ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 14

فَاِلَّمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَکُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰہِ وَ اَنۡ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۴﴾
پس اگر وہ تمھاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اللہ کے علم سے اتارا گیا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم حکم ماننے والے ہو؟ En
اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ خدا کے علم سے اُترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تمہیں بھی اسلام لے آنا چاہئیے
En
پھر اگر وه تمہاری اس بات کو قبول نہ کریں تو تم یقین سے جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم کے ساتھ اتارا گیا ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پس کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14) {فَاِلَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا …:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اے مسلمانو! اگر وہ کفار تمھارا یہ چیلنج قبول نہ کریں تو یقین کر لو کہ یہ صرف اللہ کے علم سے اتارا گیا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم حکم ماننے والے ہو؟ یعنی اپنی کتاب کی حقانیت اس قدر واضح اور روشن ہونے پر تمھارے ایمان و یقین اور اس پر عمل میں اضافہ ہونا لازم ہے، تو کیا تم ایسا کرو گے؟ یا ایمان لانے کے باوجود حکم ماننے میں کوتاہی کرتے رہو گے؟ دوسرا معنی یہ ہے کہ پچھلی آیت میں مشرکین کو جو فرمایا تھا: «{ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ کہ اللہ کے سو اجسے بلا سکتے ہو بلا لو، اس کے بعد اب فرمایا، اگر وہ تمام لوگ جنھیں تم اس کام کے لیے بلاؤ گے، مثلاً عرب کے بڑے بڑے فصحاء، بلغاء، شعراء، خطباء اور تمھارے تمام داتا اور دستگیر، اگر ان میں سے کوئی بھی تمھاری بات قبول نہ کرے اور { اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ } جیسی تین آیات بھی نہ بنا سکیں تو پھر تمھیں لازم ہے کہ ایک تو اس بات پر یقین کر لو کہ یہ کتاب اللہ کے علم سے نازل کی گئی ہے، اس کی مثل لانا مخلوق کے بس کی بات نہیں۔ دوسرا اس بات پر یقین کر لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو اے جماعت کفار! پھر کیا تم اسلام قبول کرو گے یا اب بھی ضد اور عناد ہی پر اڑے رہو گے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14۔ 1 یعنی کیا اس کے بعد بھی کہ تم اس چیلنج کا جواب دینے سے قاصر ہو، یہ ماننے کے لئے، کہ یہ قرآن اللہ ہی کا نازل کردہ ہے، آمادہ نہیں ہوا اور نہ مسلمان ہونے کو تیار ہو؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ پھر اگر وہ تمہیں اس چیلنج کا جواب نہ دے سکیں تو جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم [17] سے اتارا گیا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پھر کیا تم اس (امر حق) کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہو؟[18]
[17] چیلنج کا جواب نہ دے سکنے کے نتائج:۔
قریش مکہ سب مل کر بھی اور اپنی مقدور بھر کوششوں کے بعد بھی جب اس چیلنج کے جواب میں کوئی اس جیسی سورت پیش نہ کر سکے تو اس سے درج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
1۔ یہ قرآن کسی انسان کا (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کا تصنیف کردہ نہیں ہے کیونکہ اس میں ایسی باتیں ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ مثلاً پیشین گوئیاں اور حشر و نشر کے مفصل حالات، اگر یہ انسان کا تصنیف کردہ ہوتا تو تم لوگ اس کی مثل پیش کرنے سے عاجز کیسے رہ سکتے تھے؟
2۔ چونکہ تم سب مل کر بھی اس جیسی ایک سورت بھی پیش نہیں کر سکے تو معجزہ کا یہی معنی ہے پھر تم اور کون سا معجزہ طلب کرتے ہو؟ اور کیوں کرتے ہو؟
3۔ اگر یہ انسان کا کلام نہیں تو پھر یہ لامحالہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور یہ آپ کی نبوت کی بھی دلیل ہے اور وجود باری تعالیٰ کی بھی۔
4۔ سورۃ بقرہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے اپنے معبودوں کی امداد بھی حاصل کر دیکھو شاید وہ تم میں اتنی طاقت بھر دیں کہ تم ایسا کلام پیش کر سکو پھر جب اس آڑے وقت میں وہ تمہارے کسی کام نہیں آئے تو اور کس وقت آئیں گے اس طرح از خود ان معبودوں کا ابطال ہو گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ان آیات کے نزول کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کا وسیع علم ہے جس کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔
[18] یعنی ایسے واضح دلائل کے بعد بھی مسلمان ہونے اور اللہ کا فرمانبردار بننے میں تمہیں کسی اور چیز کا انتظار ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ پس اگر وہ تمھاری بات قبول نہ کریں۔ یعنی وہ اس کا کوئی جواب نہ دیں ﴿ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ تو جان لو کہ قرآن تو اترا ہے اللہ کے علم سے دلیل و مقتضی کے قیام اور معارض کی نفی کی بنا پر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنْ لَّاۤ اِلٰ٘هَ اِلَّا هُوَ اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یعنی جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہی الوہیت اور عبادت کا مستحق ہے۔ ﴿ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟ یعنی کیا تم اس کی الوہیت کو مانتے ہو اور اس کی عبادت کے لیے سر تسلیم خم کرتے ہو؟
ان آیات کریمہ میں اس امر کی طرف راہ نمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کے لیے مناسب نہیں کہ دعوت پر اعتراض کرنے والے معترضین کے اعتراضات اور رد و قدح کی بنا پر دعوت دین سے رک جائے۔ خاص طور پر جبکہ اس رد و قدح پر کوئی دلیل نہ ہو اور دعوت میں کوئی خامی بھی نہ ہو۔ نیز یہ کہ داعی کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے اپنی دعوت پر مطمئن ہونا چاہیے، وہ اپنے راستے پر گامزن رہے اور اپنی منزل کو سامنے رکھے، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ داعی نئے نئے مطالبات پیش کرنے والوں کو اہمیت نہ دے، صرف دلائل ہی ان کے سامنے رکھے۔ تمام مسائل پر ایسے دلائل کا قائم کر دینا جن کا توڑ نہ کیا جا سکے یہی کافی ہے۔
اور اس آیت کریمہ میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ یہ قرآن بنفسہ معجزہ ہے، کوئی بشر ایسی کتاب نہیں لا سکتا، کتاب تو کیا اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت ہی نہیں بنا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے بڑے بڑے بلغاء و فصحاء کو مقابلے کی دعوت دی مگر انھوں نے مقابلہ نہ کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایسی کتاب بنانے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ امور جن میں محض غلبۂ ظن کافی نہیں بلکہ علم یقینی مطلوب ہے، وہ ہیں علم القرآن اور علم التوحید، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَاَنْ لَّاۤ اِلٰ٘هَ اِلَّا هُوَ تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فإن لم يستجيبوا لكم}: على شيءٍ من ذلكم، {فاعلموا أنَّما أنزِلَ بعلم الله}: من عند الله ؛ لقيام الدليل والمقتضي وانتفاء المعارِض. {وأن لا إله إلا هو}؛ أي: واعلموا أنه لا إله إلا هو؛ أي: هو [وحده] المستحقُّ للألوهيَّة والعبادة. {فهل أنتم مسلمونَ}؛ أي: منقادون لألوهيته، مستسلمون لعبوديته.

وفي هذه الآيات إرشادٌ إلى أنه لا ينبغي للدَّاعي إلى الله أن يصدَّه اعتراضُ المعترضين ولا قدحُ القادحين، خصوصاً إذا كان القدح لا مستندَ له ولا يقدح فيما دعا إليه، وأنه لا يضيق صدرُه، بل يطمئنُّ بذلك، ماضياً على أمره، مقبلاً على شأنه، وأنه لا يجب إجابة اقتراحات المقترحين للأدلَّة التي يختارونها، بل يكفي إقامةُ الدليل السالم عن المعارض على جميع المسائل والمطالب.

وفيها: أن هذا القرآن معجِزٌ بنفسه، لا يقدر أحدٌ من البشر أن يأتي بمثله، ولا بعشر سورٍ مثله، بل ولا بسورة من مثله؛ لأنَّ الأعداء البلغاء الفصحاء تحدَّاهم الله بذلك، فلم يعارضوه؛ لعلمهم أنَّهم لا قدرة فيهم على ذلك.

وفيها: أن مما يُطْلَبُ فيه العِلْمُ ولا يكفي غلبةَ الظنِّ، علمُ القرآن وعلمُ التوحيد؛ لقوله تعالى: {فاعلموا أنَّما أنزل بعلم الله وأن لا إله إلا هو}.