ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 101

وَ مَا ظَلَمۡنٰہُمۡ وَ لٰکِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡہُمۡ اٰلِہَتُہُمُ الَّتِیۡ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّکَ ؕ وَ مَا زَادُوۡہُمۡ غَیۡرَ تَتۡبِیۡبٍ ﴿۱۰۱﴾
اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن انھوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا، پھر ان کے وہ معبود ان کے کچھ کام نہ آئے جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے، جب تیرے رب کا حکم آگیا اور انھوں نے ہلاک کرنے کے سوا انھیں کچھ زیادہ نہ دیا۔ En
اور ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اُوپر ظلم کیا۔ غرض جب تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا تو جن معبودوں کو وہ خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔ اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں اور کچھ نہ کرسکے
En
ہم نے ان پر کوئی ﻇلم نہیں کیا، بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے اوپر ﻇلم کیا، اور انہیں ان کے معبودوں نے کوئی فائده نہ پہنچایا جنہیں وه اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے، جب کہ تیرے پروردگار کا حکم آپہنچا، بلکہ اور ان کا نقصان ہی انہوں نے بڑھا دیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 101) ➊ {وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ …:} یعنی ہم نے جو ان پر عذاب بھیجے اس میں ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اپنی جانوں پر ان کا سب سے بڑا ظلم اللہ کے ساتھ شرک اور پھر رسولوں کو جھٹلانا تھا، جس کی انھیں سزا ملی۔
➋ { فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ …:} پھر اللہ کا عذاب آنے پر ان کے معبود، حاجت روا، مشکل کشا، گنج بخش اور دستگیر ان کے کسی کام نہ آ سکے، بلکہ وہ ان کے لیے ہلاک کیے جانے میں اور عذاب میں اضافے ہی کا سبب بنے، کیونکہ انھی کی وجہ سے ان پر تباہی اور بربادی آئی۔ { تَتْبِيْبٍ } فعل { تَبَّ } (وہ ہلاک ہوا) سے باب تفعیل ہے، ہلاک کرنا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 ان کو عذاب اور ہلاکت سے دو چار کر کے۔ 11۔ 2 کفر و معاصی کا ارتکاب کر کے۔ 11۔ 3 جب کہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ انھیں نقصان سے بچائیں گے اور فائدہ پہنچائیں گے۔ لیکن جب اللہ کا عذاب آیا تو واضح ہوگیا کہ ان کا یہ عقیدہ فاسد تھا، اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ کے سوا کوئی کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

101۔ ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر کیا تھا۔ پھر جب اللہ کا حکم (عذاب) آگیا تو ان کے وہ معبود کچھ بھی کام نہ آئے جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے بلکہ ان معبودوں نے ان کی تباہی [112] میں کچھ اضافہ ہی کیا
[112] یعنی جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو عابد اور معبودان باطل میں کچھ امتیاز نہیں کرتا۔ معبود جب اپنے آپ کو بھی اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکتے تو وہ اپنے پیرو کاروں کو کیسے بچا سکتے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر جو قابل غور بات ہے وہ یہ ہے کہ انہی معبودوں کی وجہ سے ہی تو پیروکاروں پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ پھر ان معبودوں کے ضر رر ساں اور تباہ کار ہونے میں شبہ کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عبرت کدے کچھ آباد ہیں کچھ ویران ٭٭
نبیوں اور ان کی امتوں کے واقعات بیان فرما کر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ’ یہ ان بستیوں والوں کے واقعات ہیں، جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں۔ ان میں سے بعض بستیاں تو اب تک آباد ہیں اور بعض مٹ چکی ہیں۔ ہم نے انہیں ظلم سے ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے کفر و تکذیب کی وجہ سے اپنے اوپر اپنے ہاتھوں ہلاکت مسلط کر لی۔ اور جن معبودان باطل کے انہیں سہارے تھے وہ بروقت انہیں کچھ کام نہ آ سکے۔ بلکہ ان کی پوجا پاٹ نے انہیں اور غارت کر دیا۔ دونوں جہاں کا وبال ان پر آپڑا ‘۔