اس آیت کی تفسیر آیت 5 میں تا آیت 7 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 1 یہ قسم مخذوف کا جواب ہے یعنی اللہ کی قسم تم جہنم ضرور دیکھو گے یعنی اس کی سزا بھگتو گے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ کہ تمہیں ضرور [4] جہنم کو دیکھنا ہے
[4] دوبارہ اور سہ بارہ تاکیداً فرمایا گیا کہ تمہارے ایسے خیالات قطعاً درست نہیں ہیں۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے دلائل میں کچھ تھوڑا بہت بھی غور و فکر کر لیتے تو تمہیں یقیناً یہ بات معلوم ہو جاتی کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کے سب سامان ہیچ ہیں اور اس طرح غفلت میں نہ پڑے رہتے۔ تمہیں یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ حقیقتاً اچھے کام کون سے ہیں؟ اور آخرت سے توجہ ہٹانے اور غافل کر دینے والے کون سے؟ نیز یہ کہ کثرت کے حصول کے چکر میں پڑ کر زندگی گزارنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہیں یقیناً جہنم کو دیکھنا ہو گا اور اس کے کچھ آثار تمہیں مرنے کے فوراً بعد عالم برزخ میں ہی نظر آنے لگیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔