اور ہم رسولوں کی خبروں میں سے ہر وہ چیز تجھ سے بیان کرتے ہیں جس کے ساتھ ہم تیرے دل کو ثابت رکھتے ہیں اور تیرے پاس ان میں حق اور مومنوں کے لیے نصیحت اور یادددہانی آئی ہے۔
En
(اے محمدﷺ) اور پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان سے ہم تمہارے دل کو قائم رکھتے ہیں۔ اور ان (قصص) میں تمہارے پاس حق پہنچ گیا اور یہ مومنوں کے لیے نصیحت اور عبرت ہے
اس آیت کی تفسیر آیت 119 میں تا آیت 121 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
120۔ اور ہم رسولوں کے حالات کی ایک ایک خبر آپ سے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ [132] آپ کے دل کو مضبوط کر دیں اور ان خبروں کے ذریعہ آپ تک حق بات پہنچی اور ایمان لانے والوں کے لئے نصیحت اور یاددہانی بھی ہو گئی
[132] انبیاء کے بار بار تذکرہ کے تین فائدے:۔
انبیاء کے حالات بار بار بیان کرنے کے اللہ تعالیٰ نے تین فائدے بتلائے ہیں۔ ایک یہ کہ جن مشکلات سے آپ اور آپ کے صحابہ کرامؓ دو چار ہیں ایسے ہی حالات سے تمام سابقہ انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں کو بھی دوچار ہونا پڑا تھا۔ آخر اللہ نے مخالفین کا سر توڑ دیا اور انبیاء اور مومنوں کو بچا لیا اور کامیاب کیا لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبر سے کام لیں اور اپنے عزم کو مضبوط رکھیں۔ دوسرے یہ کہ آپ اور آپ کے پیروکاروں تک سابقہ انبیاء کے صحیح صحیح حالات پہنچ جائیں جن کی آپ کو پہلے سے خبر نہیں تھی۔ تیسرے یہ کہ ان لوگوں کے حالات میں آپ سب کے لیے بہت سے اسباق موجود ہیں یعنی اللہ کے نافرمانوں کا بالآخر کیا انجام ہوتا ہے اور فرماں برداروں کا کیا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ذکر ماضی تمہارے لیے سامان سکون ٭٭
پہلی امتوں کا اپنے نبیوں کو جھٹلانا، نبیوں کا ان کی ایذاؤں پر صبر کرنا۔ آخر اللہ کے عذاب کا آنا، کافروں کا برباد ہونا، نبیوں رسولوں اور مومنوں کا نجات پانا، یہ سب واقعات ہم تجھے سنا رہے ہیں۔ تاکہ تیرے دل کو ہم اور مضبوط کر دیں اور تجھے کامل سکون حاصل ہو جائے۔ اس سورت میں بھی حق تجھ پر واضح ہو چکا ہے کہ اس دنیا میں بھی تیرے سامنے سچے واقعات بیان ہو چکے ہیں۔ یہ عبرت ہے کفار کے لیے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے کہ وہ اس سے نفع حاصل کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ میں انبیائے کرام کے حالات بیان فرمائے تو اب اس میں پنہاں حکمت کا ذکر فرمایا: ﴿وَكُلًّانَّ٘قُ٘صُّعَلَیْكَمِنْاَنْۢبـَآءِالرُّسُلِمَانُثَبِّتُبِهٖفُؤَادَكَ﴾”اور یہ سب چیز بیان کرتے ہیں ہم آپ کے پاس رسولوں کے احوال سے جس سے مضبوط کریں ہم آپ کے دل کو“ تاکہ وہ مطمئن رہے، اس کو ثبات حاصل ہو اور وہ صبر کرے، جیسے اولوالعزم انبیاء و مرسلین نے صبر کیا تھا کیونکہ نفوس انسانی اقتدا سے مانوس ہوتے ہیں اور اعمال پر ان کو نشاط حاصل ہوتا ہے اور وہ دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، حق کے شواہد اور اس کو قائم کرنے والوں کی کثرت کا ذکر کرنے سے حق کی تائید ہوتی ہے۔
﴿وَجَآءَكَفِیْهٰؔذِهِ ﴾”اور آیا آپ کے پاس اس میں “ یعنی اس سورۂ مقدسہ میں ﴿الْحَقُّ﴾”حق“ آپ کے پاس یقین آگیا اور اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں۔ اس کا علم، حق کا علم ہے جو نفس کے لیے سب سے بڑی فضیلت ہے۔ ﴿ وَمَوْعِظَةٌوَّذِكْرٰىلِلْ٘مُؤْمِنِیْنَ۠ ﴾”اور نصیحت اور یاددہانی مومنوں کے لیے“ یعنی وہ اس سے نصیحت پکڑتے ہیں پس برے کاموں سے باز رہتے ہیں اور محبوب کاموں کو یاد کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر في هذه السورة من أخبار الأنبياء ما ذَكَرَ؛ ذَكَرَ الحكمة في ذِكْر ذلك، فقال: {وكلًّا نَقُصُّ عليك من أنباء الرُّسل ما نثبِّتُ به فؤادك}؛ أي: قلبك؛ ليطمئن، ويثبت، ويصبر كما صبر أولو العزم من الرسل؛ فإنَّ النفوس تأنَس بالاقتداء وتنشَط على الأعمال، وتريد المنافسة لغيرها، ويتأيَّد الحقُّ بذِكْر شواهده وكثرة من قام به. {وجاءك في هذه}: السورة {الحقُّ}: اليقينُ فلا شكَّ فيه بوجهٍ من الوجوه؛ فالعلم بذلك من العلم بالحقِّ الذي هو أكبر فضائل النفوس. {وموعظةٌ وذِكرى للمؤمنينَ}؛ أي: يتَّعظون به فيرتدعون عن الأمور المكروهة ويتذكَّرون الأمور المحبوبة لله فيفعلونها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔