(آیت 4) {كَلَّالَيُنْۢبَذَنَّفِيالْحُطَمَةِ:”لَيُنْۢبَذَنَّ“”نَبَذَيَنْبِذُنَبْذًا“} (ض) (کسی چیز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پھینک دینا) سے واحد مذکر غائب مضارع مجہول بانون تاکید ثقیلہ ہے جو قسم کا مفہوم ادا کرتا ہے، یعنی یہ خیال ہر گز درست نہیں، بلکہ قسمیہ بات یہ ہے کہ اسے ہر حال میں اس دنیا سے جانا ہے۔ پھر اسے اس کے برے اعمال کی پاداش میں ”حطمہ“ میں پھینک دیا جائے گا۔ پھینکنے کے لفظ سے اس کی تذلیل و تحقیر نمایاں ہو رہی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا اس کا وہم اور گمان ہے۔ 4۔ 2 ایسا بخیل شخص حطمہ میں پھینک دیا جائے گا یہ بھی جہنم کا ایک نام ہے، توڑ پھوڑ دینے والی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ ہرگز نہیں وہ یقیناً چکنا چور کر دینے والی میں پھینک دیا [4] جائے گا
[4]﴿لَيُنْبَذَنَّ﴾﴿نَبَذَ﴾ بمعنی کسی چیز کو ردی اور بے کار سمجھتے ہوئے پھینک دینا یا کسی چیز کی پروا نہ کرتے ہوئے اسے پس پشت ڈال دینا اور ﴿حُطَمَةَ﴾ سے مراد دوزخ ہے۔ ﴿حُطَمَ﴾ یعنی توڑنا مروڑنا اور حُطَام توڑی مروڑی ہوئی یا ریزہ ریزہ شدہ چیز کو کہتے ہیں اور یہ لفظ کسی کو روند کر ریزہ ریزہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان دولت کے نشہ میں بد مست لوگوں کو نہایت حقیر اور ذلیل سمجھ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔