اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے اس بات کا سوال کروں جس کا مجھے کچھ علم نہیں اور اگر تو نے مجھے نہ بخشا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں خسارہ پانے والوں سے ہو جاؤں گا۔
En
نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی حقیقت مجھے معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا
نوح نے کہا میرے پالنہار میں تیری ہی پناه چاہتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے وه مانگوں جس کا مجھے علم ہی نہ ہو اگر تو مجھے نہ بخشے گا اور تو مجھ پر رحم نہ فرمائے گا، تو میں خساره پانے والوں میں ہو جاؤں گا
En
(آیت 47) {قَالَرَبِّاِنِّيْۤاَعُوْذُبِكَاَنْاَسْـَٔلَكَمَالَيْسَلِيْبِهٖعِلْمٌ …:} نوح علیہ السلام شاید پدری محبت کی وجہ سے یہ سمجھ بیٹھے کہ بیٹا چاہے کافر ہو، گھر والوں میں شامل ہے اور اس کے لیے دعا کی جا سکتی ہے، لیکن جوں ہی اللہ تعالیٰ نے انھیں تنبیہ کی کہ ایک کافر بیٹے کو نسبی قرابت کی بنا پر اپنا اہل سمجھنا صحیح نہیں ہے تو وہ فوراً متنبہ ہوئے اور اللہ کے حضور اپنی غلطی پر معافی مانگی۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”نوح علیہ السلام نے توبہ کی، لیکن یہ نہ کہا کہ پھر ایسا نہ کروں گا کہ اس میں دعویٰ نکلتا ہے، بندے کو کیا مقدور ہے! اسی کی پناہ مانگے کہ مجھ سے پھریہ نہ ہو۔“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
47۔ 1 جب حضرت نوح ؑ یہ بات جان گئے کہ ان کا سوال واقعہ کے مطابق نہیں تھا، تو فورا اس سے رجوع فرما لیا اور اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت و مغفرت کے طالب ہوئے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
47۔ نوح نے کہا: ”پروردگار! میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہوا اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم [52] نہ فرمایا تو میں تباہ ہو جاؤں گا۔“
[52] نوح کی اپنی غلطی پر مغفرت کی درخواست:۔
نوحؑ آخر ایک انسان تھے اور جو سوال انہوں نے کیا بشری تقاضا سے مجبور ہو کر کیا تھا لہٰذا یہ اتنا بڑا گناہ معلوم نہیں ہوتا جس پر اس طرح سے عتاب نازل ہو مگر انبیاء کی تمام تر زندگی چونکہ امت کے لیے بطور نمونہ ہوتی ہے اسی لیے ان کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوتی ہے اور اس نمونہ کو پاک صاف بنایا جاتا ہے اور یہی عصمت انبیاء کا مفہوم ہے چنانچہ نوحؑ کو جب اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوئی تو اپنی اس لغزش کا احساس کر کے کانپ اٹھے فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلب گار ہوئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس وقت نوح علیہ السلام اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَرَبِّاِنِّیْۤاَعُوْذُبِكَاَنْاَسْـَٔؔلَكَمَالَ٘یْسَلِیْبِهٖعِلْمٌ١ؕوَاِلَّاتَغْفِرْلِیْوَتَرْحَمْنِیْۤاَكُ٘نْمِّنَالْخٰؔسِرِیْنَ ﴾”اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا“ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔
یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوح علیہ السلام کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَاتُخَاطِبْنِیْفِیالَّذِیْنَظَلَمُوْا١ۚاِنَّهُمْمُّغْرَقُوْنَ ﴾”ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔“ بلکہ نوح علیہ السلام کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فحينئذٍ ندمَ نوحٌ عليه السلام ندامةً شديدةً على ما صَدَرَ منه، و {قال ربِّ إنِّي أعوذُ بك أن أسألَكَ ما ليس لي به علمٌ وإلاَّ تَغْفِرْ لي وترحَمْني أكن من الخاسرينَ}: فبالمغفرة والرحمة ينجو العبدُ من أن يكون من الخاسرين. ودلَّ هذا على أنَّ نوحاً عليه السلام لم يكنْ عندَه علمٌ بأنَّ سؤاله لربِّه في نجاة ابنه محرَّمٌ داخلٌ في قوله: {ولا تخاطِبْني في الذين ظَلَموا إنَّهم مغرقونَ}، بل تعارض عندَه الأمران، وظنَّ دخوله في قوله: {وأهلَكَ}، وبعد هذا تبيَّن له أنَّه داخلٌ في المنهيِّ عن الدعاء لهم والمراجعة فيهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔