ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 15

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا نُوَفِّ اِلَیۡہِمۡ اَعۡمَالَہُمۡ فِیۡہَا وَ ہُمۡ فِیۡہَا لَا یُبۡخَسُوۡنَ ﴿۱۵﴾
جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتا ہو ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ اسی (دنیا) میں پورا دے دیں گے اور اس (دنیا) میں ان سے کمی نہ کی جائے گی۔ En
جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انہیں دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی
En
جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) یہی بھرپور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16،15) {مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتَهَا …:} یہ دو آیات کفار اور مشرکین کے بارے میں ہیں، کیونکہ دوسری آیت میں ہے: «{ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ان کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو کفار یہاں دنیا طلبی کے لیے صدقہ و خیرات وغیرہ اور نیک عمل کرتے ہیں، جن کا تعلق رفاہ عامہ سے ہے، انھیں ان کاموں کا بدلہ دنیا ہی میں پورا پورا دے دیا جاتا ہے، لیکن یہ بدلہ ملنا اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا [بنی إسرائیل: ۱۸] جو شخص اس جلدی والی (دنیا) کا ارادہ رکھتا ہو ہم اس کو اس میں جلدی دے دیں گے جو چاہیں گے، جس کے لیے چاہیں گے، پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بنا رکھی ہے، اس میں داخل ہو گا، مذمت کیا ہوا، دھتکارا ہوا۔ اسی معنی کی ایک اور آیت سورۂ شوریٰ (۲۰) میں بھی ہے۔ کفار کو دنیا میں کسی نیکی کا فائدہ آخرت میں عذاب کم ہونے کی صورت میں تو ہو سکتا ہے، لیکن ان کا آگ سے نکلنا کسی صورت ممکن نہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف ہو گی، مگر وہ آگ سے نکل نہیں سکے گا۔ اسی طرح آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر میں زیادتی اور کمی کی وجہ سے جہنم میں کفار کے عذاب میں کمی بیشی ہو گی، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [النساء: ۱۴۵] بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ نیکی کی کمی بیشی کی وجہ سے جنت کے درجات اور بدی کی کمی بیشی کی وجہ سے جہنم کے درکات میں فرق ہو گا۔ البتہ کفار کی کوئی نیکی انھیں جہنم سے نہیں نکال سکے گی، کیونکہ آخرت میں نیک عمل کی قبولیت کے لیے ایمان شرط ہے۔ دیکھیے سورۂ حجر کی دوسری آیت کی تفسیر۔
علمائے تفسیر نے ان دو آیتوں کو عام بھی مانا ہے اور لکھا ہے کہ اس میں منافق اور ریا کار بھی شامل ہیں کہ ان کے عمل بھی آخرت میں اکارت جائیں گے۔ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهٖ فَعَرَّفَهٗ نِعْمَتَهٗ فَعَرَفَهَا، قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيْهَا، قَالَ قَاتَلْتُ فِيْكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ قَالَ كَذَبْتَ وَلٰكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُّقَالَ جَرِيْئٌ فَقَدْ قِيْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِهٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْهِهٖ حَتّٰی أُلْقِيَ فِي النَّارِ] [مسلم، الإمارۃ، باب من قاتل للریاء…: ۱۹۰۵] قیامت کے دن ایک شہید کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ انھیں پہچان لے گا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے ان کے لیے کیا کیا؟ وہ کہے گا: یا اللہ! میں نے لڑتے لڑتے تیری راہ میں جان دے دی۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: تو نے جھوٹ کہا، تو نے محض اس لیے جنگ کی تھی کہ لوگ تجھے بہادر کہیں، چنانچہ تجھے یہ داد مل گئی۔ پھر حکم ہو گا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریا کار قاری اور ریاکار دولت مند کے متعلق بھی یہی بیان فرمایا۔ واضح رہے کہ اگر اس آیت کو عام رکھا جائے تو { لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ } (ان کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں) کی تاویل کی جائے گی کہ کفار اور منافقین کے لیے تو دائمی جہنم ہے، مگر مسلمان گناہ گار سزا کے بعد جہنم سے نکل بھی آئیں گے اور بعض کو اللہ تعالیٰ معاف بھی کر دے گا، اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہے تو ہم ایسے لوگوں کو دنیا میں ہی ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے دیتے ہیں اور وہ دنیا میں گھاٹے میں نہیں رہتے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ریا ہر نیکی کے لیے زہر ہے ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ریاکاروں کی نیکیوں کا بدلہ سب کچھ اسی دنیا میں مل جاتا ہے۔ ذرا سی بھی کمی نہیں ہوتی۔‏‏‏‏ پس جو شخص دنیا میں دکھاوے کے لئے نماز پڑھے، روزے رکھے یا تہجد گزاری کرے، اس کا اجر اسے دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ آخرت میں وہ خالی ہاتھ اور محض بےعمل اُٹھتا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ وغیرہ کا بیان ہے یہ آیت یہود و نصاری کے حق میں اتری، اور مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ریاکاروں کے بارے میں اتری ہے۔‏‏‏‏ الغرض کس کا جو قصد ہو اسی کے مطابق اس سے معاملہ ہوتا ہے دنیا طلبی کے لیے جو اعمال ہوں وہ آخرت میں کار آمد نہیں ہو سکتے۔ مومن کی نیت اور مقصد چونکہ آخرت طلبی ہی ہوتا ہے اللہ اسے آخرت میں اس کے اعمال کا بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے اور دنیا میں بھی اس کی نیکیاں کام آتی ہیں۔
ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی مضمون آیا ہے۔ قرآن کریم کی آیات «مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰؤُلَاءِ وَهَـٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا» [17-الإسراء:18-21]‏‏‏‏ میں بھی اسی کا تفصیلی بیان ہے کہ ’ دنیا طلب لوگوں میں سے جسے ہم جس قدر چاہیں دے دیتے ہیں۔ پھر اس کا ٹھکانا جہنم ہوتا ہے جہاں وہ ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوتا ہے۔ ہاں جس کی طلب آخرت ہو اور بالکل اسی کے مطابق اس کا عمل بھی ہو اور وہ ایماندار بھی تو ایسے لوگوں کی کوشش کی قدر دانی کی جاتی ہے۔ انہیں ہر ایک کو ہم تیرے رب کی عطا سے بڑھاتے رہتے ہیں تیرے پروردگار کا انعام کسی سے رکا ہوا نہیں۔ تو خود دیکھ لے کہ کس طرح ہم نے ایک کو ایک پر فضیلت بخشی ہے۔ آخرت کیا باعتبار درجوں کے اور کیا باعتبار فضیلت کے بہت ہی بڑی اور زبردست چیز ہے ‘۔
اور آیت میں ارشاد ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِيْ حَرْثِهٖ وَمَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَمَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِيْبٍ» [42-الشورى:20]‏‏‏‏ ’ جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی کا ہو ہم خود اس میں اس کے لیے برکت عطا فرماتے ہیں اور جس کا ارادہ دنیا کی کھیتی کا ہو ہم گو اسے اس میں سے کچھ دے دیں لیکن آخرت میں وہ بے نصیب رہ جاتا ہے ‘۔