قَالَ قَدۡ اُجِیۡبَتۡ دَّعۡوَتُکُمَا فَاسۡتَقِیۡمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیۡلَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۹﴾
فرمایا بلاشبہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، پس دونوں ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے راستے پر ہرگز نہ چلو جو نہیں جانتے۔
En
خدا نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے رستے نہ چلنا
En
حق تعالیٰ نے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، سو تم ﺛابت قدم رہو اور ان لوگوں کی راه نہ چلنا جن کو علم نہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 89) ➊ { قَالَ قَدْ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا:} یعنی یقینا تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی۔ معلوم ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام بھی اس دعا میں شریک تھے۔ بعض اہل علم کے اقوال ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے تھے اور ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے، مگر یہ بات قرآن مجید سے یا حدیث سے مجھے نہیں ملی۔
➋ { فَاسْتَقِيْمَا:} اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ دعوت پر ثابت قدم رہو، بے شک تمھاری دعا قبول ہے، مگر قبولیت ظاہر ہونے میں دیر ہو سکتی ہے، اس لیے دیر کی وجہ سے دعوت میں کوتاہی نہ کرنا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے کہ قبولیت کااثر کب ظاہر ہو گا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اب اپنی اس بد دعا پر قائم رہنا، ایسا نہ ہو کہ میرا عذاب آنے پر ان کی سفارش کرنے لگو۔ یہ ایسے ہی ہے جس طرح نوح علیہ السلام نے بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ یہ سارے کافر غرق ہوں گے، مگر اب مجھ سے ان ظالموں کے (حق میں) بات نہ کرنا۔ (دیکھیے ہود: ۳۷) اللہ تعالیٰ کو نوح اور موسیٰ علیہما السلام کی بددعا کے باوجود ان کے دل کی نرمی کا علم تھا، اس لیے انھیں پہلے ہی اپنی بددعا پرثابت رہنے کی تاکید فرما دی۔ مگر نوح علیہ السلام پھر بھی بیٹے کے لیے سفارش کر بیٹھے اور انھیں اللہ تعالیٰ کا عتاب سننا پڑا، جس پر انھوں نے معافی مانگی۔ دیکھیے سورۂ ہود (۴۵ تا ۴۷)۔
➌ { وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيْلَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی ان لوگوں کا راستہ اختیار نہ کرنا جو دعوت کے کام میں حوصلہ چھوڑ بیٹھتے ہیں، یا دعا کرتے ہی چاہتے ہیں کہ ان کا مطلب پورا ہو جائے اور اگر فوراً پورا نہ ہو تو شکایت کرنے لگتے ہیں کہ ہم نے بہت دعائیں کیں مگر پروردگار نے قبول ہی نہیں کیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، يَقُوْلُ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِيْ] [بخاری، الدعوات، باب یستجاب للعبد ما لم یعجل: ۶۳۴۰۔ مسلم: ۲۷۳۵، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ”تم میں سے کسی شخص کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ جلدی نہیں کرتا، یہ نہیں کہتا کہ میں نے دعا کی مگر میری دعا قبول نہیں کی گئی۔“
➋ { فَاسْتَقِيْمَا:} اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ دعوت پر ثابت قدم رہو، بے شک تمھاری دعا قبول ہے، مگر قبولیت ظاہر ہونے میں دیر ہو سکتی ہے، اس لیے دیر کی وجہ سے دعوت میں کوتاہی نہ کرنا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے کہ قبولیت کااثر کب ظاہر ہو گا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اب اپنی اس بد دعا پر قائم رہنا، ایسا نہ ہو کہ میرا عذاب آنے پر ان کی سفارش کرنے لگو۔ یہ ایسے ہی ہے جس طرح نوح علیہ السلام نے بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ یہ سارے کافر غرق ہوں گے، مگر اب مجھ سے ان ظالموں کے (حق میں) بات نہ کرنا۔ (دیکھیے ہود: ۳۷) اللہ تعالیٰ کو نوح اور موسیٰ علیہما السلام کی بددعا کے باوجود ان کے دل کی نرمی کا علم تھا، اس لیے انھیں پہلے ہی اپنی بددعا پرثابت رہنے کی تاکید فرما دی۔ مگر نوح علیہ السلام پھر بھی بیٹے کے لیے سفارش کر بیٹھے اور انھیں اللہ تعالیٰ کا عتاب سننا پڑا، جس پر انھوں نے معافی مانگی۔ دیکھیے سورۂ ہود (۴۵ تا ۴۷)۔
➌ { وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيْلَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی ان لوگوں کا راستہ اختیار نہ کرنا جو دعوت کے کام میں حوصلہ چھوڑ بیٹھتے ہیں، یا دعا کرتے ہی چاہتے ہیں کہ ان کا مطلب پورا ہو جائے اور اگر فوراً پورا نہ ہو تو شکایت کرنے لگتے ہیں کہ ہم نے بہت دعائیں کیں مگر پروردگار نے قبول ہی نہیں کیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، يَقُوْلُ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِيْ] [بخاری، الدعوات، باب یستجاب للعبد ما لم یعجل: ۶۳۴۰۔ مسلم: ۲۷۳۵، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ”تم میں سے کسی شخص کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ جلدی نہیں کرتا، یہ نہیں کہتا کہ میں نے دعا کی مگر میری دعا قبول نہیں کی گئی۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
89۔ 1 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اپنی بد دعا پر قائم رہنا، چاہے اس کے ظہور میں تاخیر ہوجائے۔ کیونکہ تمہاری دعا تو یقینا قبول کرلی گئی لیکن ہم اسے عملی جامہ کب پہنائیں گے؟ یہ خالص ہماری مشیت و حکمت پر موقوف ہے۔ چناچہ بعض مفسرین نے بیان کیا کہ اس بد دعا کے چالیس سال بعد فرعون اور اس کی قوم ہلاک کی گئی اور بد دعا کے مطابق فرعون جب ڈوبنے لگا تو اس وقت اس نے ایمان لانے کا اعلان کیا، جس کا اسے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ دوسرا مطلب یہ کہ تم اپنی تبلیغ و دعوت۔ بنی اسرائیل کی ہدایت و راہنمائی اور اس کو فرعون کی غلامی سے نجات دلانے کی جد و جہد جاری رکھو۔ 98۔ 2 یعنی جو لوگ اللہ کی سنت، اس کے قانون، اور اس کی مصلحتوں اور حکمتوں کو نہیں جانتے، تم ان کی طرح مت ہونا بلکہ اب انتظار اور صبر کرو، اللہ تعالیٰ اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق جلد یا بہ دیر اپنا وعدہ یعتزرون 11 یونس 10 ضرور پورا فرمائے گا۔ کیونکہ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
89۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم دونوں کی دعا قبول ہو چکی تم ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کی پیروی نہ کرو [99] جو علم نہیں رکھتے
[99] کامیابی کے لئے صبر و استقلال کی اہمیت:۔
پیغمبروں کی دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے انھیں اور مسلمانوں کی جماعت کو صبر، استقلال اور ثابت قدمی کی تلقین فرمائی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو لوگ زندگی کی کامیابی کا منتہائے مقصود صرف دنیا کے مال و دولت اور شان و شوکت ہی کو سمجھ بیٹھے ہیں ان کی طرف مطلقاً التفات نہ کرو کیونکہ ان کا یہ نظریہ محض جہالت پر مبنی ہے اور اللہ تعالیٰ جلد ہی تمہیں ان لوگوں سے نجات دے دے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرعون کا تکبر اور موسیٰ علیہ السلام کی بددعا ٭٭
جب فرعون اور فرعونیوں کا تکبر، تحیر، تعصب بڑھتا ہی گیا۔ ظلم و ستم بے رحمی اور جفا کاری انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ کے صابر نبیوں نے ان کے لیے بد دعا کی کہ ”یا اللہ تو نے انہیں دنیا کی زینت و مال خوب خوب دیا اور تو بخوبی جانتا ہے کہ وہ تیرے حکم کے مطابق مال خرچ نہیں کرتے۔ یہ صرف تیری طرف سے انہیں ڈھیل اور مہلت ہے۔“
یہ مطلب تو ہے جب «لِيَضِلُّوْا» پڑھا جائے جو ایک قرأت ہے اور جب «لِیُضِلُّوْا» پڑھیں تو مطلب یہ ہے کہ یہ اس لیے کہ وہ اوروں کو گمراہ کریں جن کی گمراہی تیری چاہت میں ہے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ یہی لوگ اللہ کے محبوب ہیں ورنہ اتنی دولت مندی اور اس قدر عیش و عشرت انہیں کیوں نصیب ہوتا ہے؟ اب ہمای دعا ہے کہ ان کے یہ مال تو غارت اور تباہ کر دے۔ چنانچہ ان کے تمام مال اسی طرح پتھر بن گئے۔ سونا چاندی ہی نہیں بلکہ کھیتیاں تک پتھر کی ہو گئیں۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ اس سورۃ یونس کی تلاوت امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے کر رہے تھے جب اس آیت تک پہنچے تو خلیفۃالمسلمین نے سوال کیا کہ یہ «طْمِسْ» کیا چیز ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”ان کے مال پتھر بنا دیئے گئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا صندوقچہ منگوا کر اس میں سے سفید چنا نکال کر دکھایا جو پتھر بن گیا تھا۔ [الدر المنشور للسیوطی:566/3:ضعیف]۔
یہ مطلب تو ہے جب «لِيَضِلُّوْا» پڑھا جائے جو ایک قرأت ہے اور جب «لِیُضِلُّوْا» پڑھیں تو مطلب یہ ہے کہ یہ اس لیے کہ وہ اوروں کو گمراہ کریں جن کی گمراہی تیری چاہت میں ہے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ یہی لوگ اللہ کے محبوب ہیں ورنہ اتنی دولت مندی اور اس قدر عیش و عشرت انہیں کیوں نصیب ہوتا ہے؟ اب ہمای دعا ہے کہ ان کے یہ مال تو غارت اور تباہ کر دے۔ چنانچہ ان کے تمام مال اسی طرح پتھر بن گئے۔ سونا چاندی ہی نہیں بلکہ کھیتیاں تک پتھر کی ہو گئیں۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ اس سورۃ یونس کی تلاوت امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے کر رہے تھے جب اس آیت تک پہنچے تو خلیفۃالمسلمین نے سوال کیا کہ یہ «طْمِسْ» کیا چیز ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”ان کے مال پتھر بنا دیئے گئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا صندوقچہ منگوا کر اس میں سے سفید چنا نکال کر دکھایا جو پتھر بن گیا تھا۔ [الدر المنشور للسیوطی:566/3:ضعیف]۔
اور دعا کی کہ ”پروردگار ان کے دل سخت کر دے ان پر مہر لگا دے کہ انہیں عذاب دیکھنے تک ایمان لانا نصیب نہ ہو۔“ یہ بد دعا صرف دینی حمیت اور دینی دل سوزی کی وجہ سے تھی یہ غصہ اللہ اور اس کے دین کی خاطر تھا۔ جب دیکھ لیا اور مایوسی کی حد آ گئی۔ نوح علیہ السلام کی دعا ہے کہ «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26،27] ’ الٰہی زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑ ورنہ اوروں کو بھی بہکائیں گے اور جو نسل ان کی ہو گی وہ بھی انہیں جیسی بے ایمان بدکار ہوگی ‘۔
جناب باری نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام دونوں بھائیوں کی یہ دعا قبول فرمائی۔ موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے جاتے تھے اور ہارون علیہ السلام آمین کہتے جاتے تھے۔ اسی وقت وحی آئی کہ ”ہماری یہ دعا مقبول ہوگئی“ سے دلیل پکڑی گئی ہے کہ آمین کا کہنا بمنزلہ دعا کرنے کے ہے کیونکہ دعا کرنے والے صرف موسیٰ علیہ السلام تھے آمین کہنے والے ہارون علیہ السلام تھے لیکن اللہ نے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی۔ پس مقتدی کے آمین کہہ لینے سے گویا فاتحہ کا پڑھ لینے والا ہے۔
’ پس اب تم دونوں بھائی میرے حکم پر مضبوطی سے جم جاؤ۔ جو میں کہوں بجا لاؤ ‘۔ اسی دعا کے بعد فرعون چالیس ماہ زندہ رہا کوئی کہتا ہے چالیس دن۔
جناب باری نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام دونوں بھائیوں کی یہ دعا قبول فرمائی۔ موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے جاتے تھے اور ہارون علیہ السلام آمین کہتے جاتے تھے۔ اسی وقت وحی آئی کہ ”ہماری یہ دعا مقبول ہوگئی“ سے دلیل پکڑی گئی ہے کہ آمین کا کہنا بمنزلہ دعا کرنے کے ہے کیونکہ دعا کرنے والے صرف موسیٰ علیہ السلام تھے آمین کہنے والے ہارون علیہ السلام تھے لیکن اللہ نے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی۔ پس مقتدی کے آمین کہہ لینے سے گویا فاتحہ کا پڑھ لینے والا ہے۔
’ پس اب تم دونوں بھائی میرے حکم پر مضبوطی سے جم جاؤ۔ جو میں کہوں بجا لاؤ ‘۔ اسی دعا کے بعد فرعون چالیس ماہ زندہ رہا کوئی کہتا ہے چالیس دن۔