وَ لَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوۡطًا سِیۡٓءَ بِہِمۡ وَ ضَاقَ بِہِمۡ ذَرۡعًا وَّ قَالَ ہٰذَا یَوۡمٌ عَصِیۡبٌ ﴿۷۷﴾
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس آئے، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان سے دل تنگ ہوا اور اس نے کہا یہ بہت سخت دن ہے۔
En
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے
En
جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وه ان کی وجہ سے بہت غمگین ہوگئے اور دل ہی دل میں کڑھنے لگے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مصیبت کا دن ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 77) ➊ { وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِيْٓءَ بِهِمْ …:} یہاں سے لوط علیہ السلام کا قصہ شروع ہوتا ہے جو کئی سورتوں میں مختلف انداز سے ذکر ہوا ہے، مثلاً سورۂ اعراف، حجر، شعراء، نمل، عنکبوت، صافات، ذاریات اور قمر۔ ان سورتوں میں بھی تفسیر دیکھ لیں۔ لوط علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام کے آگ سے صحیح سلامت باہر نکل آنے پر ان پر ایمان لے آئے تھے اور انھوں نے ان کے ساتھ ہی شام کی طرف ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت سے سرفراز فرمایا اور وادئ اردن میں ”سدوم“ نامی بستی اور اس کے گرد و نواح کے لیے مبعوث فرمایا۔ یہ قوم شرک و کفر کے ساتھ ساتھ ایسے فعل بد کی مرتکب تھی جس کا ارتکاب ان سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہیں کیا تھا۔ یہ لوگ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ بدفعلی کے عادی تھے۔ اپنی مجلسوں میں کھلم کھلا برائی کرنا اور ڈاکے مارنا ان کا عام رویہ تھا۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۲۹) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۸۰ تا ۸۳)کی تفسیر۔
➋ {سِيْٓءَ بِهِمْ …: ” سَائَهُ يَسُوْئُهُ “} سے ماضی مجہول ہے، غمگین کرنا، برا لگنا۔ یہاں {” سِيْٓءَ “} کا نائب فاعل لوط علیہ السلام کی طرف لوٹنے والی ضمیر ہے اور فاعل محذوف ہے، گویا عبارت یوں ہے کہ{”سَاءَهُ مَجِيْئُهُمْ“} یعنی ان کے آنے نے اسے مغموم کر دیا۔ فعل مجہول کا معنی ہو گا، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا۔ {” وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا “ ”ذَرْعٌ“} اور {”ذِرَاعٌ“ } بازو یا جانور کی اگلی ٹانگوں کو کہتے ہیں، اونٹ یا کسی بھی جان دار پر اگر بوجھ نہ ہو تو وہ کھلا قدم اٹھاتا ہے اور اگر اس کی استعداد سے زیادہ بوجھ ہو تو وہ بڑی مشکل سے قدم اٹھاتا ہے اور وہ بھی بالکل تنگ سا، اس لیے {”ضَاقَ ذَرْعًا“} سے مراد دل تنگ ہونا لیا جاتا ہے۔ لوط علیہ السلام کے ان کے آنے کی وجہ سے مغموم ہونے کی وجہ مہمان نوازی میں بخل نہ تھا، نبی سے بڑھ کر کون فراخ دل اور سخی ہو سکتا ہے، بلکہ انھیں اپنی قوم کی عادتِ بد کا علم تھا۔ ظاہر ہے فرشتے انسانی شکل میں آئے ہوں تو وہ کس قدر خوبصورت ہوں گے۔ لوط علیہ السلام کو معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں، کیونکہ غیب تو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور لوط علیہ السلام کو یہ بات بتائی نہیں گئی تھی، اس لیے ان کے دل پر جو گزری، اللہ تعالیٰ نے اس کا کمال نقشہ کھینچا ہے۔ پہلے غم ہوا، پھر اپنی بے بسی پر تنگ دل ہوئے، پھر جس طرح کوئی شخص کوئی لفظ کہہ کر دل کو کچھ نہ کچھ تسلی دیتا ہے، یہ کہا کہ یہ دن تو بہت سخت ہے۔ [التحریر والتنویر]
➋ {سِيْٓءَ بِهِمْ …: ” سَائَهُ يَسُوْئُهُ “} سے ماضی مجہول ہے، غمگین کرنا، برا لگنا۔ یہاں {” سِيْٓءَ “} کا نائب فاعل لوط علیہ السلام کی طرف لوٹنے والی ضمیر ہے اور فاعل محذوف ہے، گویا عبارت یوں ہے کہ{”سَاءَهُ مَجِيْئُهُمْ“} یعنی ان کے آنے نے اسے مغموم کر دیا۔ فعل مجہول کا معنی ہو گا، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا۔ {” وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا “ ”ذَرْعٌ“} اور {”ذِرَاعٌ“ } بازو یا جانور کی اگلی ٹانگوں کو کہتے ہیں، اونٹ یا کسی بھی جان دار پر اگر بوجھ نہ ہو تو وہ کھلا قدم اٹھاتا ہے اور اگر اس کی استعداد سے زیادہ بوجھ ہو تو وہ بڑی مشکل سے قدم اٹھاتا ہے اور وہ بھی بالکل تنگ سا، اس لیے {”ضَاقَ ذَرْعًا“} سے مراد دل تنگ ہونا لیا جاتا ہے۔ لوط علیہ السلام کے ان کے آنے کی وجہ سے مغموم ہونے کی وجہ مہمان نوازی میں بخل نہ تھا، نبی سے بڑھ کر کون فراخ دل اور سخی ہو سکتا ہے، بلکہ انھیں اپنی قوم کی عادتِ بد کا علم تھا۔ ظاہر ہے فرشتے انسانی شکل میں آئے ہوں تو وہ کس قدر خوبصورت ہوں گے۔ لوط علیہ السلام کو معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں، کیونکہ غیب تو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور لوط علیہ السلام کو یہ بات بتائی نہیں گئی تھی، اس لیے ان کے دل پر جو گزری، اللہ تعالیٰ نے اس کا کمال نقشہ کھینچا ہے۔ پہلے غم ہوا، پھر اپنی بے بسی پر تنگ دل ہوئے، پھر جس طرح کوئی شخص کوئی لفظ کہہ کر دل کو کچھ نہ کچھ تسلی دیتا ہے، یہ کہا کہ یہ دن تو بہت سخت ہے۔ [التحریر والتنویر]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
77۔ 1 حضرت لوط ؑ کی اس سخت پریشانی کی وجہ مفسرین نے لکھی ہے کہ یہ فرشتے نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے، جو بےریش تھے، جس سے حضرت لوط ؑ نے اپنی قوم کی عادت قبیحہ کے پیش نظر سخت خطرہ محسوس کیا۔ کیونکہ ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ آنے والے یہ نوجوان، مہمان نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو اس قوم کو ہلاک کرنے کے لئے آئے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
77۔ پھر جب ہمارے فرستادہ (فرشتے) لوط کے پاس آئے تو انھیں ان کا آنا ناگوار محسوس ہوا اور دل گھٹ گیا اور کہنے لگے۔ یہ تو مصیبت [87] کا دن ہے
[87] خوش شکل فرشتے اور سیدنا لوطؑ کو خدشہ:۔
سیدنا ابراہیمؑ سے ہو کر یہ فرشتے نہایت خوبصورت جوان اور بے ریش لڑکوں کی شکل میں سیدنا لوطؑ کے پاس آئے جنہیں دیکھ کر سیدنا لوطؑ کے دل میں سخت گھٹن پیدا ہوئی کئی طرح کے خطرات ان کے سامنے منڈلانے لگے بڑا خطرہ یہی تھا کہ یہ مہمان خوبصورت لڑکے ہیں اور میری قوم جس بدکاری میں مبتلا ہے وہ انھیں کبھی چھوڑے گی نہیں اور دوسری فکر یہ تھی کہ اگر میں ان کی مدافعت بھی کرنا چاہوں تو یہ مرے بس کا روگ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لوط علیہ السلام کے گھر فرشتوں کا نزول ٭٭
ابراہیم علیہ السلام کو یہ فرشتے اپنا بھید بتا کر وہاں سے چل دیئے اور لوط علیہ السلام کے پاس ان کے زمین میں یا ان کے مکان میں پہنچے۔ مرد خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے تاکہ قوم لوط کی پوری آزمائش ہو جائے، لوط علیہ السلام ان مہمانوں کو دیکھ کر قوم کی حالت سامنے رکھ کر سٹ پٹا گئے، دل ہی دل میں پیچ و تاب کھانے لگے کہ اگر انہیں مہمان بناتا ہوں تو ممکن ہے خبر پاکر لوگ چڑھ دوڑیں اور اگر مہمان نہیں رکھتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑ جائیں گے۔ زبان سے بھی نکل گیا کہ آج کا دن بڑا ہیبت ناک دن ہے۔ قوم والے اپنی شرارت سے باز نہیں آئیں گے۔ مجھ میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ کیا ہوگا؟
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لوط علیہ السلام اپنی زمین پر تھے کہ یہ فرشتے بصورت انسان آئے اور ان کے مہمان بنے۔ شرما شرمی انکار تو نہ سکے اور انہیں لے کر گھر چلے، راستے میں صرف اس نیت سے کہ یہ اب بھی واپس چلے جائیں ان سے کہا کہ واللہ یہاں کے لوگوں سے زیادہ برے اور خبیث لوگ اور کہیں نہیں ہیں۔ کچھ دور جا کر پھر یہی کہا غرض گھر پہچنے تک چار بار یہی کہا۔ فرشتوں کو اللہ کا حکم بھی یہی تھا کہ ’ جب تک ان کا نبی، ان کی برائی نہ بیان کرے انہیں ہلاک نہ کرنا ‘۔“
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے چل کر دوپہر کو یہ فرشتے نہر سدوم پہنچے وہاں لوط علیہ السلام کی صاحبزادی جو پانی لینے گئی تھیں، مل گئیں۔ ان سے انہوں نے پوچھا کہ یہاں ہم کہیں ٹھہر سکتے ہیں۔ اس نے کہا آپ یہیں رکیئے میں واپس آ کر جواب دوں گی۔ انہیں ڈر لگا کہ اگر قوم والوں کے ہاتھ یہ لگ گئے تو ان کی بڑی بےعزتی ہوگی۔ یہاں آ کر والد صاحب سے ذکر کیا کہ شہر کے دروازے پر چند پردیسی نوعمر لوگ ہیں، میں نے تو آج تک نہیں دیکھے، جاؤ اور انہیں ٹھہراؤ ورنہ قوم والے انہیں ستائیں گے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لوط علیہ السلام اپنی زمین پر تھے کہ یہ فرشتے بصورت انسان آئے اور ان کے مہمان بنے۔ شرما شرمی انکار تو نہ سکے اور انہیں لے کر گھر چلے، راستے میں صرف اس نیت سے کہ یہ اب بھی واپس چلے جائیں ان سے کہا کہ واللہ یہاں کے لوگوں سے زیادہ برے اور خبیث لوگ اور کہیں نہیں ہیں۔ کچھ دور جا کر پھر یہی کہا غرض گھر پہچنے تک چار بار یہی کہا۔ فرشتوں کو اللہ کا حکم بھی یہی تھا کہ ’ جب تک ان کا نبی، ان کی برائی نہ بیان کرے انہیں ہلاک نہ کرنا ‘۔“
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے چل کر دوپہر کو یہ فرشتے نہر سدوم پہنچے وہاں لوط علیہ السلام کی صاحبزادی جو پانی لینے گئی تھیں، مل گئیں۔ ان سے انہوں نے پوچھا کہ یہاں ہم کہیں ٹھہر سکتے ہیں۔ اس نے کہا آپ یہیں رکیئے میں واپس آ کر جواب دوں گی۔ انہیں ڈر لگا کہ اگر قوم والوں کے ہاتھ یہ لگ گئے تو ان کی بڑی بےعزتی ہوگی۔ یہاں آ کر والد صاحب سے ذکر کیا کہ شہر کے دروازے پر چند پردیسی نوعمر لوگ ہیں، میں نے تو آج تک نہیں دیکھے، جاؤ اور انہیں ٹھہراؤ ورنہ قوم والے انہیں ستائیں گے۔
اس بستی کے لوگوں نے لوط علیہ السلام سے کہہ رکھا تھا کہ دیکھو کسی باہر والے کو تم اپنے ہاں ٹھہرایا نہ کرو۔ ہم آپ سب کچھ کر لیا کریں گے۔ آپ علیہ السلام نے جب یہ حالت سنی تو جا کر چپکے سے انہیں اپنے گھر لے آئے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ مگر آپ علیہ السلام کی بیوی جو قوم سے ملی ہوئی تھی، اسی کے ذریعہ بات پھوٹ نکلی۔ اب کیا تھا۔ دوڑے بھاگے آ گئے، جسے دیکھو خوشیاں مناتا جلدی جلدی لپکتا چلا آتا ہے ان کی تو یہ خو خصلت ہو گئی تھی اس سیاہ کاری کو تو گویا انہوں نے عادت بنا لیا تھا۔
اس وقت اللہ کے نبی کریم علیہ السلام انہیں نصیحت کرنے لگے کہ ”تم اس بد خصلت کو چھوڑو اپنی خواہشیں عورتوں سے پوری کرو۔“ «بَنَاتِي» یعنی میری لڑکیاں۔ اس لیے فرمایا کہ ’ ہر نبی اپنی امت کا گویا باپ ہوتا ہے ‘۔
قرآن کریم کی ایک اور آیت میں ہے کہ «قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [15-الحجر:70] ’ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ہم تو پہلے ہی آپ علیہ السلام کو منع کر چکے تھے کہ کسی کو اپنے ہاں نہ ٹھہرایا کرو ‘۔
لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھایا اور دنیا آخرت کی بھلائی انہیں سجھائی اور کہا کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [15-الحجر:72-71] ’ عورتیں ہی اس بات کے لیے موزوں ہیں، ان سے نکاح کر کے اپنی خواہش پوری کرنا ہی پاک کام ہے ‘۔
اس وقت اللہ کے نبی کریم علیہ السلام انہیں نصیحت کرنے لگے کہ ”تم اس بد خصلت کو چھوڑو اپنی خواہشیں عورتوں سے پوری کرو۔“ «بَنَاتِي» یعنی میری لڑکیاں۔ اس لیے فرمایا کہ ’ ہر نبی اپنی امت کا گویا باپ ہوتا ہے ‘۔
قرآن کریم کی ایک اور آیت میں ہے کہ «قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [15-الحجر:70] ’ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ہم تو پہلے ہی آپ علیہ السلام کو منع کر چکے تھے کہ کسی کو اپنے ہاں نہ ٹھہرایا کرو ‘۔
لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھایا اور دنیا آخرت کی بھلائی انہیں سجھائی اور کہا کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [15-الحجر:72-71] ’ عورتیں ہی اس بات کے لیے موزوں ہیں، ان سے نکاح کر کے اپنی خواہش پوری کرنا ہی پاک کام ہے ‘۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی لڑکیوں کی نسبت یہ فرمایا تھا نہیں بلکہ نبی علیہ السلام اپنی پوری امت کا گویا باپ ہوتا ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔
امام ابن جریج فرماتے ہیں ”یہ بھی نہ سمجھنا چاہیئے کہ لوط علیہ السلام نے عورتوں سے بے نکاح ملاپ کرنے کو فرمایا ہو۔ نہیں مطلب آپ کا ان سے نکاح کر لینے کے حکم کا تھا۔“
فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو میرا کہا مانو، عورتوں کی طرف رغبت کرو، ان سے نکاح کر کے حاجت روائی کرو۔ مردوں کی طرف اس رغبت سے نہ آؤ اور خصوصاً یہ تو میرے مہمان ہیں، میری عزت کا خیال کرو کیا تم میں ایک بھی سمجھدار، نیک راہ یافتہ بھلا آدمی نہیں۔
اس کے جواب میں ان سرکشوں نے کہا کہ ہمیں عورتوں سے کوئی سروکار ہی نہیں یہاں بھی «بَنَاتِكَ» یعنی تیری لڑکیاں کے لفظ سے مراد قوم کی عورتیں ہیں۔ اور تجھے معلوم ہے کہ ہمارا ارادہ کیا ہے یعنی ہمارا ارادہ ان لڑکوں سے ملنے کا ہے۔ پھر جھگڑا اور نصیحت بے سود ہے۔
امام ابن جریج فرماتے ہیں ”یہ بھی نہ سمجھنا چاہیئے کہ لوط علیہ السلام نے عورتوں سے بے نکاح ملاپ کرنے کو فرمایا ہو۔ نہیں مطلب آپ کا ان سے نکاح کر لینے کے حکم کا تھا۔“
فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو میرا کہا مانو، عورتوں کی طرف رغبت کرو، ان سے نکاح کر کے حاجت روائی کرو۔ مردوں کی طرف اس رغبت سے نہ آؤ اور خصوصاً یہ تو میرے مہمان ہیں، میری عزت کا خیال کرو کیا تم میں ایک بھی سمجھدار، نیک راہ یافتہ بھلا آدمی نہیں۔
اس کے جواب میں ان سرکشوں نے کہا کہ ہمیں عورتوں سے کوئی سروکار ہی نہیں یہاں بھی «بَنَاتِكَ» یعنی تیری لڑکیاں کے لفظ سے مراد قوم کی عورتیں ہیں۔ اور تجھے معلوم ہے کہ ہمارا ارادہ کیا ہے یعنی ہمارا ارادہ ان لڑکوں سے ملنے کا ہے۔ پھر جھگڑا اور نصیحت بے سود ہے۔