تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ:} اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ آسمان و زمین پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا، پھر سب سے پہلے کیا پیدا کیا؟ اس کے متعلق مختلف روایات آئی ہیں۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اہل یمن کے کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر (کائنات) کی ابتدا کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَانَ اللّٰهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهٗ وَكَانَ عَرْشُهٗ عَلَی الْمَاءِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَكَتَبَ فِيْ الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ] [بخاری، التوحید، باب: «و کان عرشہ علی الماء» : ۷۴۱۸] ”اللہ تعالیٰ تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا، پھر اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور ذکر (لوح محفوظ) میں ہر چیز لکھ دی۔“ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَتَبَ اللّٰهُ مَقَادِيْرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَّخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِيْنَ أَلْفَ سَنَةٍ قَالَ وَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاءِ] [مسلم، القدر، باب حجاج آدم و موسٰی صلی اللہ علیہما وسلم: ۲۶۵۳] ”اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیریں آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دیں اور اس کا عرش پانی پر تھا۔“
سنن ترمذی (۳۱۰۹) اور ابن ماجہ (۱۸۲) کی روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”خلق کی پیدائش سے پہلے ہمارا پروردگار کہاں تھا؟“ اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَانَ فِيْ عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ] { ”عَمَاءٌ“} کا معنی نہایہ میں لکھا ہے، بادل، پتلا سا بادل یا نامعلوم چیز، جس کی حقیقت سے ہم ناواقف گویا اعمیٰ ہیں۔ حدیث کا ترجمہ ہے: ”اللہ تعالیٰ ایک عماء (نامعلوم چیز) میں تھا، اس کا اوپر خالی تھا اور اس کے نیچے بھی خلا تھا۔“ مگر شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ اور ان سے پہلے رازی اور دوسرے اہل علم رحمۃ اللہ علیھم نے اسے ضعیف کہا ہے، جبکہ استدلال خصوصاً عقیدے میں اور اتنے اہم مسئلہ میں صحیح حدیث ہی سے ہو سکتا ہے۔ صحیح حدیث جس سے اس مسئلے پر روشنی پڑتی ہے، یہ ہے کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ تَعَالَی الْقَلَمُ فَقَالَ لَهُ اكْتُبْ فَقَالَ رَبِّ وَ مَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ اكْتُبْ مَقَادِيْرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةُ] [أبوداوٗد، السنۃ، باب في القدر: ۴۷۰۰۔ ترمذی: ۳۳۱۹] ”بے شک اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جو پیدا کیا قلم تھا تو اسے فرمایا: ”لکھ۔“ اس نے کہا: ”اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟“ فرمایا: ”ہر چیز کی تقدیریں لکھ، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔“ یہ حدیث صحیح ہے، شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ ہمارے شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہی (بات) صحیح ہے، البتہ شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ نے قلم کی پیدائش اور تقدیر کا لکھا جانا پانی اور عرش کے بعد لکھا ہے۔ شاید ان کا استدلال اس آیت: «{ وَ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ }» سے ہو۔ (واللہ اعلم) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی قلم سے پہلے عرش اور پانی کے پیدا کیے جانے کا ذکر کیا ہے اور اس کے کچھ دلائل ذکر کیے ہیں۔ دیکھیے فتح الباری میں {” كِتَابُ بَدْءِ الْخَلْقِ “} کا پہلا باب۔ ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا، مگر وہ روایت ضعیف ہے۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے {”المنار المنيف “} میں لکھا ہے کہ عقل کے متعلق تمام احادیث باطل ہیں۔
➋ {لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا:} اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ ہر بات کا علم ہے، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ آئندہ کیا ہو گا، مگر آئندہ ہونے والی چیز کے متعلق یہ علم کہ وہ واقع ہو چکی ہے، اس کے واقع ہونے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ آزمانے کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق جو کچھ آئندہ ہونا ہے وہ وجود میں آ کر سب کے سامنے آ جائے اور نتیجہ دوسروں کے سامنے بھی ظاہر ہو جائے۔ قرآن مجید میں {” لِيَعْلَمَ “} اور {” لِيَبْلُوَكُمْ “} وغیرہ الفاظ جہاں بھی آئے ہیں ان سے مراد یہی ہے۔
➌ {اَحْسَنُ عَمَلًا:} یعنی آزمائش یہی نہیں کہ عمل میں برا کون ہے اور اچھا کون، بلکہ اللہ تعالیٰ ایسا قدر دان ہے کہ عمل میں اچھائی کے درجات کو بھی ملحوظ رکھتا ہے کہ زیادہ اچھا کون ہے، جیسے فرمایا: «{ هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ }» [آل عمران: ۱۶۳] ”وہ لوگ (اللہ کی رضا چاہنے والے) اللہ کے ہاں کئی درجوں والے ہیں اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔“ بلکہ برے عمل میں بھی سب کو ایک جیسا نہیں رکھا، منافقین آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہیں، جبکہ ابو طالب صرف آگ کے جوتے پہنے ہوئے ہے۔ رہی یہ بات کہ کیسے پتا چلے گا کہ میں اچھا عمل کر رہا ہوں تو یہ صرف اللہ تعالیٰ کے بتانے ہی سے معلوم ہو سکتا ہے، اس لیے اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ اچھے عمل کے لیے دو شرطیں ہیں، ایک یہ کہ عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، دوسری یہ کہ کتاب و سنت کے مطابق ہو، کیونکہ اس میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا ہے۔
➍ {وَ لَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ …:} اللہ تعالیٰ کے علم، قدرت اور خلق (پیدا کرنے) جیسی صفات کو بادلائل ذکر کرنے کے بعد بھی اگر آپ ان مشرکوں سے کہیں کہ اتنی زبردست قوتوں والے رب نے تمھیں موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے علم، قدرت، زمین و آسمان اور خود ان کو پیدا کرنے اور عرش عظیم کا مالک ہونے کو جاننے اور ماننے کے باوجود دوبارہ زندہ کرنے کی بات کرنے پر عقل و دانش سے مکمل عاری ہو کر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں، یعنی دوبارہ زندہ ہونے کی کچھ حقیقت نہیں، جو لوگ اسے مان بیٹھے ہیں ان پر جادو ہو گیا ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ پھر تم اس جادو کی زد میں آنے سے کیسے بچ گئے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسند احمد میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو تمیم! تم خوشخبری قبول کرو۔“ انہوں نے کہا خوشخبریاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا دیں اب کچھ دلوائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اہل یمن تم قبول کرو۔“ انہوں نے کہا ہاں ہمیں قبول ہے۔ مخلوق کی ابتداء تو ہمیں سنائیے کہ کس طرح ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پہلے اللہ تھا۔ اس کا عرش پانی کے اوپر تھا۔“ اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کا تذکرہ لکھا راوی حدیث سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا ہی فرمایا تھا جو کسی نے آن کر مجھے خبر دی کہ تیری اونٹنی زانو کھلوا کر بھاگ گئی، میں اسے ڈھونڈنے چلا گیا۔ پھر مجھے نہیں معلوم کہ کیا بات ہوئی؟ } یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3191]
مسلم کی حدیث میں ہے { زمین و آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2653]
صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر کے موقع پر ایک قدسی حدیث لائے ہیں کہ { اے انسان! تو میری راہ میں خرچ کر میں تجھے دوں گا اور فرمایا ’ اللہ کا ہاتھ اوپر ہے ‘۔ دن رات کا خرچ اس میں کوئی کمی نہیں لاتا۔ خیال تو کرو کہ آسمان و زمین کی پیدائش سے اب تک کتنا کچھ خرچ کیا ہو گا لیکن اس کے داہنے ہاتھ میں جو تھا وہ کم نہیں ہوتا اس کا عرش پانی پر تھا۔ اس کے ہاتھ میں میزان ہے جھکاتا ہے اور اونچا کرتا ہے } ۱؎ [صحیح بخاری:4684]
مسند میں ہے { ابورزین لقیط بن عامر بن متفق عقیلی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مخلوق پیدائش کرنے سے پہلے ہمارا پروردگار کہاں تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عما میں نیچے بھی ہوا اور اوپر بھی ہوا پھر عرش کو اس کے بعد پیدا کیا“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3109،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ روایت ترمذی کتاب التفسیر میں بھی ہے۔ سنن ابن ماجہ میں بھی ہے۔
ربیع بن انس کہتے ہیں کہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ جب آسمان و زمین کو پیدا کیا تو اس پانی کے دوحصے کر دیئے۔ نصف عرش کے نیچے یہی بحر مسجود ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”بوجہ بلندی کے عرش کو عرش کہا جاتا ہے۔“ سعد طائی فرماتے ہیں کہ ”عرش سرخ یاقوت کا ہے۔“
محمد بن اسحاق فرماتے ہیں اللہ اسی طرح تھا جس طرح اس نے اپنے نفس کریم کا وصف کیا۔ اس لیے کہ کچھ نہ تھا، پانی تھا، اس پر عرش تھا، عرش پر «ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، وَالْعِزَّةِ وَالسُّلْطَانِ، وَالْمُلْكِ وَالْقُدْرَةِ، وَالْحِلْمِ وَالْعِلْمِ، وَالرَّحْمَةِ وَالنِّعْمَةِ، الْفَعَّالُ لِمَا يُرِيدُ» تھا جو جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا کہ ”پانی کس چیز پر تھا؟“ آپ نے فرمایا ”ہوا کی پیٹھ پر۔“
اور آیت میں ہے «اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ۱؎ [23-المؤمنون:116، 115] ’ کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہ جاؤ گے؟ اللہ جو سچا مالک ہے وہی حق ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ» ۱؎ [51-الذاريات:56] ’ انسانوں اور جنوں کو میں نے صرف اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے وہ تمہیں آزما رہے ہیں کہ تم میں سے اچھے عمل والے کون ہیں؟ ‘
یہ نہیں فرمایا کہ زیادہ عمل والے کون ہیں؟ اس لیے کہ عمل حسن وہ ہوتا ہے جس میں خلوص ہو اور شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری ہو۔ ان دونوں باتوں میں سے اگر ایک بھی نہ ہو تو وہ عمل بے کار اور غارت ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! اگر آپ انہیں کہیں کہ تم مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے جس اللہ نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرے گا تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم اسے نہیں مانتے حالانکہ قائل بھی ہیں کہ زمین آسمان کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘۔
ظاہر ہے کہ شروع جس پر گراں نہ گزرا۔ اس پر دوبارہ کی پیدائش کیسے گراں گزرے گی؟ یہ توبہ نسبت اول مرتبہ کے بہت ہی آسان ہے۔
اور آیت میں ہے کہ «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ» ۱؎ [31-لقمان:28] ’ تم سب کا بنانا اور مار کر زندہ کرنا مجھ پر ایسا ہی ہے جیسا ایک کا ‘۔
لیکن یہ لوگ اسے نہیں مانتے تھے اور اسے کھلے جادو سے تعبیر کرتے تھے۔ کفر و عناد سے اس قول کو جادو کا اثر خیال کرتے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر ہم عذاب و پکڑ کو ان سے کچھ مقرر مدت تک کے لیے مؤخر کر دیں تو یہ اس کو نہ آنے والا جان کر جلدی کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں کہ عذاب ہم سے مؤخر کیوں ہو گئے؟ ان کے دل میں کفر و شرک اس طرح بیٹھ گیا ہے کہ اس سے چھٹکارا ہی نہیں ملتا ‘۔
امت کا لفظ قرآن و حدیث میں کئی ایک معنی میں مستعمل ہے۔ اس سے مراد مدت بھی ہے اس آیت اور «وَقَالَ الَّذِيْ نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِيْـلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ» ۱؎ [12-یوسف:45] جو سورۃ یوسف میں ہے یہی معنی ہیں۔ امام و مقتدی کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے۔
جیسے مسلم کی حدیث ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت کا جو یہودی نصرانی میرا نام سنے اور مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جہنمی ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153] ہاں تابعدار امت وہ ہے جو رسولوں کو مانے۔
جیسے «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ» ۱؎ [3-آل عمران:110] والی آیت میں۔
صحیح حدیث میں ہے { میں کہوں گا «أُمَّتِي أُمَّتِي» }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7510]
اسی طرح امت کا لفظ فرقے اور گروہ کے لیے بھی مستعمل ہوتا ہے جیسے «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:159] اور جیسے «مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَاىِٕمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَاءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:113] میں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنه {خَلَقَ السمواتِ والأرضَ في ستَّة أيام}: أولها يوم الأحد، وآخرُها يوم الجمعة. {و} حين خلق السماواتِ والأرضَ، {كان عرشُهُ على الماء}: فوق السماء السابعة؛ فبعد أن خلقَ السماوات والأرض؛ استوى على عرشه، يدبِّر الأمور ويصرِّفها كيف شاء من الأحكام القدريَّة والأحكام الشرعيَّة. ولهذا قال: {لِيَبْلُوَكم أيُّكم أحسنُ عملاً}؛ أي: ليمتَحِنَكم إذ خَلَقَ لكم ما في السماوات والأرض بأمره ونهيه، فينظر أيُّكم أحسنُ عملاً. قال الفضيل بن عِياض رحمه الله: أخلصُه وأصوبُه. قيل: يا أبا علي! ما أخلصه وأصوبه؟ فقال: إنَّ العمل إذا كان خالصاً ولم يكن صواباً؛ لم يُقْبَلْ، وإذا كان صواباً ولم يكن خالصاً؛ لم يُقْبَلْ، حتى يكون خالصاً صواباً. والخالص: أن يكون لوجه الله، والصواب: أن يكون متَّبِعاً فيه الشرع والسُّنة. وهذا كما قال تعالى: {وما خلقتُ الجِنَّ والإنس إلا ليعبدونِ}، وقال تعالى: {اللهُ الذي خلق سبع سمواتٍ ومن الأرض مثلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الأمر بينَهنَّ لِتَعْلموا أنَّ الله على كلِّ شيءٍ قديرٌ وأن الله قد أحاطَ بكلِّ شيءٍ علماً}: فالله تعالى خلق الخلق لعبادته ومعرفته بأسمائه وصفاته، وأمرهم بذلك؛ فمن انقاد وأدَّى ما أمِرَ به؛ فهو من المفلحين، ومن أعرض عن ذلك؛ فأولئك هم الخاسرون، ولا بدَّ أن يجمَعَهم في دار يجازيهم على ما أمرهم به ونهاهم. ولهذا ذكر الله تكذيب المشركين بالجزاء، فقال: {ولئن قلتَ إنَّكم مبعوثون من بعدِ الموت لَيقولَنَّ الذين كفروا إنْ هذا إلاَّ سحرٌ مبينٌ}؛ أي: ولئن قلتَ لهؤلاء وأخبرتَهم بالبعث بعد الموت؛ لم يصدِّقوك، بل كذَّبوك أشدَّ التكذيب ، وقدحوا فيما جئت به، وقالوا: {إنْ هذا إلا سحرٌ مُبين}: ألا وهو الحقُّ المبين.