(آیت 4،3) {كَلَّاسَوْفَتَعْلَمُوْنَ …:} یعنی اپنی غفلت کا انجام جان لوگے۔ تاکید کے لیے بات دہرائی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 یعنی تم جن تکاثر و تفاخر میں ہو، یہ صحیح نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ ایسا ہرگز نہیں چاہئے، جلد ہی تم جان [3] لو گے
[3] یعنی تمہاری کثرت کے حصول کی خواہشات اور انہیں باتوں پر فخر و مباہات کی باتیں سراسر لغو اور باطل ہیں اور مرنے کے ساتھ ہی تمہیں خوب معلوم ہو جائے گا کہ تمہاری یہ زندگی بھر کی کوششیں فضول اور بے کار تھیں۔ اور ان میں کوئی کوشش اور کوئی چیز ایسی نہ تھی جو مرنے کے بعد تمہارے کام آسکے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کو وعید سنائی: ﴿ كَلَّاسَوْفَتَعْلَمُوْنَۙ۰۰ثُمَّكَلَّاسَوْفَتَعْلَمُوْنَؕ۰۰كَلَّالَوْتَعْلَمُوْنَعِلْمَالْیَقِیْنِ﴾”ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لوگے۔ ہرگز نہیں پھر تمھیں جلد علم ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔“ یعنی جو کچھ تمھارے سامنے ہے، اگر تم اس کو جانتے ہوتے، ایسا جاننا جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے، تو تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے کی خواہش غافل نہ کرتی اور تم جلدی سے اعمال صالحہ کی طرف بڑھتے مگر حقیقی علم کے معدوم ہونے نے تمھیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں تم اپنے آپ کو دیکھتے ہو۔ ﴿لَـتَرَوُنَّالْؔجَحِیْمَ﴾ یعنی تم ضرور قیامت کو لوٹائے جاؤگے، پس تم یقیناً اس جہنم کو دیکھ لو گے جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا توعَّدهم: {كلاَّ سوف تعلمون. ثم كلاَّ سوف تعلمون. كلاَّ لو تعلمونَ علمَ اليقينِ}؛ أي: لو تعلمون ما أمامكم علماً يصلُ إلى القلوب؛ لما ألهاكم التَّكاثر، ولبادرتم إلى الأعمال الصالحة، ولكن عدم العلم الحقيقيِّ صيَّركم إلى ما ترون، {لَتَرَوُنَّ الجحيم}؛ أي: لَتَرِدُنَّ القيامة، فلَتَرَوُنَّ الجحيم التي أعدَّها الله للكافرين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔