ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 96

اِنَّ الَّذِیۡنَ حَقَّتۡ عَلَیۡہِمۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۙ۹۶﴾
بے شک وہ لوگ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ En
جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پاچکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے
En
یقیناً جن لوگوں کے حق میں آپ کے رب کی بات ﺛابت ہوچکی ہے وه ایمان نہ ﻻئیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 96) {اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ …:} اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک ارادہ و اختیار دیا ہے، جس کے مطابق وہ نیکی یا بدی میں سے جس پر چاہے عمل کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کو وہ سب کچھ معلوم ہے جو شروع سے اب تک واقع ہوا، اسی طرح وہ آئندہ ہونے والی ہر بات کا بھی پورا علم رکھتا ہے اور اس کی رو سے اسے پہلے ہی معلوم ہے کہ اپنے ارادہ و اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کون حق کو قبول کرے گا اور کون کفر کی راہ اختیار کرے گا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اس ازلی علم کو { كَلِمَتُ رَبِّكَ } کہا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کفر میں اور اللہ کی نافرمانی میں اس قدر غرق ہو جاتے ہیں کہ ان کی حق قبول کرنے کی استعداد ہی ختم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ وہ کسی صورت ایمان نہیں لاتے، بلکہ وہ کفر ہی پر مریں گے اور ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انھیں ایمان لانے کی توفیق نہیں ہو گی۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۶)، یس(۷) اور زمر (۱۹)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

96۔ جن لوگوں پر آپ کے پروردگار کا حکم (عذاب) ثابت ہو چکا ہے وہ [105] ایمان نہیں لائیں گے
[105] شک کے مرتکب:۔
شک اور تکذیب کے کئی مراحل ہیں سب سے پہلے شک پیدا ہوتا ہے اگر اس کا ازالہ نہ کیا جائے اور شک ترقی کر کے جدل کی صورت اختیار کر لیتا ہے یعنی ایسا شخص دلیل بازیوں پر اتر آتا ہے اور دوسروں سے جھگڑا شروع کر دیتا ہے۔ پھر اس کے بعد تکذیب کا درجہ آتا ہے یعنی ایسا انسان یکسر اللہ کی آیات کا انکار کر دیتا ہے پھر جب وہ اس تکذیب میں پختہ ہو جاتا ہے تو پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ کوئی حق بات قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس سے قبول حق کی استعداد ہی چھن جاتی ہے۔ مہر کب لگتی ہے؟ یہی وہ کیفیت ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر مہر لگنے سے تعبیر فرمایا ہے ایسے لوگوں کو اللہ کی کوئی بھی نشانی یا معجزہ راہ راست کی طرف لانے میں ممد ثابت نہیں ہو سکتا وہ بس اس وقت ہی ایمان لاتے ہیں جب کوئی جان لیوا عذاب دیکھ لیتے ہیں جیسے فرعون جب غرق ہونے لگا تھا تو اس وقت ایمان لایا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ جن لوگوں کے بارے میں آپ کے رب کا حکم قرار پاچکا ہے۔ یعنی وہ لوگ جن پر یہ بات صادق آئی کہ وہ گمراہ، بھٹکے ہوئے اور جہنمی ہیں تو یہ لابدی ہے کہ وہ وہی کچھ کریں گے جو اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں مقدر ہو چکا ہے اگر ان کے پاس ہر قسم کی نشانی اور معجزہ بھی آجائے، تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ آیات و معجزات ان کی سرکشی اور گمراہی میں اضافہ ہی کرتے ہیں۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے حق کو جھٹلا کر، جب حق ان کے پاس پہلی مرتبہ آیا خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر، کانوں پر اور آنکھوں پر مہر لگا دی اور اب وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس وقت حق یقین کے ساتھ معلوم ہو جائے گا کہ وہ اب تک جس راستے پر چلتے رہے ہیں وہ گمراہی کا راستہ ہے اور جو چیز رسول لے کر آئے ہیں وہ حق ہے مگر اس روز ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اس روز ظالموں کی معذرت کسی کام نہ آئے گی اور ان کی کوئی معذرت قبول نہ ہوگی۔ آیات و معجزات صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتے ہیں جو دل رکھتے ہیں اور توجہ سے سنتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {إنَّ الذين حقَّتْ عليهم كلمةُ ربِّك}؛ أي: إنهم من الضالين الغاوين أهل النار، لا بدَّ أن يصيروا إلى ما قدَّره الله وقضاه؛ فلا يؤمنون ولو جاءتهم كلُّ آية؛ فلا تزيدُهم الآيات إلا طغياناً وغيًّا إلى غيِّهم، وما ظلمهم الله ولكن ظلموا أنفسهم بردِّهم للحقِّ لما جاءهم أول مرة، فعاقبهم الله بأن طبع على قلوبهم وأسماعهم وأبصارهم فلا يؤمنوا حتى يَرَوا العذاب الأليم الذي وُعِدوا به؛ فحينئذٍ يعلمون حقَّ اليقين أنَّ ما هم عليه هو الضلال وأنَّ ما جاءتهم به الرسلُ هو الحقُّ، ولكنْ في وقتٍ لا يُجدي عليهم إيمانهم شيئاً؛ فيومئذٍ لا ينفع الذين ظلموا معذِرَتُهم ولا هم يُسْتَعْتَبون. وأما الآياتُ؛ فإنَّها تنفعُ مَنْ له قلبٌ أو ألقى السمع وهو شهيدٌ.