ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 40

حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوۡرُ ۙ قُلۡنَا احۡمِلۡ فِیۡہَا مِنۡ کُلٍّ زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَیۡہِ الۡقَوۡلُ وَ مَنۡ اٰمَنَ ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلٌ ﴿۴۰﴾
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ گیا اور تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا اس میں ہر چیز میں سے دو قسمیں (نر و مادہ) دونوں کو اور اپنے گھر والوں کو سوار کر لے، سوائے اس کے جس پر پہلے بات ہوچکی اور ان کو بھی جو ایمان لے آئے اور اس کے ہمراہ تھوڑے سے لوگوں کے سوا کوئی ایمان نہیں لایا۔ En
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور۔ ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجائے گا) اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو جو ایمان لایا ہو اس کو کشتی میں سوار کر لو اور ان کے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے
En
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور ابلنے لگا ہم نے کہا کہ اس کشتی میں ہر قسم کے (جانداروں میں سے) جوڑے (یعنی) دو (جانور، ایک نر اور ایک ماده) سوار کرا لے اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی، سوائے ان کے جن پر پہلے سے بات پڑ چکی ہے اور سب ایمان والوں کو بھی، اس کے ساتھ ایمان ﻻنے والے بہت ہی کم تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40) ➊ {حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ: فَارَ يَفُوْرُ فَوْرًا } جوش مار کر نکلنا۔ فوارہ بھی اسی سے ہے۔ {التَّنُّوْرُ} (بروزن {فَعُّوْلٌ}) کا معروف معنی تنور ہے، جس میں روٹیاں پکائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کے گھر میں طوفان کا نشان بتا رکھا تھا کہ جب اس تنور سے پانی ابلے تب کشی میں سوار ہو جاؤ۔ (موضح) اکثر مفسرین نے تنور سے یہی عام تنور مراد لیا ہے، لیکن حسب تفسیر ابن عباس (ابن جریر) { التَّنُّوْرُ } سے مراد روئے زمین ہے۔ قاموس میں بھی لکھا ہے: { وَجْهُ الْأَرْضِ وَ كُلُّ مَفْجَرِ مَاءٍ وَ مَحْفَلُ مَاءِ الْوَادِيْ } روئے زمین، پانی پھوٹنے کی جگہ اور وادی کے پانی کے جمع ہونے کی جگہ۔ اس تفسیر کی رو سے مراد یہ ہے کہ ساری زمین پانی کا چشمہ بن گئی اور پانی ابلنے لگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے: «{ وَ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُيُوْنًا [القمر: ۱۲] اور ہم نے زمین کو چشموں سے پھاڑ دیا۔ حتیٰ کہ تنور جو آگ کی جگہ ہوتے ہیں، پانی کے فوارے بن گئے۔ ویسے پہلا معنی زیادہ قرین قیاس ہے، کیونکہ علامت ظاہر ہونے کے ساتھ ہی کشتی میں سوار ہونے اور ہر جانور کا جوڑا رکھنے کا زیادہ موقع ہے، لیکن جب ساری زمین سے چشمے پھوٹ نکلیں تو یہ کام مشکل ہے اور تنور روٹیاں پکانے کے لیے عام معروف بھی ہے۔ امام طبری اور رازی نے بھی اسی معنی کو ترجیح دی ہے، کیونکہ معروف معنی چھوڑنے کی کوئی دلیل نہیں۔ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [كَانَ تَنُّوْرُنَا وَ تَنُّوْرُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا] [مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ: ۸۷۳] ہمارا تنور اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور ایک ہی تھا۔ { اَمْرُنَا } سے مراد عذاب کا حکم ہے کہ آسمان سے موسلا دھار پانی برسنے لگا اور زمین سے چشموں کی طرح پانی ابلنا شروع ہو گیا، دونوں طبقے مل گئے اور زمین پانی میں غرق ہو گئی۔ دیکھیے سورۂ قمر (۱۱، ۱۲)۔
➋ { قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ …: مِنْ كُلٍّ } میں { كُلٍّ } کی تنوین مضاف الیہ محذوف کا عوض ہے: { اَيْ مِنْ كُلِّ نَوْعٍ تَحْتَاجُ اِلَيْهِ } جب عذاب کے آثار شروع ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جانوروں کی ہر قسم میں سے ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کر لو، جن کی نسل باقی رہنا مقدر تھی۔ { وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ } یعنی اپنی بیوی جس کا ذکر سورۂ تحریم میں ہے اور اس بیٹے جس کا ذکر زیرِ تفسیر آیات میں آ رہا ہے (جن کے کفر کی وجہ سے ان کا ڈوبنا پہلے طے ہو چکا ہے) ان کے سوا اپنے تمام گھر والوں کو اور ان لوگوں کو جو آپ پر ایمان لائے ہیں، کشتی میں سوار کر لو۔
➌ {وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيْلٌ:} یہ وہی تھے جن کو قوم نے اپنے اراذل کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان پر بہت تھوڑے لوگ ہی ایمان لائے۔ ان کی تعداد بہت سے مفسرین (۷۹) یا (۸۰) بیان کرتے ہیں، مثلاً آلوسی وغیرہ، جن میں وہ نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں سام، حام اور یافث کا نام لیتے ہیں، کافر بیٹے کا نام کنعان تھا۔ ان چاروں کی بیویاں مسلمان تھیں اور ۷۲ مرد اور عورتیں دوسرے مسلمان تھے۔ بعض نے یہ تعداد چالیس(۴۰) بتائی ہے۔ ہمارے شیخ محمد عبدہ الفلاح رحمہ اللہ لکھتے ہیں: قرآن وحدیث میں ان کی تعداد کا کوئی ذکر نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ان دونوں چیزوں کے علاوہ کوئی معتبر ذریعہ معلوم کرنے کا ہمارے پاس نہیں ہے۔ [وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِعَدَدِھِمْ]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

40۔ 1 اس سے بعض نے روٹی پکانے والے تنور، بعض نے مخصوص جگہیں مثلا عین الوردہ اور بعض نے سطح زمین مراد لی ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اسی آخری مفہوم کو ترجیح دی ہے یعنی ساری زمین ہی چشموں کی طرح ابل پڑی، اوپر سے آسمان کی بارش نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ 40۔ 2 اس سے مراد مذکر اور مؤنث یعنی نر مادہ ہے اس طرح ہر ذی روح مخلوق کا جوڑا کشتی میں رکھ لیا گیا اور بعض کہتے ہیں کہ نباتات بھی رکھے گئے تھے۔ وللہ اعلم۔ 40۔ 3 یعنی جن کا غرق ہونا تقدیر الٰہی میں ثبت ہے اس سے مراد عام کفار ہیں، یا یہ استشناء اَھْلَکَ سے ہے یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کرا لے، سوائے ان کے جن پر اللہ کی بات سبقت کرگئی ہے یعنی ایک بیٹا (کنعان یا۔ یام) اور حضرت نوح ؑ کی اہلیہ (وَ عِلَۃ) یہ دونوں کافر تھے، ان کو کشتی میں بیٹھنے والوں سے مستشنٰی کردیا گیا۔ 40۔ 4 یعنی سب اہل ایمان کو کشتی میں سوار کرا لے۔ 40۔ 5 بعض نے ان کی کل تعداد (مرد اور عورت ملا کر) 80 اور بعض نے اس سے بھی کم بتلائی ہے۔ ان میں حضرت نوح ؑ کے تین بیٹے، جو ایمان والوں میں شامل تھے، سام، حام، یافت اور ان کی بیویاں اور چوتھی بیوی، یام کی تھی، جو کافر تھا، لیکن اس کی بیوی مسلمان ہونے کی وجہ سے کشتی میں سوار تھی۔ (ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ یہاں تک کہ ہمارا (عذاب کا) حکم آ پہنچا اور تنور [46] ابلنے لگا تو ہم نے نوح سے کہا کہ اس کشتی میں ہر قسم کے جانوروں کا ایک جوڑا (نر و مادہ) رکھ لو، اور اپنے گھر والوں کو بھی سوار کر لو بجز ان اشخاص کے جن کے متعلق پہلے بتا دیا جا چکا ہے (کہ وہ ہلاک ہوں گے) اور جو ایمان لائے ہیں، انھیں بھی سوار کر لو۔ اور وہ تھوڑے ہی لوگ تھے جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے
[46] طوفان نوح کا آغاز:۔
طوفان نوح کا آغاز تنور سے چشمہ پھوٹنے سے ہوا۔ ایک قول کے مطابق تنور سے مراد وہی معروف تنور ہے جس میں روٹیاں پکائی جاتی ہیں اور ایک قول کے مطابق تنور سے مراد سطح زمین ہے۔ پھر ارد گرد کی زمین سے کئی مزید چشمے پھوٹنے شروع ہو گئے اور اوپر سے لگاتار بارش شروع ہو گئی۔ پہلا چشمہ پھوٹنے پر نوحؑ کو حکم دے دیا گیا کہ سب ایمان والوں کو اس کشتی میں سوار کر لو اور جو جانور بھی اس وقت روئے زمین پر موجود ہیں اور نر و مادہ سے پیدا ہوتے ہیں ان کا ایک ایک جوڑا (یعنی نر و مادہ) بھی اس کشتی میں رکھ لو۔ اپنے گھر والوں میں سے جو مومن ہیں ان سب کو بھی سوار کر لو اور وہ حام، سام، یافث اور ان کے اہل و عیال تھے اور جو ایمان نہیں لائے انھیں اس کشتی میں مت سوار کرنا اور ان میں نوحؑ کا بیٹا یام بھی تھا جسے کنعان بھی کہا جاتا تھا اور نوحؑ کی بیوی واعلہ جو کافر تھی اور کنعان کی والدہ تھی۔ آپ کے خاندان سے یہ دو افراد بھی طوفان کی نذر ہوئے تھے اور ایمان لانے والے بہت تھوڑے لوگ ہی تھے جن کی تعداد 80 سے متجاوز نہیں تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قوم نوح پر عذاب الٰہی کا نزول ٭٭
حسب فرمان ربی «فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ» ۱؎ [54-القمر:14-11]‏‏‏‏ ’ آسمان سے موسلا دھار لگاتار بارش برسنے لگی اور زمین سے بھی پانی ابلنے لگا اور ساری زمین پانی سے بھر گئی اور جہاں تک منظور رب تھا پانی بھر گیا اور نوح علیہ السلام کو رب العالمین نے اپنی نگاہوں کے سامنے چلنے والی کشتی پر سوار کر دیا۔ اور کافروں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچا دیا ‘۔
تنور کے ابلنے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب ہے کہ روئے زمین سے چشمے پھوٹ پڑے یہاں تک کہ آگ کی جگہ تنور میں سے بھی پانی ابل پڑا۔‏‏‏‏ یہی قول جمہور سلف و خلف ہے کا ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تنور صبح کا نکلنا اور فجر کا روشن ہونا ہے، یعنی صبح کی روشنی اور فجر کی چمک لیکن زیادہ غالب پہلا قول ہے۔
مجاہد اور شعبی رحمہ اللہ علیہما کہتے ہیں یہ تنور کوفے میں تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہند میں ایک نہر ہے۔‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں جزیرہ میں ایک نہر ہے جسے «عین الوردہ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏ لیکن یہ سب اقوال غریب ہیں۔
الغرض ان علامتوں کے ظاہر ہوتے ہی نوح علیہ السلام کو اللہ کا حکم ہوا کہ اپنے ساتھ کشتی میں جاندار مخلوق میں سے ہر قسم کا ایک ایک جوڑا نر مادہ سوار کر لو۔ کہا گیا ہے کہ غیر جاندار کے لیے بھی یہی حکم تھا۔ جیسا نباتات۔ کہا گیا ہے کہ پرندوں میں سب سے پہلے درہ کشتی میں آیا اور سب سے آخر میں گدھا سوار ہونے لگا۔ ابلیس اس کی دم میں لٹک گیا جب اس کے دو اگلے پاؤں کشتی میں آ گئے اس کا اپنا دھڑ اٹھانا چاہا تو نہ اٹھا سکا کیونکہ دم پر اس ملعون کا بوجھ تھا۔
نوح علیہ السلام جلدی کر رہے تھے یہ بہتیرا چاہتا تھا مگر پچھلے پاؤں چڑھ نہیں سکتے تھے۔ آخر آپ علیہ السلام نے فرمایا آج تیرے ساتھ ابلیس بھی ہو آیا تب وہ چڑھ گیا اور ابلیس بھی اس کے ساتھ ہی آیا۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ شیر کو اپنے ساتھ لے جانا مشکل ہو گیا، آخر اسے بخار چڑھ آیا تب اسے سوار کر لیا۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { نوح علیہ السلام نے جب تمام مویشی اپنی کشتی میں سوار کر لیے تو لوگوں نے کہا شیر کی موجودگی میں یہ مویشی کیسے آرام سے رہ سکیں گے؟ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بخار ڈال دیا۔ اس سے پہلے زمین پر یہ بیماری نہ تھی۔ پھر لوگوں نے چوہے کی شکایت کی یہ ہمارا کھانا اور دیگر چیزیں خراب کر رہے ہیں تو اللہ کے حکم سے شیر کی چھینک میں سے ایک بلی نکلی جس سے چوہے دبک کر کونے کھدرے میں بیٹھ رہے } }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18154:مرسل]‏‏‏‏
نوح علیہ السلام کو حکم ہوا کہ ’ اپنے گھر والوں کو بھی اپنے ساتھ کشتی میں بٹھالو مگر ان میں سے جو ایمان نہیں لائے انہیں ساتھ نہ لینا ‘۔
آپ علیہ السلام کا لڑکا حام بھی انہیں کافروں میں تھا وہ الگ ہو گیا۔ یا آپ علیہ السلام کی بیوی کہ وہ بھی اللہ کے رسول علیہ السلام کی منکر تھی اور ’ اپنی قوم کے تمام مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ بٹھالے ‘، لیکن ان مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی۔ ساڑھے نو سو سال کے قیام کی طویل مدت میں آپ علیہ السلام پر بہت ہم کم لوگ ایمان لائے تھے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کل اسی (‏‏‏‏80) آدمی تھے جن میں عورتیں بھی تھیں۔‏‏‏‏ کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں سب بہتر (‏‏‏‏72) اشخاص تھے۔‏‏‏‏ ایک قول ہے صرف دس (‏‏‏‏10) آدمی تھے۔‏‏‏‏ ایک قول ہے نوح علیہ السلام تھے اور ان کے تین لڑکے تھے سام، حام، یافث اور چار عورتیں تھیں۔ تین تو ان تینوں کی بیویاں اور چوتھی حام کی بیوی اور کہا گیا ہے کہ خود نوح علیہ السلام کی بیوی۔‏‏‏‏ لیکن اس میں نظر ہے ظاہر یہ ہے نوح علیہ السلام کی بیوی ہلاک ہونے والوں میں ہلاک ہوئی۔ اس لیے کہ وہ اپنی قوم کے دین پر ہی تھی تو جس طرح لوط علیہ السلام کی بیوی قوم کے ساتھ ہلاک ہوئی اسی طرح یہ بھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ وَأَحْكَمُ»