وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ؕ اُولٰٓئِکَ یُعۡرَضُوۡنَ عَلٰی رَبِّہِمۡ وَ یَقُوۡلُ الۡاَشۡہَادُ ہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ کَذَبُوۡا عَلٰی رَبِّہِمۡ ۚ اَلَا لَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾
اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر کوئی جھوٹ باندھے؟ یہ لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور گواہ کہیں گے یہ ہیں وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا۔ سن لو! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔
En
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے ایسے لوگ خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ سن رکھو کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہے
En
اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہوگا جو اللہ پرجھوٹ باندھے یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور سارے گواه کہیں گے کہ یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا، خبردار ہو کہ اللہ کی لعنت ہے ﻇالموں پر
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 18) ➊ { وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا:} یعنی اپنی جان پر ظلم کرنے والے بہت ہیں، مگر اس سے بڑھ کر کوئی نہیں جو جھوٹ گھڑ کر اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دے، مثلاً مخلوق کو خالق کی صفات رکھنے والا قرار دے، بتوں، ولیوں اور دیوتاؤں کو اللہ کے حضور بلا اجازت سفارش کی جرأت رکھنے والے سمجھے، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے اور مسیح علیہ السلام یا کسی اور کو اللہ کی اولاد یا اس کا حصہ یا ٹکڑا قرار دے۔ موضح میں ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کئی طرح سے ہے، مثلاً علم میں غلط نقل کرنا۔ (آل عمران: ۷۸) نبوت یا وحی کا جھوٹا دعویٰ کرنا۔ (انعام: ۹۳) خواب بنا لینا، ابن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ مِنْ أَفْرَی الْفِرٰی أَنْ يُّرِيَ عَيْنَيْهٖ مَا لَمْ تَرَ] [بخاري، التعبیر، باب من کذب فی حلمہ: ۷۰۴۳] ”سب سے بڑے جھوٹوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں کو وہ چیز دکھائے جو انھوں نے نہیں دیکھی (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے)۔“ درایت یا عقل کو دین کے معاملات میں درمیان لے آنا۔ (قصص: ۵۰)
➋ { اُولٰٓىِٕكَ يُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ:} اللہ تعالیٰ ایسے مفتری اور جھوٹے کفار و مشرکین اور منافقین کو قیامت کے دن سب کے سامنے رسوا کرے گا اور گواہ بھی سب کے سامنے ان کے رب تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی شہادت دیں گے۔ البتہ مومن گناہ گاروں کا معاملہ اس سے مختلف ہو گا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [إِنَّ اللّٰهَ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهٗ وَيَسْتُرُهٗ فَيَقُوْلُ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ فَيَقُوْلُ نَعَمْ أَيْ رَبِّ، حَتَّی قَرَّرَهٗ بِذُنُوْبِهِ وَرَأَی فِيْ نَفْسِهِ أَنَّهٗ هَلَكَ، قَالَ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِيْ الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، فَيُعْطَی كِتَابَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُوْنَ فَيَقُوْلُ الْأَشْهَادُ: «{ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيْنَ }» [هود:۱۸] [بخاری، المظالم، باب قول اللہ تعالٰی: «ألا لعنۃ اللّٰہ علی الظالمین» : ۲۴۴۱] ”اللہ تعالیٰ مومن کو قریب کرے گا اور اس پر اپنا دامن ڈال کر پردے میں کرے گا، پھر کہے گا کہ تو فلاں گناہ پہچانتا ہے؟ کیا فلاں گناہ پہچانتا ہے؟ وہ کہے گا، ہاں اے میرے رب! یہاں تک کہ جب اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروا لے گا اور وہ اپنے دل میں سمجھ لے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا تو (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا، میں نے دنیا میں تجھ پر ان گناہوں پر پردہ ڈالا اور آج میں تجھے وہ بخشتا ہوں، تو اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی۔ رہا کافر اور منافق، تو گواہ کہیں گے: «{ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيْنَ }» ”یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا۔ سن لو! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔“
➌ { وَ يَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ …:} گواہوں سے مراد ان کے پیغمبر یا وہ فرشتے جو عمل لکھتے ہیں اور علماء جنھوں نے اللہ کے احکام کی تبلیغ کی۔ یہ سب گواہ کفار کے متعلق اعلان کریں گے کہ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے جھوٹی باتیں منسوب کرتے تھے۔
➋ { اُولٰٓىِٕكَ يُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ:} اللہ تعالیٰ ایسے مفتری اور جھوٹے کفار و مشرکین اور منافقین کو قیامت کے دن سب کے سامنے رسوا کرے گا اور گواہ بھی سب کے سامنے ان کے رب تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی شہادت دیں گے۔ البتہ مومن گناہ گاروں کا معاملہ اس سے مختلف ہو گا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [إِنَّ اللّٰهَ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهٗ وَيَسْتُرُهٗ فَيَقُوْلُ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ فَيَقُوْلُ نَعَمْ أَيْ رَبِّ، حَتَّی قَرَّرَهٗ بِذُنُوْبِهِ وَرَأَی فِيْ نَفْسِهِ أَنَّهٗ هَلَكَ، قَالَ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِيْ الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، فَيُعْطَی كِتَابَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُوْنَ فَيَقُوْلُ الْأَشْهَادُ: «{ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيْنَ }» [هود:۱۸] [بخاری، المظالم، باب قول اللہ تعالٰی: «ألا لعنۃ اللّٰہ علی الظالمین» : ۲۴۴۱] ”اللہ تعالیٰ مومن کو قریب کرے گا اور اس پر اپنا دامن ڈال کر پردے میں کرے گا، پھر کہے گا کہ تو فلاں گناہ پہچانتا ہے؟ کیا فلاں گناہ پہچانتا ہے؟ وہ کہے گا، ہاں اے میرے رب! یہاں تک کہ جب اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروا لے گا اور وہ اپنے دل میں سمجھ لے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا تو (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا، میں نے دنیا میں تجھ پر ان گناہوں پر پردہ ڈالا اور آج میں تجھے وہ بخشتا ہوں، تو اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی۔ رہا کافر اور منافق، تو گواہ کہیں گے: «{ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيْنَ }» ”یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا۔ سن لو! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔“
➌ { وَ يَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ …:} گواہوں سے مراد ان کے پیغمبر یا وہ فرشتے جو عمل لکھتے ہیں اور علماء جنھوں نے اللہ کے احکام کی تبلیغ کی۔ یہ سب گواہ کفار کے متعلق اعلان کریں گے کہ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے جھوٹی باتیں منسوب کرتے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
18۔ 1 یعنی جن کا اللہ نے کائنات میں تصرف کرنے کا یا آخرت میں شفاعت کا اختیار نہیں دیا ہے۔ ان کی بابت یہ کہا جائے کہ اللہ نے انھیں یہ اختیار دیا ہے۔ 18۔ 2 حدیث میں اس کی تفسیر اس طرح آتی ہے کہ ' قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ایک مومن سے اس کے گناہوں کا اقرار و اعتراف کروائے گا کہ تجھے معلوم ہے کہ تو نے فلاں گناہ بھی کیا تھا، فلاں بھی کیا تھا، وہ مومن کہے گا ہاں ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے ان گناہوں پر دنیا میں بھی پردہ ڈالے رکھا تھا، جا آج بھی انھیں معاف کرتا ہوں، لیکن دوسرے لوگ یا کافروں کا معاملہ ایسا ہوگا کہ انھیں گواہوں کے سامنے پکارا جائے گا اور گواہ یہ گواہی دیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا (صحیح بخاری)۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ افترا [22] کرے۔ ایسے لوگ اپنے پروردگار کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ واہی [22۔ 1] دیں گے کہ یہی لوگ تھے جو اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھتے تھے۔ دیکھو! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے
[22] اللہ پر جھوٹ لگانے کی مختلف صورتیں:۔
افتراء کے معنی یہ ہے کہ کوئی بات خود ایجاد کر کے اللہ کے ذمہ لگا دی جائے یا اسے شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کی جائے اور یہ کام گناہ کبیرہ ہے پھر افتراء کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ مثلاً کسی حلال چیز کو حرام یا حرام کو حلال قرار دینا اور شریعت کا حکم ثابت کرنا یا اللہ کے سوا کسی دوسرے بزرگ، نبی یا پیر فقیر کو یا آستانے کو اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھنا یا یہ سمجھنا کہ اگر قیامت کو ہم سے مواخذہ ہوا تو ہمارے پیروں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ ہمیں چھڑا لیں گے یا منزل من اللہ کلام کو منزل من اللہ نہ سمجھنا اور یہ سب باتیں شرک یا اس سے ملتی جلتی ہیں ایسے لوگوں سے قیامت کے دن کسی قسم کی رو رعایت نہیں ہو گی۔ علی رؤس الاشہادان کے جرم کو ثابت کر کے قرار واقعی سزا دی جائے گی جبکہ دوسرے مومن گنہگاروں سے اس قسم کی سختی نہ ہو گی بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے نرمی کا سلوک اختیار کریں گے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
سستی نجات کا عقیدہ رکھنے والے در اصل آخرت کے منکرہیں:۔
ایک دفعہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ طواف کر رہے تھے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: ابن عمر! سرگوشی کے متعلق آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ (جو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مومنوں سے کرے گا) انہوں نے کہا: میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: مومن اپنے پروردگار کے قریب لایا جائے گا یہاں تک کہ پروردگار اپنی ایک جانب کر لے گا پھر اس کے سارے گناہ اسے بتلائے گا اور فرمائے گا ”فلاں گناہ تجھے معلوم ہے؟“ مومن کہے گا ”پروردگار! مجھے معلوم ہے“ دوبارہ یہی سوال و جواب ہو گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ”دنیا میں میں نے تیرا گناہ چھپائے رکھا اور آج تجھے معاف کرتا ہوں“ پھر اس کی نیکیوں کا دفتر لپیٹ دیا جائے گا (اس کو دے دیا جائے گا) رہے دوسرے لوگ یا کافر لوگ۔ تو شہادتیں مکمل ہو جانے کی بنا پر ان کے متعلق اعلان کیا جائے گا کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
[22۔ 1] ﴿اشهاد﴾ شاہد کی جمع بھی آتی ہے جیسے صاحب کی جمع اصحاب آتی ہے اور شہید کی بھی جیسے شریف کی جمع اشراف آتی ہے اور یہ گواہ فرشتے اور کراماً کاتبین بھی ہو سکتے ہیں۔ انبیاء بھی، عامۃ الناس بھی اور جب اپنا جرم تسلیم نہ کرنے پر اصرار کریں گے تو اس کے اعضاء و جوارح بھی اس کے خلاف گواہی دیں گے اور شہادتوں کی بنا پر ہی اس پر فرد جرم عائد کی جائے گی کہ فی الواقع ان لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔
[22۔ 1] ﴿اشهاد﴾ شاہد کی جمع بھی آتی ہے جیسے صاحب کی جمع اصحاب آتی ہے اور شہید کی بھی جیسے شریف کی جمع اشراف آتی ہے اور یہ گواہ فرشتے اور کراماً کاتبین بھی ہو سکتے ہیں۔ انبیاء بھی، عامۃ الناس بھی اور جب اپنا جرم تسلیم نہ کرنے پر اصرار کریں گے تو اس کے اعضاء و جوارح بھی اس کے خلاف گواہی دیں گے اور شہادتوں کی بنا پر ہی اس پر فرد جرم عائد کی جائے گی کہ فی الواقع ان لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ جل شانہ پہ بہتان باندھنے والے ٭٭
جو لوگ اللہ کے ذمے بہتان باندھ لیں، ان کا انجام اور قیامت کے دن کی ساری مخلوق کے سامنے ان کی رسوائی کا بیان ہو رہا ہے۔
مسند احمد میں صفوان بن محزر کہتے ہیں کہ { میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا پھر پوچھنے لگا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے دن کی سرگوشی کی بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزجل مومن کو اپنے سے قریب کرے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور اسے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ کیا تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے؟ اور فلاں بھی اور فلاں بھی؟ یہ اقرار کرتا جائے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ بس اب ہلاک ہوا۔ اس وقت ارحم الراحمین فرمائے گا کہ ’ میرے بندے دنیا میں ان پر پردہ ڈالتا رہا سن آج بھی میں انہیں بخشتا ہوں ‘۔ پھر اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ اسے دے دیا جائے گا۔ اور کفار اور منافقین پر نو گواہ پیش ہوں گے جو کہیں گے کہ یہی وہ ہیں جو اللہ پر جھوٹ بولتے تھے یاد رہے کہ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2441] یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔
مسند احمد میں صفوان بن محزر کہتے ہیں کہ { میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا پھر پوچھنے لگا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے دن کی سرگوشی کی بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزجل مومن کو اپنے سے قریب کرے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور اسے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ کیا تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے؟ اور فلاں بھی اور فلاں بھی؟ یہ اقرار کرتا جائے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ بس اب ہلاک ہوا۔ اس وقت ارحم الراحمین فرمائے گا کہ ’ میرے بندے دنیا میں ان پر پردہ ڈالتا رہا سن آج بھی میں انہیں بخشتا ہوں ‘۔ پھر اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ اسے دے دیا جائے گا۔ اور کفار اور منافقین پر نو گواہ پیش ہوں گے جو کہیں گے کہ یہی وہ ہیں جو اللہ پر جھوٹ بولتے تھے یاد رہے کہ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2441] یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔
یہ لوگ اتباع حق، ہدایت اور جنت سے اوروں کو روکتے رہے اور اپنا طریقہ ٹیڑھا ترچھا ہی تلاش کرتے رہے ساتھ ہی قیامت اور آخرت کے دن کے بھی منکر ہی رہے اور اسے مانا ہی نہیں۔ یاد رہے کہ یہ اللہ کے ماتحت ہیں وہ ان سے ہر وقت انتقام لینے پر قادر ہے، اگر چاہے تو آخرت سے پہلے دنیا میں ہی پکڑ لے لیکن اس کی طرف سے تھوڑی سی ڈھیل انہیں مل گئی ہے۔
اور آیت میں ہے «يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ’ وه تو انہیں اس دن تک مہلت دیے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی ‘۔
بخاری و مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دے دیتا ہے بالآخر جب پکڑتا ہے تب چھوڑتا ہی نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2583]
ان کی سزائیں بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ اس لیے کہ اللہ کی دی ہوئی قوتوں سے انہوں نے کام نہ لیا۔ سننے سے کانوں کو بہرہ رکھا۔ حق کی تابعداری سے آنکھوں کو اندھا رکھا جہنم میں جاتے وقت خود ہی کہیں گے کہ «وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ» ۱؎ [67-الملک:10] یعنی ’ اگر سنتے ہوتے عقل رکھتے ہوتے تو آج دوزخی نہ بنتے ‘۔
یہی فرمان «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] میں ہے کہ ’ کافروں کے لیے اللہ کی راہ سے روکنے والوں کے لیے عذاب پر عذاب بڑھتا چلا جائے گا۔ ہر ایک حکم عدولی پر، ہر ایک برائی کے کام پر سزا بھگتیں گے ‘۔
پس صحیح قول یہی ہے کہ آخرت کی نسبت کے اعتبار سے کفار بھی فروع شرع کے مکلف ہیں۔ یہی ہیں وہ جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور خود اپنے تئیں جہنمی بنایا۔ جہاں کا عذاب ذرا سی دیر بھی ہلکا نہیں ہوگا۔ «مَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:97] ’ آگ کے شعلے کم ہونے تو کہاں اور تیز تیز ہوتے جائیں گے ‘ جنہیں انہوں نے گھڑ لیا تھا یعنی بت اور اللہ کے شریک وغیرہ آج وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گے بلکہ نظر بھی نہ پڑیں گے بلکہ اور نقصان پہنچائیں گے۔
اور آیت میں ہے «يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ’ وه تو انہیں اس دن تک مہلت دیے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی ‘۔
بخاری و مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دے دیتا ہے بالآخر جب پکڑتا ہے تب چھوڑتا ہی نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2583]
ان کی سزائیں بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ اس لیے کہ اللہ کی دی ہوئی قوتوں سے انہوں نے کام نہ لیا۔ سننے سے کانوں کو بہرہ رکھا۔ حق کی تابعداری سے آنکھوں کو اندھا رکھا جہنم میں جاتے وقت خود ہی کہیں گے کہ «وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ» ۱؎ [67-الملک:10] یعنی ’ اگر سنتے ہوتے عقل رکھتے ہوتے تو آج دوزخی نہ بنتے ‘۔
یہی فرمان «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] میں ہے کہ ’ کافروں کے لیے اللہ کی راہ سے روکنے والوں کے لیے عذاب پر عذاب بڑھتا چلا جائے گا۔ ہر ایک حکم عدولی پر، ہر ایک برائی کے کام پر سزا بھگتیں گے ‘۔
پس صحیح قول یہی ہے کہ آخرت کی نسبت کے اعتبار سے کفار بھی فروع شرع کے مکلف ہیں۔ یہی ہیں وہ جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور خود اپنے تئیں جہنمی بنایا۔ جہاں کا عذاب ذرا سی دیر بھی ہلکا نہیں ہوگا۔ «مَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:97] ’ آگ کے شعلے کم ہونے تو کہاں اور تیز تیز ہوتے جائیں گے ‘ جنہیں انہوں نے گھڑ لیا تھا یعنی بت اور اللہ کے شریک وغیرہ آج وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گے بلکہ نظر بھی نہ پڑیں گے بلکہ اور نقصان پہنچائیں گے۔
وہ تو ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کے شرک سے صاف مکر جائیں گے۔ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مريم:81، 82] ’ گو یہ انہیں باعث عزت سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ان کے لیے باعث ذلت ہیں۔ کھلے طور پر اس بات کا قیامت کے دن انکار کر دیں گے کہ ان مشرکوں نے انہیں پوجا۔ ‘
یہ ارشاد خلیل الرحمن علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ۱؎ [29-العنکبوت:25] ’ ان بتوں سے گو تم دنیوی تعلقات وابستہ رکھو لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے کا انکار کر دیں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگیں گے۔ اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور کوئی کسی کو کوئی مدد نہ پہنچائے گا ‘۔
یہی مضمون آیت «اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ» ۱؎ [2-البقرة:166] میں ہے یعنی ’ اس وقت پیشوا لوگ اپنے مریدوں سے دست بردار ہو جائیں گے عذاب الٰہی آنکھوں دیکھ لیں گے اور باہمی تعلقات سب منقطع ہو جائیں گے ‘۔
اسی قسم کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں وہ بھی ان کی ہلاکت اور نقصان کی خبر دیتی ہیں۔ یقیناً یہی لوگ قیامت کے دن سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔ جنت کے درجوں کے بدلے انہوں نے جہنم کے گڑھے لیے۔ اللہ کی نعمتوں کے بدلے جہنم کی آگ قبول کی۔ میٹھے ٹھنڈے خوشگوار جنتی پانی کے بدلے جہنم کا آگ جیسا کھولتا ہوا گرم پانی انہیں حورعین کے بدلے لہو پیپ اور بلند و بالا محلات کے بدلے دوزخ کے تنگ مقامات انہوں نے لیے، رب رحمن کی نزدیکی اور دیدار کے بدلے اس کا غضب اور سزا انہیں ملی۔ بیشک یہاں یہ سخت گھاٹے میں رہے۔
یہ ارشاد خلیل الرحمن علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ۱؎ [29-العنکبوت:25] ’ ان بتوں سے گو تم دنیوی تعلقات وابستہ رکھو لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے کا انکار کر دیں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگیں گے۔ اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور کوئی کسی کو کوئی مدد نہ پہنچائے گا ‘۔
یہی مضمون آیت «اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ» ۱؎ [2-البقرة:166] میں ہے یعنی ’ اس وقت پیشوا لوگ اپنے مریدوں سے دست بردار ہو جائیں گے عذاب الٰہی آنکھوں دیکھ لیں گے اور باہمی تعلقات سب منقطع ہو جائیں گے ‘۔
اسی قسم کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں وہ بھی ان کی ہلاکت اور نقصان کی خبر دیتی ہیں۔ یقیناً یہی لوگ قیامت کے دن سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔ جنت کے درجوں کے بدلے انہوں نے جہنم کے گڑھے لیے۔ اللہ کی نعمتوں کے بدلے جہنم کی آگ قبول کی۔ میٹھے ٹھنڈے خوشگوار جنتی پانی کے بدلے جہنم کا آگ جیسا کھولتا ہوا گرم پانی انہیں حورعین کے بدلے لہو پیپ اور بلند و بالا محلات کے بدلے دوزخ کے تنگ مقامات انہوں نے لیے، رب رحمن کی نزدیکی اور دیدار کے بدلے اس کا غضب اور سزا انہیں ملی۔ بیشک یہاں یہ سخت گھاٹے میں رہے۔