ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 30

وَ یٰقَوۡمِ مَنۡ یَّنۡصُرُنِیۡ مِنَ اللّٰہِ اِنۡ طَرَدۡتُّہُمۡ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳۰﴾
اوراے میری قوم! اللہ کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا اگر میں انھیں دور ہٹا دوں؟ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ En
اور برادران ملت! اگر میں ان کو نکال دوں تو (عذاب) خدا سے (بچانے کے لیے) کون میری مدد کرسکتا ہے۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے؟
En
میری قوم کے لوگو! اگر میں ان مومنوں کو اپنے پاس سے نکال دوں تو اللہ کے مقابلہ میں میری مدد کون کر سکتا ہے؟ کیا تم کچھ بھی نصیحت نہیں پکڑتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 29 میں تا آیت 31 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

30۔ 1 گویا ایسے لوگوں کو اپنے سے دور کرنا، اللہ کے غضب اور ناراضگی کا باعث ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

30۔ اور اے میری قوم! اگر میں ان لوگوں کو اپنے ہاں سے نکال دوں تو اللہ کے مقابلہ میں میری کون مدد کرے گا، تم ذرا بھی غور نہیں کرتے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دعوت حق سب کے لیے یکساں ہے ٭٭
آپ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ میں جو کچھ نصیحت تمہیں کر رہا ہوں جنتی خیر خواہی تمہاری کرتا ہوں اس کی کوئی اجرت تو تم سے نہیں مانگتا، میری اجرت تو اللہ کے ذمے ہے۔ تم جو مجھ سے کہتے ہو کہ ان غریب مسکین ایمان والوں کو میں دھکے دے دوں مجھ سے تو یہ کبھی نہیں ہونے کا۔‏‏‏‏
یہی طلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کی گئی تھی جس کے جواب میں یہ آیت اتری «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» ۱؎ [6-الأنعام:52]‏‏‏‏ یعنی ’ صبح شام اپنے رب کے پکارنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ نکال ‘۔
اور آیت میں ہے «وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْ بَيْنِنَا اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:53]‏‏‏‏ ’ اسی طرح ہم نے ایک کو دوسرے سے آزما لیا اور وہ کہنے لگے کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہم سب کو چھوڑ کر اللہ کا فضل نازل ہوا؟ کیا اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نہیں جانتا؟ ‘