ترجمہ و تفسیر — سورۃ العاديات (100) — آیت 9

اَفَلَا یَعۡلَمُ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِی الۡقُبُوۡرِ ۙ﴿۹﴾
تو کیا وہ نہیں جانتاجب قبروں میں جو کچھ ہے باہر نکال پھینکا جائے گا۔ En
کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جو (مردے) قبروں میں ہیں وہ باہر نکال لیے جائیں گے
En
کیا اسے وه وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو (کچھ) ہے نکال لیا جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9){ اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِ:} یعنی انسان اپنے رب کی ناشکری کرتاہے اور مال سے شدید محبت کی وجہ سے اپنے مالک کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے، تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب وہ سب کچھ نکال باہر پھینکا جائے گا جو قبروں میں ہے اور ان میں موجود تمام مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے نکال باہر کیا جائے گا؟ { اَفَلَا يَعْلَمُ } (تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا) کا مطلب یہ ہے کہ کیا وہ اس وقت سے نہیں ڈرتا کہ اپنے مالک کو کیا جواب دے گا؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

9۔ 1 بعثر، نثر وبعث یعنی قبروں کے مردوں کو زندہ کر کے اٹھا کھڑا کردیا جائے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ کیا وہ جانتا نہیں کہ قبروں [9] میں جو کچھ ہے جب وہ باہر نکال لیا جائے گا
[9] یعنی جو مال اس نے خرچ کیا اس سے شہرت یا نمود و نمائش مقصود نہیں تھی بلکہ مقصود یہ تھا کہ اس کا دل بخل کے مرض سے پاک ہو جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔