(آیت 97) {وَلَوْجَآءَتْهُمْكُلُّاٰيَةٍ …:} یعنی کوئی بھی نشانی یا معجزہ آ جائے، وہ ہر گز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ عذاب الیم دیکھ لیں، مگر اس وقت انھیں ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا، جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کو کچھ فائدہ نہیں ہوا اور اسی طرح دوسرے پیغمبروں کی امتوں کے کفار کو اللہ کا عذاب دیکھنے پر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ دیکھیے سورۂ مومن (۸۵) اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اگر اس وقت ان کو چھوڑ دیا جائے تو وہ دوبارہ کفر کی روش پر چل نکلیں گے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۷، ۲۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
97۔ 1 یہ وہی لوگ ہیں جو کفر و مصیت الٰہی میں اتنے غرق ہوچکے ہوتے ہیں کہ کوئی و عظ ان پر اثر نہیں کرتا اور کوئی دلیل ان کے کارگر نہیں ہوتی۔ اسلئے نافرمانیاں کرکے قبول حق کی فطری استعداد و صلاحیت کو وہ ختم کر لئے ہوتے ہیں، ان کی آنکھیں اگر کھلتی ہیں تو اس وقت، جب عذاب الٰہی ان کے سروں پر آجاتا ہے، تب وہ ایمان اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا (فَلَمْيَكُيَنْفَعُهُمْاِيْمَانُهُمْلَمَّارَاَوْابَاْسَـنَا) (40۔ المومن۔ 85) ' جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے انھیں کوئی فائدہ نہیں دیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
97۔ خواہ ان کے پاس کوئی بھی معجزہ آجائے تا آنکہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔