(آیت 9){ اَفَلَايَعْلَمُاِذَابُعْثِرَمَافِيالْقُبُوْرِ:} یعنی انسان اپنے رب کی ناشکری کرتاہے اور مال سے شدید محبت کی وجہ سے اپنے مالک کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے، تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب وہ سب کچھ نکال باہر پھینکا جائے گا جو قبروں میں ہے اور ان میں موجود تمام مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے نکال باہر کیا جائے گا؟ {”اَفَلَايَعْلَمُ“} (تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا) کا مطلب یہ ہے کہ کیا وہ اس وقت سے نہیں ڈرتا کہ اپنے مالک کو کیا جواب دے گا؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9۔ 1 بعثر، نثر وبعث یعنی قبروں کے مردوں کو زندہ کر کے اٹھا کھڑا کردیا جائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ کیا وہ جانتا نہیں کہ قبروں [9] میں جو کچھ ہے جب وہ باہر نکال لیا جائے گا
[9] یعنی جو مال اس نے خرچ کیا اس سے شہرت یا نمود و نمائش مقصود نہیں تھی بلکہ مقصود یہ تھا کہ اس کا دل بخل کے مرض سے پاک ہو جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔