اِنۡ نَّقُوۡلُ اِلَّا اعۡتَرٰىکَ بَعۡضُ اٰلِہَتِنَا بِسُوۡٓءٍ ؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اُشۡہِدُ اللّٰہَ وَ اشۡہَدُوۡۤا اَنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾
ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تجھے کوئی آفت پہنچا دی ہے۔ اس نے کہا میں تو اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں اس سے بری ہوں جو تم شریک بناتے ہو۔
En
ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا کر (دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں اس سے بیزار ہوں
En
بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تو ہمارے کسی معبود کے برے جھپٹے میں آگیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواه کرتا ہوں اور تم بھی گواه رہو کہ میں تو اللہ کے سوا ان سب سے بیزار ہوں، جنہیں تم شریک بنا رہے ہو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 55،54) ➊ { اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ: } یہ چوتھی بات ہے جو انھوں نے ہود علیہ السلام کو جھٹلانے کے ساتھ مزید توہین اور مذاق کے لیے کہی۔ {”عَرَا يَعْرُوْ “} اور {”اِعْتَرٰي يَعْتَرِيْ“} پیش آنا، پہنچنا، باء کے ساتھ متعدی ہو کر پہنچانا کے معنی میں ہو گیا، یعنی ہمارے کسی ایک آدھ معبود نے تجھے کوئی آفت پہنچا دی ہے، جو ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے، اگر سب کی مار پڑ جاتی تو معلوم نہیں تیرا کیا بنتا۔ افسوس! یہی کسی بزرگ کی مار کا تصور آج مسلمانوں میں بھی آگیا ہے، حالانکہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ کے سوا کوئی زندہ یا مردہ ہستی کسی کا کچھ نہ بگاڑ سکتی ہے نہ بنا سکتی ہے۔
➋ { قَالَ اِنِّيْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ …:} یعنی میرا تمھارے ان بتوں سے اور اللہ کے سوا کسی معبود سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ میں ہر آن ان کا انکار اور ان سے اظہار براء ت کرتا ہوں۔
➌ {فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ:} یعنی یہ جو تم کہتے ہو کہ تم پر ہمارے کسی معبود کی مار پڑ گئی ہے تو ایک آدھ کے بجائے اگر تم اور تمھارے یہ سب معبود مل کر بھی میرا کچھ بگاڑ سکتے ہیں تو بگاڑ لیں اور مجھے ذرا مہلت نہ دیں، ورنہ جان لو کہ تم بھی جھوٹے اور تمھارے یہ معبود بھی غلط۔
ہود علیہ السلام کا یہ کلام ان کی قوم کی دوسری فضول باتوں کے علاوہ اس بات کا بھی جواب ہے کہ تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل، یعنی معجزہ نہیں لایا۔ معجزہ اور نشانی کیا چیز ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر معجزہ کی روح وہ چیلنج ہوتا ہے جو صاحب معجزہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ مثلاً صالح علیہ السلام کی اونٹنی، ابراہیم علیہ السلام کا معجزہ ان کے لیے آگ کا گلزار بن جانا، مگر یہ معجزہ بھی کیا کم ہے کہ اکیلا شخص پوری قوم کو للکار رہا ہے کہ میں تم سب کو اور تمھارے خداؤں کو کچھ نہیں سمجھتا۔ تم سب مل کر میرا جو بگاڑ سکتے ہو بگاڑ لو اور اس قوم کو للکار رہا ہے جو نہایت سخت گیر اور رحم سے نا آشنا تھے، جن کے بارے میں آتا ہے: «{وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ }» [الشعراء:۱۳۰] ”اور جب تم پکڑتے ہو تو بہت بے رحم ہو کر پکڑتے ہو۔“ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اتنی قوت والے تھے کہ ان کے بعد ویسی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی، فرمایا: «{ الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ }» [الفجر: ۸] ”وہ کہ ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔“ جب طوفان سے ہلاک ہوئے تو: «{ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ }» [الحاقۃ: ۷] ”گویا وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے تھے۔“ صرف ایک شخص پوری قوم کو للکار رہا ہے، جو اس کے خون کی پیاسی ہے، جس کے معبودوں کو اور پوری قوم کو اس نے جاہل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سب مل کر میرے خلاف جو کچھ کرسکتے ہو کر لو اور پوری قوم باتیں تو بناتی ہے، مگر اس کا کچھ بگاڑ نہ سکی، یہ کھلا معجزہ نہیں تو کیا ہے؟
➋ { قَالَ اِنِّيْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ …:} یعنی میرا تمھارے ان بتوں سے اور اللہ کے سوا کسی معبود سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ میں ہر آن ان کا انکار اور ان سے اظہار براء ت کرتا ہوں۔
➌ {فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ:} یعنی یہ جو تم کہتے ہو کہ تم پر ہمارے کسی معبود کی مار پڑ گئی ہے تو ایک آدھ کے بجائے اگر تم اور تمھارے یہ سب معبود مل کر بھی میرا کچھ بگاڑ سکتے ہیں تو بگاڑ لیں اور مجھے ذرا مہلت نہ دیں، ورنہ جان لو کہ تم بھی جھوٹے اور تمھارے یہ معبود بھی غلط۔
ہود علیہ السلام کا یہ کلام ان کی قوم کی دوسری فضول باتوں کے علاوہ اس بات کا بھی جواب ہے کہ تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل، یعنی معجزہ نہیں لایا۔ معجزہ اور نشانی کیا چیز ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر معجزہ کی روح وہ چیلنج ہوتا ہے جو صاحب معجزہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ مثلاً صالح علیہ السلام کی اونٹنی، ابراہیم علیہ السلام کا معجزہ ان کے لیے آگ کا گلزار بن جانا، مگر یہ معجزہ بھی کیا کم ہے کہ اکیلا شخص پوری قوم کو للکار رہا ہے کہ میں تم سب کو اور تمھارے خداؤں کو کچھ نہیں سمجھتا۔ تم سب مل کر میرا جو بگاڑ سکتے ہو بگاڑ لو اور اس قوم کو للکار رہا ہے جو نہایت سخت گیر اور رحم سے نا آشنا تھے، جن کے بارے میں آتا ہے: «{وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ }» [الشعراء:۱۳۰] ”اور جب تم پکڑتے ہو تو بہت بے رحم ہو کر پکڑتے ہو۔“ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اتنی قوت والے تھے کہ ان کے بعد ویسی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی، فرمایا: «{ الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ }» [الفجر: ۸] ”وہ کہ ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔“ جب طوفان سے ہلاک ہوئے تو: «{ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ }» [الحاقۃ: ۷] ”گویا وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے تھے۔“ صرف ایک شخص پوری قوم کو للکار رہا ہے، جو اس کے خون کی پیاسی ہے، جس کے معبودوں کو اور پوری قوم کو اس نے جاہل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سب مل کر میرے خلاف جو کچھ کرسکتے ہو کر لو اور پوری قوم باتیں تو بناتی ہے، مگر اس کا کچھ بگاڑ نہ سکی، یہ کھلا معجزہ نہیں تو کیا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
54۔ 1 یعنی تو جو ہمارے معبودوں کی توہین اور گستاخی کرتا ہے کہ یہ کچھ نہیں کرسکتے، معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے معبودوں نے تیری اس گستاخی پر تجھے کچھ کہہ دیا ہے اور تیرا دماغ ماؤف ہوگیا ہے۔ جیسے آج کل کے نام نہاد مسلمان بھی اس قسم کے توہمات کا شکار ہیں جب انھیں کہا جاتا ہے کہ یہ فوت شدہ اشخاص اور بزرگ کچھ نہیں کرسکتے، تو کہتے ہیں کہ ان کی شان میں گستاخی ہے اور خطرہ ہے کہ اس طرح کی گستاخی کرنے والوں کا وہ بیڑا غرق کردیں۔ نعوذ باللہ من الخرافات والاکاذیب۔ 45۔ 2 یعنی ان تمام بتوں اور معبودوں سے بیزار ہوں اور تمہارا یہ عقیدہ کہ انہوں نے مجھے کچھ کردیا ہے، بالکل غلط ہے، ان کے اندر یہ قدرت ہی نہیں کہ کسی کا مافوق الا سباب طریقے سے نفع یا نقصان پہنچا سکیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
54۔ ہم تو بس یہ کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تجھے کوئی تکلیف [61] پہنچا دی ہے۔ ہود نے جواب دیا: ”میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جو کچھ تم شرک کر رہے ہو میں اس سے بیزار ہوں“
[61] معبودوں اور بزرگوں کی گستاخی کا انجام:۔
کوئی بھی نبی جب اپنی دعوت پیش کرتا ہے تو اس پر ایمان لانے والے تو بہت کم لوگ ہوتے ہیں اور کثیر طبقہ ایسا ہوتا ہے جو اس کی مخالفت پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور نبی اور ابتدائی معدودے چند مسلمانوں کو پریشان کرنے اور اسے ایذائیں دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا جاتا ہے اسی کیفیت کو دیکھ کر قوم عاد نے ہودؑ سے کہا کہ تمہاری اس پریشان حالی کا سبب ہمیں تو صرف یہ نظر آتا ہے کہ تم جو ہمارے معبودوں کی توہین اور ان کے حق میں گستاخی کرتے ہو تو انہوں نے اپنی اس توہین کی تمہیں یہ سزا دی ہے جیسا کہ پرستاران باطل کے عقائد میں عموماً یہ بات بھی شامل ہوتی ہے اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کے افسانے اور حکایتیں بھی تراشی جاتی ہیں اور یہ صرف اس دور کی بات نہیں آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے البتہ آج پتھر کے بتوں کی جگہ فوت شدہ بزرگوں نے لے لی ہے۔ مزاروں آستانوں کے متعلق اسی قسم کی حکایتیں آپ کو آج بھی اولیاء اللہ کے تذکروں سے مل سکتی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قوم ہود کے مطالبات ٭٭
قوم ہود نے اپنے نبی علیہ السلام کی نصیحت سن کر جواب دیا کہ آپ علیہ السلام جس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل و حجت تو ہمارے پاس آپ علیہ السلام لائے نہیں۔ اور یہ ہم کرنے سے رہے کہ آپ علیہ السلام کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور ہم چھوڑ ہی دیں۔ نہ وہ آپ علیہ السلام کو سچا ماننے والے ہیں نہ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے۔ بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ چونکہ تو ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روک رہا ہے اور انہیں عیب لگاتا ہے۔ اس لیے جھنجھلا کر ان میں سے کسی کی مار تجھ پر پڑی ہے تیری عقل چل گئی ہے۔
یہ سن کر اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اگر یہی ہے تو سنو میں نہ صرف تمہیں ہی بلکہ اللہ کو بھی گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس جس کی عبات ہو رہی ہے سب سے بری اور بیزار ہوں اب تم ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ اوروں کو بھی بلا لو اور اپنے ان سب جھوٹے معبودوں کو بھی ملا لو اور تم سے جو ہو سکے مجھے نقصان پہنچا دو۔ مجھے کوئی مہلت نہ لینے دو۔“
یہ سن کر اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اگر یہی ہے تو سنو میں نہ صرف تمہیں ہی بلکہ اللہ کو بھی گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس جس کی عبات ہو رہی ہے سب سے بری اور بیزار ہوں اب تم ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ اوروں کو بھی بلا لو اور اپنے ان سب جھوٹے معبودوں کو بھی ملا لو اور تم سے جو ہو سکے مجھے نقصان پہنچا دو۔ مجھے کوئی مہلت نہ لینے دو۔“
”نہ مجھ پر کوئی ترس کھاؤ۔ جو نقصان تمہارے بس میں ہو مجھے پہنچانے میں کمی نہ کرو۔ میرا توکل ذات رب پر ہے وہ میرا اور تمہارا سب کا مالک ہے ناممکن کہ اس کی منشاء بغیر میرا بگاڑ کوئی بھی کر سکے۔ دنیا بھر کے جاندار اس کے قبضے میں اور اس کی ملکیت میں ہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے حکم سے باہر اس کی باشاہی سے الگ ہو۔ وہ ظالم نہیں جو تمہارے منصوبے پورے ہونے دے وہ صحیح راستے پر ہے۔ بندوں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں، مومن پر وہ اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جو مہربانی ماں باپ کو اولاد پر ہوتی ہے وہ کریم ہے اس کے کرم کی کوئی حد نہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگ بہک جاتے ہیں اور غافل ہو جاتے ہیں۔“
ہود علیہ السلام کے اس فرمان پر دوبارہ غور کیجئے کہ آپ علیہ السلام نے عادیوں کے لیے اپنے اس قول میں توحید ربانی کی بہت سے دلیلیں بیان کر دیں۔ بتا دیا کہ جب اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا جب اس کے سوا کسی چیز پر کسی کا قبضہ نہیں تو پھر وہی ایک مستحق عبادت ٹھہرا۔ اور جن کی عبادت تم اس کے سوا کر رہے ہو وہ سب باطل ٹھہرے۔ اللہ ان سے پاک ہے ملک تصرف قبضہ اختیار اسی کا ہے سب اسی کی ماتحتی میں ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
ہود علیہ السلام کے اس فرمان پر دوبارہ غور کیجئے کہ آپ علیہ السلام نے عادیوں کے لیے اپنے اس قول میں توحید ربانی کی بہت سے دلیلیں بیان کر دیں۔ بتا دیا کہ جب اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا جب اس کے سوا کسی چیز پر کسی کا قبضہ نہیں تو پھر وہی ایک مستحق عبادت ٹھہرا۔ اور جن کی عبادت تم اس کے سوا کر رہے ہو وہ سب باطل ٹھہرے۔ اللہ ان سے پاک ہے ملک تصرف قبضہ اختیار اسی کا ہے سب اسی کی ماتحتی میں ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔