تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ یہ قرآن کسی انسان کا (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کا تصنیف کردہ نہیں ہے کیونکہ اس میں ایسی باتیں ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ مثلاً پیشین گوئیاں اور حشر و نشر کے مفصل حالات، اگر یہ انسان کا تصنیف کردہ ہوتا تو تم لوگ اس کی مثل پیش کرنے سے عاجز کیسے رہ سکتے تھے؟
2۔ چونکہ تم سب مل کر بھی اس جیسی ایک سورت بھی پیش نہیں کر سکے تو معجزہ کا یہی معنی ہے پھر تم اور کون سا معجزہ طلب کرتے ہو؟ اور کیوں کرتے ہو؟
3۔ اگر یہ انسان کا کلام نہیں تو پھر یہ لامحالہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور یہ آپ کی نبوت کی بھی دلیل ہے اور وجود باری تعالیٰ کی بھی۔
4۔ سورۃ بقرہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے اپنے معبودوں کی امداد بھی حاصل کر دیکھو شاید وہ تم میں اتنی طاقت بھر دیں کہ تم ایسا کلام پیش کر سکو پھر جب اس آڑے وقت میں وہ تمہارے کسی کام نہیں آئے تو اور کس وقت آئیں گے اس طرح از خود ان معبودوں کا ابطال ہو گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ان آیات کے نزول کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کا وسیع علم ہے جس کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔
[18] یعنی ایسے واضح دلائل کے بعد بھی مسلمان ہونے اور اللہ کا فرمانبردار بننے میں تمہیں کسی اور چیز کا انتظار ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فإن لم يستجيبوا لكم}: على شيءٍ من ذلكم، {فاعلموا أنَّما أنزِلَ بعلم الله}: من عند الله ؛ لقيام الدليل والمقتضي وانتفاء المعارِض. {وأن لا إله إلا هو}؛ أي: واعلموا أنه لا إله إلا هو؛ أي: هو [وحده] المستحقُّ للألوهيَّة والعبادة. {فهل أنتم مسلمونَ}؛ أي: منقادون لألوهيته، مستسلمون لعبوديته.
وفي هذه الآيات إرشادٌ إلى أنه لا ينبغي للدَّاعي إلى الله أن يصدَّه اعتراضُ المعترضين ولا قدحُ القادحين، خصوصاً إذا كان القدح لا مستندَ له ولا يقدح فيما دعا إليه، وأنه لا يضيق صدرُه، بل يطمئنُّ بذلك، ماضياً على أمره، مقبلاً على شأنه، وأنه لا يجب إجابة اقتراحات المقترحين للأدلَّة التي يختارونها، بل يكفي إقامةُ الدليل السالم عن المعارض على جميع المسائل والمطالب.
وفيها: أن هذا القرآن معجِزٌ بنفسه، لا يقدر أحدٌ من البشر أن يأتي بمثله، ولا بعشر سورٍ مثله، بل ولا بسورة من مثله؛ لأنَّ الأعداء البلغاء الفصحاء تحدَّاهم الله بذلك، فلم يعارضوه؛ لعلمهم أنَّهم لا قدرة فيهم على ذلك.
وفيها: أن مما يُطْلَبُ فيه العِلْمُ ولا يكفي غلبةَ الظنِّ، علمُ القرآن وعلمُ التوحيد؛ لقوله تعالى: {فاعلموا أنَّما أنزل بعلم الله وأن لا إله إلا هو}.