ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیۡدِیَہُمۡ لَا تَصِلُ اِلَیۡہِ نَکِرَہُمۡ وَ اَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴿ؕ۷۰﴾
تو جب ان کے ہاتھوں کو دیکھا کہ اس کی طرف نہیں پہنچتے تو انھیں اوپرا جانا اور ان سے ایک قسم کا خوف محسوس کیا، انھوں نے کہا نہ ڈر! بے شک ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ En
جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (یعنی وہ کھانا نہیں کھاتے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا۔ (فرشتوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجیے، ہم قوم لوط کی طرف (ان کے ہلاک کرنے کو) بھیجے گئے ہیں
En
اب جو دیکھا کہ ان کے تو ہاتھ بھی اس کی طرف نہیں پہنچ رہے تو ان سے اجنبیت محسوس کرکے دل ہی دل میں ان سے خوف کرنے لگے، انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے ہوئے آئے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 70) ➊ { فَلَمَّا رَاٰ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ …:} ابراہیم علیہ السلام نے صرف کھانا پیش ہی نہیں کیا بلکہ انھیں کھانے کے لیے اصرار بھی کیا: «{قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ [الذاریات: ۲۷] فرمایا کیا تم کھاتے نہیں ہو؟ پھر بھی جب انھوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تو دل میں ایک قسم کا خوف محسوس کیا۔ { خِيْفَةً } کی تنوین کی وجہ سے ایک قسم کا خوف ترجمہ کیا گیا ہے۔ خوف کی وجہ یہ تھی کہ ان کے علاقے میں اگر کوئی اجنبی آتا اور وہ مہمانی میں پیش کیا ہوا کھانا قبول نہ کرتا تو اس کے متعلق سمجھا جاتا کہ وہ کسی برے ارادے سے آیا ہے، یا یہ بھی ہو سکتا ہے اور شاید یہی زیادہ موقع کے مناسب ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی نے ان کے کھانا تناول نہ کرنے کی وجہ سے ان کے فرشتے ہونے کو بھانپ لیا ہو اور وہ اس بنا پر ڈر گئے ہوں کہ یہ ان کی بستی پر عذاب کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ (شوکانی) فرشتوں نے ان کے خوف کو بھانپ لیا، بلکہ سورۂ حجر (۵۲) میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے صاف کہہ دیا: «{ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ ہم توتم سے خوف زدہ ہیں۔
➋ { قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍ:} فرشتوں نے کہا، آپ مت ڈریں، ہمیں (آپ کی بستی پر نہیں بلکہ) لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس سے انبیائے کرام علیھم السلام کے عالم الغیب ہونے کی اور ان کے کائنات پر اختیار رکھنے کی صاف نفی ہو رہی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

70۔ 1 حضرت ابرا ہیم ؑ نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو انہوں کو خوف محسوس ہوا۔ کہتے ہیں کہ ان کے ہاں یہ چیز معروف تھی کہ آئے ہوئے مہمان اگر ضیافت سے فائدہ نہ اٹھاتے تو سمجھا جاتا تھا کی آنے والے مہمان کسی اچھی نیت سے نہیں آئے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے پیغمبروں کو غیب کا علم نہیں ہوتا۔ اگر ابراہیم ؑ غیب دان ہوتے تو بھنا ہوا بچھڑا بھی نہ لاتے اور ان سے خوف بھی محسوس نہ کرتے۔ 70۔ 2 اس خوف کو فرشتوں نے محسوس کیا، یا ان کے آثار سے جو ایسے موقع پر انسان کے چہرے پر ظاہر ہوتے ہیں یا اپنی گفتگو میں حضرت ابراہیم ؑ نے اظہار فرمایا، جیسا کہ دوسرے مقام پر وضاحت ہے ' ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے ' چناچہ فرشتوں نے کہا ڈرو نہیں، آپ جو سمجھ رہے ہیں، ہم وہ نہیں ہیں بلکہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور ہم قوم لوط ؑ کی طرف جا رہے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

70۔ پھر جب دیکھا کہ ان (مہمانوں) کے ہاتھ کھانے کے طرف نہیں بڑھتے تو انھیں مشتبہ سمجھا اور دل [81] میں خوف محسوس کرنے لگے (یہ صورت حال دیکھ کر) وہ کہنے لگے: ڈرو نہیں! ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں
[81] فرشتوں کا کھانے سے انکار اور ابراہیمؑ کا خدشہ:۔
جب ان فرشتوں نے کھانے کی طرف ہاتھ تک نہ بڑھائے تو سیدنا ابراہیمؑ کو دال میں کچھ کالا محسوس ہوا اور ان سے خوف آنے لگا۔ بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ یہ ڈرا اس وجہ سے تھا کہ ان لوگوں میں یہ دستور تھا کہ جو مہمان کھانا نہ کھاتا اس کے متعلق یہ سمجھا جاتا کہ وہ کسی بری نیت سے آیا ہے ممکن ہے یہ وجہ بھی ہو۔ مگر فرشتوں کا جواب اس بات کی تائید نہیں کرتا جو یہ تھا کہ ”ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں“ بات در اصل یہ نہ تھی کہ فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا یا کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھانا یا فرشتوں کو پہچان نہ سکنا ایسی باتیں نہیں تھیں جن سے سیدنا ابراہیمؑ ڈر جاتے اور ایسے واقعات اولوالعزم انبیاء سے پیش آتے ہی رہتے ہیں کہ فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے جس کا علم انھیں بعد میں ہوتا ہے سیدنا ابراہیمؑ کے ڈر کی اصل وجہ: بلکہ اصل بات یہ تھی کہ فرشتے چونکہ قوم لوط کو تباہ کرنے کی غرض سے آئے تھے اس لیے ان کے چہروں پر غصہ کے آثار نمایاں تھے لہٰذا انھیں یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ شاید مجھ سے یا میرے گھر والوں سے ایسی کوئی تقصیر ہو گئی ہے جس کی وجہ سے یہ فرشتے غضب ناک دکھائی دے رہے ہیں پھر جب فرشتوں نے یہ وضاحت کر دی کہ آپ کے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں تو سیدنا ابراہیمؑ کا اندیشہ دور ہو گیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ابراہیم علیہ السلام کی بشارت اولاد اور فرشتوں سے گفتگو ٭٭
ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو فرشتے بطور مہمان بشکل انسان آتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کی خوشخبری اور ابراہیم علیہ السلام کے ہاں فرزند ہونے کی بشارت لے کر اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ وہ آ کر سلام کرتے ہیں۔ آپ علیہ السلام ان کے جواب میں سلام کہتے ہیں۔ اس لفظ کو پیش سے کہنے میں علم بیان کے مطابق ثبوت و دوام پایا جاتا ہے۔
سلام کے بعد ہی ابراہیم علیہ السلام ان کے سامنے مہمان داری پیش کرتے ہیں۔ بچھڑے کا گوشت جسے گرم پتھروں پر سینک لیا گیا تھا، لاتے ہیں۔ جب دیکھا کہ ان نو وارد مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے ہی نہیں، اس وقت ان سے کچھ بدگمان سے ہو گئے اور کچھ دل میں خوف کھانے لگے۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہلاکت قوم لوط کے لیے جو فرشتے بھیجے گئے وہ بصورت نوجوان انسان زمین پر آئے۔ ابراہیم علیہ السلام کے گھر پر اترے آپ نے انہیں دیکھ کر بڑی تکریم کی، «فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:26،27]‏‏‏‏ ’ جلدی جلدی اپنا بچھڑا لے کر اس کو گرم پتھوں پر سینک کر لا حاضر کیا اور خود بھی ان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گئے ‘، آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ کھلانے پلانے کے کام کاج میں لگ گئیں۔
ظاہر ہے کہ فرشتے کھانا نہیں کھاتے۔ وہ کھانے سے رکے اور کہنے لگے ابراہیم علیہ السلام ہم جب تلک کسی کھانے کی قیمت نہ دے دیں کھایا نہیں کرتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں قیمت دے دیجئیے انہوں نے پوچھا کیا قیمت ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر کھانا شروع کرنا اور کھانا کھا کر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہنا یہی اس کی قیمت ہے۔‏‏‏‏
اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے میکائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا اور دل میں کہا کہ فی الواقع یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنا خلیل بنائے۔‏‏‏‏ اب بھی جو انہوں نے کھانا شروع نہ کیا تو آپ علیہ السلام کے دل میں طرح طرح کے خیالات گزرنے لگے۔
سارہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خود ابراہیم علیہ السلام ان کے اکرام میں یعنی ان کے کھانے کی خدمت میں ہیں، تاہم وہ کھانا نہیں کھاتے تو ان مہمانوں کی عجیب حالت پر انہیں بے ساختہ ہنسی آگئی۔
ابراہیم علیہ السلام کو خوف زدہ دیکھ کر فرشتوں نے کہا آپ علیہ السلام خوف نہ کیجئے۔‏‏‏‏ اب دہشت دور کرنے کے لیے اصلی واقعہ کھول دیا کہ ہم کوئی انسان نہیں فرشتے ہیں۔ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں کہ انہیں ہلاک کریں۔‏‏‏‏
سارہ رضی اللہ عنہا کو قوم لوط کی ہلاکت کی خبر نے خوش کر دیا۔ اسی وقت انہیں ایک دوسری خوشخبری بھی ملی کہ اس ناامیدی کی عمر میں تمہارے ہاں بچہ ہوگا۔ انہیں عجب تھا کہ جس قوم پر اللہ کا عذاب اتر رہا ہے، وہ پوری غفلت میں ہے۔
الغرض فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو اسحاق نامی بچہ پیدا ہونے کی بشارت دی۔ اور پھر اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام کے ہونے کی بھی ساتھ ہی خوشخبری سنائی۔
اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ کیونکہ اسحاق علیہ السلام کی تو بشارت دی گئی تھی اور ساتھ ہی ان کے ہاں بھی اولاد ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ یہ سن کر سارہ علیہ السلام نے عورتوں کی عام عادت کے مطابق اس پر تعجب ظاہر کیا کہ میاں بیوی دونوں کے اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں اولاد کیسی؟ یہ تو سخت حیرت کی بات ہے۔
فرشتوں نے کہا امر اللہ میں کیا حیرت؟ تم دونوں کو اس عمر میں ہی اللہ بیٹا دے گا گو تم سے آج تک کوئی اولاد نہیں ہوئی اور تمہارے میاں کی عمر بھی ڈھل چکی ہے۔ لیکن اللہ کی قدرت میں کمی نہیں وہ جو چاہے ہو کر رہتا ہے، اے نبی علیہ السلام کے گھر والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں، تمہیں اس کی قدرت میں تعجب نہ کرنا چاہے۔ اللہ تعالیٰ تعریفوں والا اور بزرگ ہے۔‏‏‏‏