ترجمہ و تفسیر — سورۃ العاديات (100) — آیت 4

فَاَثَرۡنَ بِہٖ نَقۡعًا ۙ﴿۴﴾
پھر اس کے ساتھ غبار اڑاتے ہیں۔ En
پھر اس میں گرد اٹھاتے ہیں
En
پس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) {فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا: فَاَثَرْنَ أَثَارَ يُثِيْرُ إِثَارَةً (افعال) اَلْغُبَارَ } غبار اڑانا۔ { نَقْعًا } غبار۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

أثار، اڑانا۔ نقع، گرد و غبار۔ یعنی یہ گھوڑے جس وقت تیزی سے دوڑتے یا دھاوا بولتے ہیں تو اس جگہ پر گرد و غبار چھا جاتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ پھر ان کی جو غبار اڑاتے [4] ہیں
[4] ﴿تردّي ﴿ردي﴾ بمعنی کسی چیز کو بلندی سے زمین پردے مارنا یا زمین سے کسی گڑھے میں پھینک دینا تاکہ وہ ہلاک ہو جائے اور ﴿تردي﴾ کے معنی خود کنوئیں یا گڑھے میں گرنا اور ہلاکت کو پہنچنا ہے اور یہاں گڑھے سے مراد جہنم کا گڑھا ہے۔ یعنی یہ دوسری قسم کا آدمی جہنم کے گڑھے میں گر پڑے گا تو اس وقت اس کا مال جسے وہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا تھا کسی کام نہ آسکے گا کیونکہ وہ مال تو دنیا میں ہی رہ گیا ہو گا۔ وہاں کیسے کام آسکتا ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔