ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 118

وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لَا یَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾ۙ
اور اگر تیرا رب چاہتا تو یقینا سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا اور وہ ہمیشہ مختلف رہیں گے۔ En
اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے
En
اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی راه پر ایک گروه کر دیتا۔ وه تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 119،118) ➊ {وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً:} یعنی اے میرے رسول! تیری خواہش تو یہ ہے کہ سب لوگ مسلمان ہو جائیں، ایک بھی کافر نہ رہے (دیکھیے شعراء: ۳) اور یہ بات تیرے رب پر کچھ مشکل بھی نہیں، جب اس نے جن و انس کے سوا باقی پوری مخلوق کو اپنی اطاعت کا پابند بنا رکھا ہے تو وہ جن و انس کو بھی ایک ہی امت بنا سکتا تھا کہ کوئی کفر کر ہی نہ سکتا، فرمایا: «{وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيْعًا اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ [یونس:۹۹]مگر تیرے رب کی حکمت کا تقاضا کچھ اور تھا، اس لیے اس نے کسی کو ایمان پر مجبور نہیں کیا، سمع و بصر دے کر اور راستہ بتا کر اختیار دے دیا کہ حق و باطل میں سے جو چاہو اختیار کرو۔ اس لیے یہ سب لوگ کبھی ایمان پر متفق نہیں ہو سکتے، بلکہ ان میں ہمیشہ اختلاف رہے گا، کوئی مومن ہے کوئی کافر، کوئی فرماں بردار کوئی نافرمان، فرمایا: «{وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ اور اس نے انھیں اسی (آزمائش کے) لیے پیدا فرمایا ہے۔ مائدہ میں ہے: «{وَ لٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ [المائدۃ: ۴۸] اور لیکن تاکہ وہ تمھیں اس میں آزمائے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔ اور یہ بات اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی طے کر دی ہے کہ میں جہنم کو اس آزمائش میں ناکام ہونے والے جن و انس سے بھروں گا اور اس بات کے ذکر کی ضرورت ہی نہیں کہ آزمائش میں کامیاب ہونے والوں کو اپنی جنت سے نوازوں گا۔
➋ {وَ لَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ (118) اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ:} معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا: [أَلاَ إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوْا عَلٰی ثِنْتَيْنِ وَ سَبْعِيْنَ مِلَّةً، وَإِنَّ هٰذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلٰی ثَلاَثٍ وَ سَبْعِيْنَ، ثِنْتَانِ وَسَبْعُوْنَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَ هِيَ الْجَمَاعَةُ] [زَادَ ابْنُ يَحْيَی وَعَمْرٌو فِيْ حَدِيْثِهِمَا:] [وَإِنَّهٗ سَيَخْرُجُ فِيْ أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ تَجَارَی بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَما يَتَجَارَی الْكَلَبُ لِصَاحِبِهِ، وَقَالَ عَمْرٌو: الْكَلَبُ بِصَاحِبِهِ لاَ يَبْقَی مِنْهٗ عِرْقٌ وَلاَ مَفْصِلٌ إِلاَّ دَخَلَهٗ] [أبوداوٗد، السنۃ، باب شرح السنۃ: ۴۵۹۷۔ السلسلۃ الصحیحۃ: 404/1، ح ۲۰۴] یاد رکھو! تم سے پہلے اہلِ کتاب بہتر (۷۲) ملتوں میں جدا جدا ہو گئے اور یہ ملت تہتر (۷۳) میں جدا جدا ہو جائے گی۔ بہتر (۷۲) آگ میں اور ایک جنت میں ہو گا اور وہ الجماعۃ ہے۔ ابن یحییٰ اور عمرو نے اپنی روایتوں میں مزید کہا: میری امت میں ایسی قومیں نکلیں گی جن میں یہ خواہشات و بدعات اس طرح رگ رگ میں جاری ہو جائیں گی جیسے باؤلے پن کی بیماری، اس بیماری کے مریض کے رگ و ریشے میں جاری ہو جاتی ہے۔ عمرو نے کہا: باؤلے پن کے بیمار کی کوئی رگ اور کوئی جوڑ باقی نہیں رہتا جس میں اس بیماری کا اثر نہ ہو۔
➌ اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ کسی امت کا اتفاق اور اجتماع رحمت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگ ہمیشہ مختلف رہیں گے مگر جس پر تیرا رب رحم کرے اور صاف ظاہر ہے کہ امت مسلمہ صرف اسی چیز پر جمع ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی اور وہ کتاب وسنت ہے۔ یہی طریقِ مستقیم ہے اور اسی پر چلنے والے الجماعۃ ہیں، باقی سب فرقے بعد میں اس سیدھے راستے سے ہٹنے کی وجہ سے پیدا ہوئے۔
➍ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عام لوگوں میں مشہور روایت { اِخْتَلاَفُ أُمَّتِيْ رَحْمَةٌ } یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صاف جھوٹ ہے۔ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ نے اسے موضوع ثابت کرتے ہوئے ایک دلچسپ بات یہ بھی لکھی کہ اگر اسے صحیح مانا جائے تو پھر امت کا اتفاق زحمت ہو گا، کیونکہ اختلاف رحمت ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر اپنے رحم کا ذکر کیا ہے جو اختلاف کرنے والے نہیں ہوں گے۔ اس لیے سب فرقے چھوڑ کر کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھام لینا ہی راہ نجات ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

118۔ اور اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت بنائے رکھتا مگر وہ اختلاف [131] ہی کرتے رہیں گے
[131] اختلاف کی اصل وجہ:۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر میں سے کوئی ایک راہ انتخاب کرنے کی مکمل آزادی دے رکھی ہے اگر یہ آزادی انتخاب و اختیار انسان سے چھین لی جائے تو اختلاف کا ہونا ممکن نہیں رہتا اور جب تک یہ آزادی موجود ہے لوگ اختلاف کرتے ہی رہیں گے نیز اگر یہ آزادی انسان سے چھین لی جائے تو انسان کی تخلیق کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے انسان کو خیر و شر کی راہیں سجھا دی گئیں۔ پھر اسی غرض کے لیے انبیاء آئے اللہ نے کتابیں نازل فرمائیں لیکن تھوڑے ہی لوگ تھے جنہوں نے اس آزادی انتخاب و اختیار کا درست استعمال کیا زیادہ لوگ ایسے غلط کار ہی ثابت ہوئے جنہوں نے گمراہی کی راہیں اختیار کر کے اپنے آپ کو جہنم کا اہل ثابت کیا۔ یہ ارادہ و اختیار کی قوت انسان کے علاوہ جنوں کو بھی دی گئی ہے انسانوں کی طرح جنوں کی اکثریت بھی گمراہ اور جہنم کی مستحق ہی رہی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جس پر اللہ تعالٰی کا کرم ہو ٭٭
اللہ کی قدر کسی کام سے عاجز نہیں۔ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-یونس:99]‏‏‏‏ ’ وہ چاہے تو سب کو ہی اسلام یا کفر پر جمع کر دے ‘ لیکن اس کی حکمت ہے جو انسانی رائے ان کے دین و مذاہب جدا جدا برابر جاری و ساری ہیں۔ طریقے مختلف، مالی حالات جداگانہ ایک ایک کے ماتحت یہاں مراد دین و مذہب کا اختلاف ہے۔ جن پر اللہ کا رحم ہو جائے وہ رسولوں کی تابعداری رب تعالیٰ کی حکم برداری میں برابر لگے رہتے ہیں۔ اب وہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے مطیع ہیں۔ اور یہی نجات پانے والے ہیں۔
چنانچہ مسند و سنن میں حدیث ہے جس کی ہر سند دوسری سند کو تقویت پہنچا رہی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں کے اکہتر گروہ ہوئے۔ نصاریٰ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے، اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، سب جہنمی ہیں سوائے ایک جماعت کے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا وہ جو اس پر ہوں جس پر میں ہو اور میرے اصحاب۱؎ [سنن ترمذي:2641، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
بقول عطا رحمہ اللہ «مُخْتَلِفِينَ» سے مراد یہودی، نصرانی، مجوسی ہیں اور اللہ کے رحم والی جماعت سے مراد یک طرفہ دین اسلام کے مطیع لوگ ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ جماعت ہے گو ان کے وطن اور بدن جدا ہوں اور اہل معصیت فرقت و اختلاف والے ہیں گو ان کے وطن اور بدن ایک ہی جا جمع ہوں۔
«فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» ۱؎ [11-ھود:105]‏‏‏‏ قدرتی طور پر ان کی پیدائش ہی اسی لیے ہے شقی و سعید کی ازلی تقسیم ہے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ رحمت حاصل کرنے والی یہ جماعت بالخصوص اسی لیے ہے۔ طاؤس رحمہ اللہ کے پاس دو شخص اپنا جھگڑا لے کر آئے اور آپس کے اختلاف میں بہت بڑھ گئے تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تم نے جھگڑا اور اختلاف کیا اس پر ایک شخص نے کہا اسی لیے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔‏‏‏‏ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، غلط ہے اس نے اپنے ثبوت میں اسی آیت کی تلاوت کی تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا اس لیے نہیں پیدا کیا کہ آپس میں اختلاف کریں، بلکہ پیدائش تو جمع کے لیے اور رحمت حاصل کرنے کے لیے ہوئی ہے۔‏‏‏‏
جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رحمت کے لیے پیدا کیا ہے نہ کہ عذاب کے لیے۔ اور آیت میں ہے «وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ» ۱؎ [51-الذاريات:56]‏‏‏‏ ’ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے ‘۔
تیسرا قول ہے کہ رحمت اور اختلاف کے لیے پیدا کیا ہے۔‏‏‏‏ چنانچہ مالک رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک فرقہ جنتی اور ایک جہنمی۔ انہیں رحمت حاصل کرنے اور انہیں اختلاف میں مصروف رہنے کے لیے پیدا کیا ہے تیرے رب کا یہ فیصلہ ناطق ہے کہ اس کی مخلوق میں ان دونوں اقسام کے لوگ ہوں گے اور ان دونوں سے جنت دوزخ پر کئے جائیں گے۔ اس کی کامل حکمتوں کو وہی جانتا ہے۔‏‏‏‏
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جنت دوزخ دونوں میں آپس میں گفتگو ہوئی۔ جنت نے کہا مجھ میں تو صرف ضعیف اور کمزور لوگ ہی داخل ہوتے ہیں اور جہنم نے کہا میں تکبر اور ظلم کرنے والوں کے ساتھ مخصوص کی گئی ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ عزوجل نے جنت سے فرمایا ’ تو میری رحمت ہے، جسے میں چاہوں اسے تجھ سے نواز دوں گا ‘۔ اور جہنم سے فرمایا ’ تو میرا عذاب ہے جس سے میں چاہوں تیرے عذاب کے ذریعہ اس سے انتقام لوں گا۔ تم دونوں پر ہو جاؤ گی ‘۔ جنت میں تو برابر زیادتی رہے گی یہاں تک کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا اور اسے اس میں بسائے گا اور جہنم بھی برابر زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اس پر اللہ رب العزت اپنا قدم رکھ دے گا تب وہ کہے گی تیری عزت کی قسم اب بس ہے بس ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4849]‏‏‏‏