اس آیت کی تفسیر آیت 1 میں تا آیت 3 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
2۔ 1 یہ جواب قسم ہے۔ انسان کا خسارہ اور ہلاکت واضح ہے کہ جب تک وہ زندہ رہتا ہے، اس کے شب و روز سخت محنت کرتے ہوئے گزرتے ہیں، پھر جب موت سے ہمکنار ہوتا ہے تو موت کے بعد آرام اور راحت نہیں ہوتی، بلکہ وہ جہنم کا ایندھن بنتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ بلا شبہ انسان گھاٹے [2] میں ہے
[2] اس آیت کے مختلف مفہوم :۔
﴿خُسْرٍ﴾ بمعنی راس المال میں کمی واقع ہونا۔ کسی سودے میں نفع کی بجائے الٹا نقصان ہو جانا، ٹوٹا، گھاٹا اور اس کی ضد رِبْحٌ ہے بمعنی کسی سودے میں نفع ہو جانا۔ اب اگر زمانہ سے مراد گزرا ہوا زمانہ لیا جائے تو اس آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ گزرے ہوئے زمانہ کی پوری تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسان انفرادی طور پر بھی اور بحیثیت مجموعی بھی ہمیشہ گھاٹے میں ہی رہا مگر اس گھاٹے سے صرف وہ لوگ بچ سکے ہیں جن میں وہ چار صفات پائی جائیں جو آگے مذکور ہیں اور اگر عصر سے مراد گزرنے والا زمانہ لیا جائے جو بڑی تیزی سے گزرتا جا رہا ہے تو اس سے مراد ہر انسان کی مدت عمر ہو گی جو اسے اس دنیا میں بطور امتحان عمل کے لیے دی گئی ہے اور بڑی تیزی سے گزر رہی ہے۔ یہ مدت بھی اس بات پر شاہد ہے کہ جو شخص اس مدت سے صحیح فائدہ نہیں اٹھا رہا' وہ اعمال سرانجام نہیں دے رہا جو آگے مذکور ہیں۔ وہ سراسر گھاٹے میں جا رہا ہے اور اس کا سرمایہ حیات دم بہ دم لٹ رہا ہے۔ ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں نے اس سورۃ العصر کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا جو یہ صدا لگا رہا تھا۔ ”اس شخص پر رحم کرو جس کا سرمایہ دم بدم پگھل کر ضائع ہوتا جا رہا ہے“ اور امام شافعی کہتے ہیں کہ یہ سورت اپنے مضامین کے لحاظ سے اتنی جامع ہے کہ انسانی ہدایت کے لیے صرف یہی ایک سورت بھی کافی تھی اور طبرانی کی ایک روایت کے مطابق جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے سے جدا ہونے لگتے تو یہ سورت ایک دوسرے کو پڑھ کر سناتے پھر سلام کہہ کر ایک دوسرے سے جدا ہوتے تھے۔ واضح رہے کہ اس آیت میں خسارہ سے مراد اخروی نقصان ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان چار صفات کے حامل انسان دنیا میں خسارہ میں ہی رہتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں بھی ایسے لوگ خسارہ کے بجائے فائدہ میں رہ سکتے ہیں لیکن یہ بات یقینی نہیں۔ ممکن ہے انہیں دنیا میں خسارہ ہی رہے تاہم یہ بات یقینی ہے کہ آخرت میں بہرحال یہی لوگ خسارہ سے محفوظ رہیں گے اور اخروی نجات ان کے لیے یقینی ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسیلمہ کذاب اور عمرو بن عاص میں مکالمہ ٭٭
[سورة العصر کی ابتدائی تفسیر دیکھئیے]۔
مختصر نقصان اور اصحاب فلاح و نجات ٭٭
«عصر» سے مراد زمانہ ہے جس میں انسان نیکی بدی کے کام کرتا ہے، زید بن اسلم رحمہ اللہ نے اس سے مراد عصر کی نماز یا عصر کی نماز کا وقت بیان کیا ہے لیکن مشہور پہلا قول ہی ہے۔ اس قسم کے بعد بیان فرماتا ہے کہ انسان نقصان میں، ٹوٹے میں اور ہلاکت میں ہے، ہاں اس نقصان سے بچنے والے وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان ہو، اعمال میں نیکیاں ہوں، حق کی وصیتیں کرنے والے ہوں یعنی نیکی کے کام کرنے کی، حرام کاموں سے رکنے کی ایک دوسرے کو تاکید کرتے ہوں، قسمت کے لکھے پر، مصیبتوں کی برداشت پر صبر کرتے ہوں اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرتے ہوں۔ ساتھ ہی بھلی باتوں کا حکم کرنے اور بری باتوں سے روکنے میں لوگوں کی طرف سے جو بلائیں اور تکلیفیں پہنچیں تو ان کو بھی برداشت کرتے ہوں اور اسی کی تلقین اپنے ساتھیوں کو بھی کرتے ہوں یہ ہیں جو اس صریح نقصان سے مستثنیٰ ہیں۔ سورۃ والعصر کی تفسیر بحمدللہ ختم ہوئی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔