ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفيل (105) — آیت 4

تَرۡمِیۡہِمۡ بِحِجَارَۃٍ مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ۪ۙ﴿۴﴾
جو ان پر کھنگر (پکی ہوئی مٹی) کی پتھریاں پھینکتے تھے۔ En
جو ان پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے
En
جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) {تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ: سِجِّيْلٍ } کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [هِيَ سَنْكِ وَكِلْ] [بخاري، التفسیر، باب سورۃ: { ألم تر }، قبل ح: ۴۹۶۴] اس سے مراد سنگ و گل ہے۔ یعنی پکی ہوئی مٹی جسے کھنگر کہا جاتا ہے۔ لاوا اگلنے والے پہاڑوں کے ارد گرد اس قسم کے جلے ہوئے سخت سنگریزے عام ملتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 سجیل مٹی کو آگ میں پکا کر اس سے بنائے ہوئے کنکر۔ ان چھوٹے چھوٹے پتھروں یا کنکروں نے توپ کے گولوں اور بندوق کی گولیوں سے زیادہ مہلک کام کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ جو ان پر کنکروں [4] کے پتھر پھینکتے [5] تھے
[4] ﴿سجيل﴾ فارسی کے لفظ سنگ گل (بمعنی مٹی کا پتھر) سے معرب ہے۔ یعنی وہ نوکدار کنکریاں جن میں مٹی کی بھی آمیزش ہوتی ہے اور مٹی سے کنکریاں بن رہی ہوتی ہیں۔
[5] ﴿تَرْمِيْهِمْ ﴿رمي﴾ بمعنی کسی چیز کو نشانہ بنا کر دور سے پتھر کنکر وغیرہ پھینکنا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ پرندے ان پر کنکر گراتے تھے۔ بلکہ فرمایا نشانہ بنا کر پھینک رہے تھے۔ واضح رہے کہ تیر اندازی کے لیے بھی ﴿رمي﴾ کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے۔ گویا وہ پرندے یا اللہ کے لشکر باقاعدہ ان پر حملہ آور ہوئے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔