(آیت 8){ ثُمَّلَتُسْـَٔلُنَّيَوْمَىِٕذٍعَنِالنَّعِيْمِ:} یعنی صحت و عافیت، کھانے پینے اور دوسری تمام نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا کہ ان کا کہاں تک شکر ادا کیا؟ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی لذت اور معمولی سے معمولی عافیت ایسی نہیں جس کے بارے میں سوال نہ ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما بھوک کی وجہ سے گھر سے نکلے اور ایک انصاری کے گھر آئے، اس نے مہمانی میں کھجوریں اور بکری کا گوشت پیش کیا۔ آپ نے گوشت اور کھجوریں کھائیں اور اوپر سے شیریں پانی پیا۔ جب خوب سیر ہوچکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَالَّذِيْنَفْسِيْبِيَدِهِ! لَتُسْأَلُنَّعَنْهٰذَاالنَّعِيْمِيَوْمَالْقِيَامَةِ][مسلم، الأشربۃ، باب جواز استتباعہ غیرہ…: ۲۰۳۸]”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم سے قیامت کے دن اس نعمت کے بارے میں (بھی) سوال ہوگا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 یہ سوال ان نعمتوں کے بارے میں ہوگا، جو اللہ نے دنیا میں عطا کی ہونگی جیسے آنکھ، کان، دل، دماغ، امن اور صحت، مال و دولت اور اولاد وغیرہ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سوال صرف کافروں سے ہوگا بعض کہتے ہیں کہ ہر ایک سے ہوگا۔ بعض سوال مستلزم عذاب نہیں۔ جنہوں نے ان نعمتوں کا استعمال اللہ کے حکم کے مطابق کیا ہوگا وہ عذاب سے محفوظ ہوں گے اور جنہوں نے کفران نعمت کا ارتکاب کیا ہوگا وہ دھر لیے جائیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ پھر اس دن ضرور تم سے نعمتوں کے بارے میں باز پرس [6] ہو گی۔
[6] انسان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تو لا تعداد ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرمایا کہ ﴿وَاِنْتَعُدُّوْانِعْمَةَاللّٰهِلَاتُحْصُوْهَا﴾[14: 34، 16: 18] یعنی تم پر اللہ کی نعمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اگر تم انہیں شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کر سکتے۔ تاہم ان نعمتوں کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو خداداد ہیں مثلاً جوانی اور صحت جو اکیلے ہی ہزار نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ ایسی نعمتوں کے متعلق یہ سوال ہو گا کہ ان کو تم نے کس قسم کی کوششوں میں صرف کیا تھا۔ اور دوسری وہ نعمتیں ہیں جن میں انسان کے اپنے کسب کو بھی دخل ہے۔ جیسے مال و دولت اور ہر قسم کی جائیداد۔ ایسی نعمتوں کے متعلق دو طرح کے سوال ہونگے۔ ایک یہ کہ ان چیزوں کو کن اور کیسے ذرائع سے حاصل کیا اور دوسرا یہ کہ ان کو خرچ کون سے کاموں میں کیا۔ یعنی ان کا مصرف جائز تھا یا نا جائز؟ اس کی مزید تفصیل درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے: 1۔ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سی نعمت کا ہم سے سوال ہو گا (ہماری خوراک) یہی دو کالی چیزیں (کھجور اور پانی) ہے دشمن سر پر ہے اور تلواریں ہمارے کندھوں پر رہتی ہیں (پھر باز پرس کس چیز کی ہو گی؟)“ آپ نے فرمایا: ”تاہم یہ ضرور ہو گا۔“ [ترمذی۔ ابواب التفسیر] 2۔ سیدنا جابر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تر و تازہ کھجوریں کھلائیں اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: یہ ان نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ [مسلم۔ کتاب الاشربہ۔ باب جواز استتباعہ غیرہ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔