ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 92

فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴿٪۹۲﴾
پس آج ہم تجھے تیرے (خالی) بدن کے ساتھ بچالیں گے، تاکہ تو ان کے لیے عظیم نشانی بنے جو تیرے بعد ہوں اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے یقینا غافل ہیں۔ En
تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بےخبر ہیں
En
سو آج ہم صرف تیری ﻻش کو نجات دیں گے تاکہ تو ان کے لیے نشان عبرت ہو جو تیرے بعد ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آدمی ہماری نشانیوں سے غافل ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 92) ➊ {فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ …: نُنَجِّيْ نَجَا يَنْجُوْ } سے باب تفعیل ہے۔ { نَجَّاهُ اللّٰهُ } اللہ تعالیٰ نے اسے بچا لیا۔ {اَلنَّجْوَةُ } یا { اَلنَّجَا} اونچی جگہ یا ٹیلے کو بھی کہتے ہیں۔ { نَجَّاهُ } کا معنی اس صورت میں یہ ہو گا کہ اس نے اسے اونچی جگہ پھینک دیا، یعنی آج ہم تمھارے بے جان لاشے کو سمندر سے بچا لیں گے، یا اونچی جگہ پھینک دیں گے، تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے ایک عظیم نشانی بنے۔ { اٰيَةً } میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی فرعون اور اس کی ساری فوج کے غرق ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون کی لاش سمندر کے کنارے پر باہر نکال پھینکی، تاکہ وہ بعد والوں کے لیے عظیم نشانی بنے اور بنی اسرائیل کے کمزور عقیدے والوں کو بھی خدائی کے دعوے دار کی حقیقت اور انجام آنکھوں سے دیکھنے کا موقع مل جائے اور فرعون اور اس کا سمندر میں غرق ہونے کا واقعہ بعدمیں ہر اس شخص کے لیے قدرت کی عظیم نشانی بن جائے جو اس کو سنے یا پڑھے۔ عام طور پر مشہور ہے کہ فرعون کی لاش مصر کے عجائب گھر میں اب تک محفوظ ہے مگر اس کی کوئی دلیل نہیں کہ یہ اسی فرعون کی لاش ہے۔ علاوہ ازیں اگر اس کی لاش محفوظ نہ بھی رہے تو تاریخ اور قرآن میں اس واقعہ کا ذکر ہی بعد والوں کے لیے بطور عبرت اور نشانی کافی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب سبت کو بندر بنانے کے متعلق فرمایاـ: «{ فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ [البقرۃ: ۶۶] تو ہم نے اسے (یعنی اس واقعہ کو) ان لوگوں کے لیے جو اس کے سامنے تھے اور جو اس کے پیچھے تھے ایک عبرت اور ڈرنے والوں کے لیے ایک نصیحت بنا دیا۔ حالانکہ ان میں سے کسی مسخ شدہ بندر کی کوئی ممی کہیں موجود نہیں۔ الغرض! یہ اس فرعون کی لاش نہ ہو تب بھی بعد والوں کے لیے اس واقعہ کے نشان عظیم ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
➋ ہمارے شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: آج تک جزیرہ نمائے سینا کے مغربی ساحل پر اس مقام کی نشان دہی کی جاتی ہے، جہاں فرعون کی لاش سمندر میں تیرتی ہوئی پائی گئی۔ اس زمانے میں اس مقام کو جبلِ فرعون یا حمامہ فرعون کہا جاتا ہے۔ اس کی جائے وقوع ابوزنیمہ (جہاں تانبے وغیرہ کی کانیں ہیں) سے چند میل اوپر شمال کی جانب ہے، آج قاہرہ کے عجائب گھر میں جن فرعونوں کی لاشیں موجود ہیں ان میں سے ایک فرعون کی لاش کو اسی فرعون کی لاش بتایا جاتا ہے۔ ۱۹۰۷ ء میں جب فرعونوں کی لاشیں دریافت ہوئی تھیں تو اس فرعون کی لاش پر نمک کی ایک تہ جمی ہوئی پائی گئی تھی جو سمندر کے کھاری پانی میں اس کی غرقابی کی کھلی علامت تھی۔
شاہ عبد القادررحمہ اللہ فرماتے ہیں: جیسا وہ بے وقوف ایمان لایا بے فائدہ ویسا ہی اللہ نے مرنے کے بعد اس کا بدن دریا سے نکال کر ٹیلے پر ڈال دیا، تاکہ بنی اسرائیل دیکھ کر شکر کریں اور عبرت پکڑیں۔ اس کو بدن بچنے سے کیا فائدہ؟ (موضح)
➌ {وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ:} یعنی ان پر غور نہیں کرتے اور ان سے سبق حاصل نہیں کرتے، اگر غور کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ انسان کی بساط کیا ہے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

92۔ 1 جب فرعون غرق ہوگیا تو اس کی موت کا بہت سے لوگوں کو یقین نہ آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا، کہ اس نے اس کی لاش کو باہر خشکی پر پھینک دیا، جس کا مشاہدہ پھر سب نے کیا۔ مشہور ہے کہ آج بھی یہ لاش مصر کے عجائب خانے میں محفوظ ہے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بالصَّوَابِ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

92۔ آج تو ہم تیری لاش کو بچا لیں گے تاکہ تو بعد میں [102] آنے والوں کے لئے نشان عبرت بنے، اگرچہ اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت ہی برتتے ہیں
[102] فرعون کی لاش کی حفاظت کا مطلب:۔
یعنی تیری لاش نہ تو سمندر میں ڈوب کر معدوم ہو جائے گی اور نہ مچھلیوں کی خوراک بنے گی، چونکہ فرعون کے ڈوب کر مر جانے کے بعد ایک لہر اٹھی جس نے اس کی لاش کو سمندر کے کنارے ایک اونچے ٹیلے پر پھینک دیا تاکہ باقی لوگ فرعون کا لاشہ دیکھ کر عبرت حاصل کریں کہ جو بادشاہ اتنا طاقتور اور زور آور تھا اور خود خدائی کا دعویدار تھا بالآخر اس کا انجام کیا ہوا؟ مگر انسانوں کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایسی نشانیاں دیکھنے اور ان کا اعتراف کرنے کے باوجود عبرت حاصل نہیں کرتے اور نہ ہی اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ لاش مدتوں اسی حالت میں پڑی رہی اور گلنے سڑنے سے بچی رہی اور بعد میں آنے والی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنی رہی۔ جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ لاش آج تک محفوظ ہے جس پر سمندر کے پانی کے نمک کی تہہ جمی ہوئی ہے۔ جو اسے بوسیدہ ہونے اور گلنے سڑنے سے بچانے کا ایک سبب بن گئی ہے اور یہ لاش قاہرہ کے عجائب خانہ میں آج تک محفوظ ہے۔ واللہ اعلم۔ تاہم الفاظ قرآنی کی صحت اس کے ثبوت پر موقوف نہیں کہ اس کی لاش تا قیامت محفوظ ہی رہے۔
عاشورہ کا روزہ:۔
فرعون کی غرقابی کا واقعہ 10 محرم کو پیش آیا تھا اسی لیے یہود فرعون سے نجات کی خوشی کے طور پر روزہ رکھتے تھے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسلمانوں کو اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا اور یہود کی مخالفت کے لیے ساتھ 9 محرم یا 11 محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دیا پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو اس دن کے روزہ کی حیثیت نفلی روزہ کی سی رہ گئی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔