک اس کا مرجع وہ بستیاں ہیں جو ہلاک کی گئیں اور جو شام اور مدینہ کے درمیان تھیں اور ظالمین سے مراد مشرکین مکہ اور دیگر منکرین ہیں۔ مقصد ان کو ڈرانا ہے کہ تمہارا حشر بھی ویسا ہہی ہوسکتا ہے جس سے گزشتہ قومیں دو چار ہوئیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

83۔ اور یہ (خطہ ان) ظالموں [94] سے کچھ دور بھی نہیں
[94] اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک کی تو ترجمہ میں ہی قوسین کے ذریعہ وضاحت کر دی گئی ہے اس صورت میں خطہ سے مراد قوم لوط کا تباہ شدہ خطہ اور ظالموں سے مراد دور نبوی کے منکرین حق ہیں یعنی یہ برباد شدہ علاقہ ان ظالموں سے کچھ دور نہیں یہ سب کچھ وہ بچشم خود ملاحظہ کر سکتے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسا عذاب کچھ قوم لوطؑ سے ہی مخصوص نہیں بلکہ ظالموں اور منکرین حق اور بد کرداروں کو آج بھی ایسا عذاب دینے پر اللہ تعالیٰ پوری قدرت رکھتا ہے اور یہ کوئی بعید از عقل بات نہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آج کے ایٹم بم اس وقت کے پتھروں کی بارش ٭٭
سورج کے نکلنے کے وقت اللہ کا عذاب ان پر آ گیا۔ ان کی بستی سدوم نامی تہ و بالا ہو گئی۔ «وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَىٰ فَغَشَّاهَا مَا غَشَّىٰ» ۱؎ [53-النجم:53-54]‏‏‏‏ ’ عذاب نے اوپر تلے سے ڈھانک لیا ‘۔ آسمان سے پکی مٹی کے پتھر ان پر برسنے لگے۔ جو سخت، وزنی اور بہت بڑے بڑے تھے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے { «سِجِّينٍ سِجِّيلٍ» دونوں ایک ہی ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4684]‏‏‏‏
«مَّنضُودٍ» سے مراد پے در پے تہ بہ تہ ایک کے بعد ایک کے ہیں۔ ان پتھروں پر قدرتی طور پر ان لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ جس کے نام کا پتھر تھا اسی پر گرتا تھا۔ وہ مثل طوق کے تھے جو سرخی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ یہ ان شہریوں پر بھی برسے اور یہاں کے جو لوگ اور گاؤں گوٹھ میں تھے ان پر بھی وہیں گرے۔ ان میں سے جو جہاں تھا وہیں پتھر سے ہلاک کیا گیا۔ کوئی کھڑا ہوا، کسی جگہ کسی سے باتیں کر رہا ہے وہیں پتھر آسمان سے آیا اور اسے ہلاک کر گیا۔ غرض ان میں سے ایک بھی نہ بچا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جبرائیل علیہ السلام نے ان سب کو جمع کر کے ان کے مکانات اور مویشیوں سمیت اونچا اٹھا لیا یہاں تک کہ ان کے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آسمان کے فرشتوں نے سن لیں۔ آپ علیہ السلام اپنے داہنے پر کے کنارے پر ان کی بستی کو اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر انہیں زمین پر الٹ دیا۔ ایک کو دوسرے سے ٹکرا دیا اور سب ایک ساتھ غارت ہو گئے اکے دکے جو رہ گئے تھے ان کے بھیجے آسمانی پتھروں نے پھوڑ دئیے اور محض بے نام و نشان کر دیئے گئے۔
مذکور ہے کہ ان کی چار بستیاں تھیں۔ ہربستی میں ایک لاکھ آدمیوں کی آبادی تھی۔ ایک روایت میں ہے تین بستیاں تھیں۔ بڑی بستی کا نام سدوم تھا۔ یہاں کبھی کبھی خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی آ کر وعظ نصیحت فرما جایا کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ’ یہ چیزیں کچھ ان سے دور نہ تھیں ‘۔ سنن کی حدیث میں ہے { کسی اگر تم لواطت کرتا ہوا پاؤ تو اوپر والے نیچے والے دونوں کو قتل کر دو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4462،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏