(آیت 5){فَجَعَلَهُمْكَعَصْفٍمَّاْكُوْلٍ: ”عَصْفٌ“} اناج کے دانوں سے جو چھلکا اترتا ہے، بھوسا، توڑی۔ {”مَاْكُوْلٍ“”أَكَلَيَأْكُلُأَكْلاً“} (ن) سے اسم مفعول ہے، کھایا ہوا، کھائے ہوئے بھس سے مراد جانور کی لید ہے، کیونکہ جانور بھس کھا کر لید کرتا ہے اور پھر وہ خشک ہو کر ادھر ادھر بکھر جاتی ہے۔ سنگریزوں کے عذاب سے ان کے اعضا کے بکھر جانے کو اس کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔(طبری) اللہ تعالیٰ الفاظ کے استعمال میں اعلیٰ درجے کی شائستگی اختیار فرماتے ہیں، اس مفہوم کو ”لید“ کے بجائے ”کھائے ہوئے بھس “ کے الفاظ میں ادا کیا ہے، اس سے ان کی زبوں حالی بھی نمایاں ہو رہی ہے۔ (قاسمی بحوالہ شہاب) یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ جانوروں کے کھانے کے بعد جو بھوسا بچ جاتا ہے اسے وہ پاؤں میں روند دیتے ہیں اور وہ ادھر اُدھر بکھر جاتا ہے، وہ اس بھوسے کی طرح ہو گئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 یعنی ان کے اجزائے جسم اس طرح بکھر گئے جیسے کھائی ہوئی بھوسی ہوتی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ پھر انہیں یوں بنا دیا جیسے کھایا ہوا بھوسا [6] ہو
[6]﴿عَصْفٌ﴾ بمعنی غلہ کے دانہ کے اوپر کے پردے اور چھلکے نیز توڑی اور بھوسہ وغیرہ جو مویشیوں کے لیے چارہ کا کام دیتا ہے۔ اور ﴿عَصْفٍمَاكُولٍ﴾ سے مراد یا تو چارے کا وہ حصہ یا ڈنٹھل ہیں جو جانور چرنے کے بعد آخری حصہ چھوڑ دیتے ہیں۔ یا چارے کا وہ حصہ ہے جو جانور کھاتے وقت یا جگالی کرتے وقت منہ سے نیچے گرا دیتے ہیں۔ گویا اس عذاب کے بعد ہاتھی والوں کی لاشوں کی حالت بھی سخت بگڑ گئی تھی۔ جو لوگ قرآن میں مذکور معجزات کی مادی تاویل کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں وہ اس معجزہ کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ چنانچہ دور حاضر میں پرویز صاحب نے اپنی تفسیر مفہوم القرآن میں اس کی آخری تین آیات کا ترجمہ یا مفہوم یوں بیان فرمایا ہے: (انہوں (یعنی اصحاب الفیل) نے پہاڑ کے دوسری طرف ایک غیر مانوس خفیہ راستہ اختیار کیا تھا تاکہ وہ تم پر اچانک حملہ کر دیں لیکن چیلوں اور گدھوں کے جھنڈ (جو عام طور پر لشکر کے ساتھ ساتھ اڑتے چلے جاتے ہیں، کیونکہ انہیں فطری طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بہت سی لاشیں کھانے کو ملیں گی) ان کے سروں پر منڈلاتے ہوئے آگئے اور اس طرح تم نے دور سے بھانپ لیا کہ پہاڑ کے پیچھے کوئی لشکر آرہا ہے (یوں ان کی خفیہ تدبیر طشت از بام ہو گئی) چنانچہ تم نے ان پر پتھراؤ کیا۔ اور اس طرح اس لشکر کو کھائے ہوئے بھس کی طرح کر دیا۔ (یعنی ان کا کچومر نکال دیا۔) [مفهوم القرآن ص 1484]
پرویزی تاویل اور اس کا جواب :۔
اب دیکھیے پرویز صاحب کا بیان کردہ مفہوم درج ذیل وجوہ کی بنا پر باطل ہے۔ 1۔ آپ کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ”چیلوں اور گدھوں کے جھنڈ عام طور پر لشکر کے ساتھ ساتھ اڑتے چلے جاتے ہیں تاکہ انہیں بہت سی لاشیں کھانے کو ملیں“ دور نبوی میں بے شمار جنگیں ہوئیں تو کیا کسی اور موقع پر بھی چیلوں اور گدھوں کے لشکر کے اوپر منڈلائے تھے؟ دور نبوی کے علاوہ اور کسی بھی جنگ کے موقعہ پر کہیں اوپر چیلیں اور گدھ کبھی نہیں منڈلائے۔ لہٰذا یہ پرویز صاحب کی گپ ہے۔ 2۔ ﴿سجيل﴾ کا معنی پہاڑوں کے پتھر نہیں۔ بلکہ مٹی ملے کنکر ہیں اور یہ فارسی لفظ سنگ گل سے معرب ہے۔ 3۔ ایسے کنکر یا کنکریاں پہاڑوں کے اوپر نہیں ہوتیں۔ نہ ہی ایسی کنکریوں سے کسی ایسے لشکر جرار کو ہلاک کیا جا سکتا ہے جس میں ہاتھی بھی ہوں۔ 4۔﴿ تَرْمِيْ﴾ واحد مونث غائب کا صیغہ پرندوں کی جماعت کے لیے استعمال ہوا ہے لیکن آپ نے اس کا ترجمہ ”تم نے ان پر پتھراؤ کیا“ بیان فرمایا۔ یہ ﴿تَرْمُوْنَ﴾ کا ترجمہ ہے۔ ﴿ترمي﴾ کا نہیں ہو سکتا۔ 5۔ علاوہ ازیں تاریخ سے بھی ایسی کوئی شہادت نہیں مل سکتی کہ اہل مکہ اصحاب الفیل کے مقابلے کے لیے نکلے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔