(آیت 4) {اِلَىاللّٰهِمَرْجِعُكُمْ …: ”اِلَىاللّٰهِ“ } کے پہلے آنے سے حصر پیدا ہوگیا، یعنی اگر تمھیں آخرت کے عذاب کا اس لیے خوف نہیں کہ تم اس دن کے منکر ہو تو یاد رکھو کہ اللہ کے سوا تم کہیں جا ہی نہیں سکتے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔ جب اس نے پہلی دفعہ تمھیں پیدا کیا تو دوبارہ اپنے پاس حاضر کیوں نہیں کر سکتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ تمہیں اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ [6] ہر چیز پر قادر ہے
[6] کسی مجرم کو سزا دینے کے لیے دو باتوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک یہ کہ مجرم حاضر ہو دوسرے سزا دینے والا اسے سزا دینے کی قدرت رکھتا ہو چنانچہ اللہ تعالیٰ ایسے دعوت حق سے اعراض کرنے والوں کو اپنے پاس حاضر کرنے کی بھی قدرت رکھتا ہے اور سزا دینے کی بھی، ایسے مجرموں کو اپنے انجام سے ضرور ڈرنا چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں