ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 102

وَ کَذٰلِکَ اَخۡذُ رَبِّکَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰی وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ ؕ اِنَّ اَخۡذَہٗۤ اَلِیۡمٌ شَدِیۡدٌ ﴿۱۰۲﴾
اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والی ہوتی ہیں، بے شک اس کی پکڑ بڑی دردناک، بہت سخت ہے۔ En
اور تمہارا پروردگار جب نافرمان بستیوں کو پکڑا کرتا ہے تو اس کی پکڑ اسی طرح کی ہوتی ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور سخت ہے
En
تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے ﻇالموں کو پکڑتا ہے بیشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 102){وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ …: اَخَذَ} کا معنی اچانک جلدی سے پکڑ لینا، جیسا کہ کہتے ہیں: { فُلَانٌ اَخَذَهُ الْمَوْتُ } فلاں کو موت نے آ دبوچا۔ یعنی جس طرح گزشتہ سات انبیاء علیھم السلام کی اقوام پر ظلم کی وجہ سے پکڑ آئی، کسی بھی ظالم بستی (والوں) پر تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ لَيُمْلِيْ لِلظَّالِمِ حَتّٰی إِذَا أَخَذَهٗ لَمْ يُفْلِتْهُ، ثُمَّ قَرَأَ: «‏‏‏‏وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِيَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ‏‏‏‏] [بخاری، التفسیر، باب: «‏‏‏‏و کذلک أخذ ربک…» : ۴۶۸۶۔ مسلم: ۲۵۸۳] اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے، لیکن آخر کار جب اسے پکڑتا ہے تو ایسا پکڑتا ہے کہ وہ اس سے چھوٹ کر کہیں جا نہیں سکتا۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ یہ آیت ہر زمانے میں ہر ظالم کو شامل ہے۔ سلف میں سے کسی نے کہا ہے: کفر کے ساتھ سلطنت قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 یعنی جس طرح گزشتہ بستیوں کو اللہ تعالیٰ نے تباہ اور برباد کیا، آئندہ بھی وہ ظالموں کی اسی طرح گرفت کرنے پر قادر ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان اللہ لیملی للظالم حتی اذا اخذہ لم یفلتہ اللہ تعالیٰ یقیناً ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب اس کی گرفت کرنے پر آتا ہے تو پھر اس طرح اچانک گرتا ہے کہ پھر مہلت نہیں دیتا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

102۔ اور جب بھی آپ کا پروردگار کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو اس کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے بلا شبہ اس کی گرفت دکھ دینے والی اور سخت [113] ہوتی ہے
[113] یعنی اللہ ظالم لوگوں کو مہلت دیئے جاتا ہے اور مہلت سے مقصود تنبیہ بھی ہوتا ہے اور اتمام حجت بھی۔ لیکن جس قوم پر اتمام حجت ہو چکے اور تنبیہات بھی سود مند ثابت نہ ہوں اور ان لوگوں میں خیر اور بھلائی کو قبول کرنے کی استعداد ہی باقی نہ رہے تو پھر اس وقت ان پر ایسا قہر الٰہی نازل ہوتا ہے جو ان کے لیے سخت تکلیف دہ بھی ہوتا ہے اور جان لیوا بھی۔ اور اس عذاب سے بسا اوقات اس قوم کا نام و نشان ہی صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
جس طرح ان ظالموں کی ہلاکت ہوئی ان جیسا جو بھی ہوگا اسی نتیجے کو وہ بھی دیکھے گا۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ المناک اور بہت سختی والی ہوتی ہے۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ ظالموں کو ڈھیل دے کر پھر پکڑیں گے۔ وقت ناگہاں دبا لیتا ہے۔ پھر مہلت نہیں ملتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ» کی تلاوت کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686]‏‏‏‏