ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 85

فَقَالُوۡا عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡنَا ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَۃً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۸۵﴾
تو انھوں نے کہا ہم نے اللہ ہی پر بھروسا کیا، اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا۔ En
تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال
En
انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا۔ اے ہمارے پروردگار! ہم کو ان ﻇالموں کے لئے فتنہ نہ بنا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 86،85) { فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا …:} انھوں نے پیغمبر کی نصیحت کو نہ صرف قبول کیا بلکہ زبان سے اقرار بھی کیا کہ ہم صرف اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں، وہی ہمارا سہارا ہے اور اس کے ساتھ دو دعائیں کیں اور یہ دونوں دعائیں ظالم حکمرانوں کے ظلم سے بچنے کے لیے اکسیر ہیں۔ پہلی دعا یہ کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا۔ { فِتْنَةً } کا لفظ مصدر ہے جو { فَتَنَ } فعل معروف کا مصدر بمعنی اسم فاعل ہو گا، یعنی { فَاتِنِيْنَ} فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے۔ اسی طرح یہ { فُتِنَ} فعل مجہول کا مصدر بمعنی اسم مفعول بھی ہو سکتا ہے، یعنی { مَفْتُوْنِيْنَ } فتنے میں ڈالے ہوئے۔ پہلی صورت میں معنی ہو گا کہ یا اللہ! تو ہمیں ان ظالموں کو فتنے میں ڈالنے والے، یعنی کفر کے فتنے میں ڈالنے کا باعث نہ بنا کہ اگر یہ ہم پر مسلط رہے اور ہم مسلسل ان کے ظلم کا نشانہ ہی بنے رہے تو یہ اپنے سچے ہونے اور حق پر ہونے کے فتنے میں پڑ جائیں گے اور کفر میں مزید پختہ ہو جائیں گے اور سمجھیں گے کہ اگر مسلمان سچے اور حق پر ہوتے تو ان کا رب ضرور ان کی مدد کرتا، جیسا کہ ایک شاعر نے کہا ہے۔
حق پرستوں کی اگر کی تو نے دل جوئی نہیں
طعنہ دیں گے بت کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں
اور { فِتْنَةً } کو مصدر مجہول ماننے کی صورت میں معنی یہ ہو گا کہ ہمیں ان ظالموں کے لیے (مفتون) فتنے میں پڑ جانے والے نہ بنا کہ ان کے ظلم و تشدد کی وجہ سے ہمارا کوئی شخص فتنۂ ارتداد میں پڑ کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دوسری دعا یہ کی کہ پروردگارا! تو ہمیں صرف ان کے لیے فتنے کا باعث بننے ہی سے نہ بچا، بلکہ اپنی رحمت کے ساتھ ان کافروں سے ہمیں نجات اور آزادی بھی دلا۔ اس دعا سے معلوم ہوا کہ اللہ کے بندوں کو ایمان اور آخرت کی کتنی فکر تھی کہ وہ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ وہ کسی شخص کے کفر میں مبتلا رہنے کا باعث بنیں اور نہ یہ چاہتے تھے کہ کسی کے ظلم کی وجہ سے خود فتنے میں پڑ کر اپنا ایمان ضائع کر بیٹھیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

85۔ وہ کہنے لگے: ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا ہے۔ اے ہمارے پروردگار! ہمیں ان ظالموں کا تختہ مشق [96] نہ بنا
[96] کامیابی کے لئے وسائل اور اسباب اختیار کرنا اور دعا کرنا دونوں لازم و ملزوم ہیں:۔
اس آیت میں انبیاء کی دعوت و تبلیغ کے ابتدائی دور کا نقشہ پیش کیا جا رہا ہے۔ انبیاء کی دعوت کو ابتداء میں قبول کرنے والے چند نوجوان اور با ہمت لوگ ہی ہوتے ہیں جنہیں مخالفین کے شدائد اور ظلم و ستم کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ پھر ان کے بزرگوں کی مصلحت کوشیاں بھی ان کے آڑے آتی ہیں اور ایک کثیر طبقہ تماشا دیکھنے والوں کا بھی موجود ہوتا ہے جو ان حالات میں غیر جانب دار رہتے ہیں وہ صرف اس انتظار میں رہتے ہیں جو فریق بھی غالب ہو گا وہ اس کے ساتھ مل جائیں گے اور اگر ان جوانوں کی جماعت کو کوئی مصیبت پیش آجائے تو ان کے لیے اپنے بزرگ بھی جو دل سے مومن ہوتے ہیں ان کی پیش رفت پر طعنہ زنی کرنے اور کیڑے نکالنے لگتے ہیں گویا یہ دور ہر طرح سے اس مختصر سی مسلمان جماعت کے لیے سخت ابتلا کا دور ہوتا ہے۔ یہی صورتحال موسیٰؑ پر ایمان لانے والے ان نوجوانوں کی تھی جو اپنے ایمان پر ثابت قدم رہتے اور اللہ پر بھروسہ کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ سے دعائیں بھی کرتے تھے کہ ”اے ہمارے پروردگار! ہم پر رحم فرما اور جن مشکلات میں ہم گھرے ہوئے ہیں اس سے نجات کی راہ پیدا فرما دے“ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے وسائل و اسباب کو اختیار کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے دعا کرتے رہنا دونوں باتیں کامیابی کے لیے لازم و ملزوم ہیں نیز یہ بھی کہ وسائل و اسباب کو اختیار کیے بغیر محض دعاؤں پر انحصار کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ دعا بھی صرف اس صورت میں قبول کرتا اور اپنی رحمت اور مدد نازل فرماتا ہے جب انسان یا کوئی قوم اپنے مقدور بھر اسباب و وسائل کو بھی اختیار کرتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ پر مکمل بھروسہ ایمان کی روح ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرماتے ہیں کہ «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ» ۱؎ [39-الزمر:36]‏‏‏‏ ’ اگر تم مومن مسلمان ہو تو اللہ پر بھروسہ رکھو ‘، «وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ» ۱؎ [65-الطلاق:3]‏‏‏‏ ’ جو اس پر بھروسہ کرے وہ اسے کافی ہے ‘، عبادت و توکل دونوں ہم پلہ چیزیں ہیں۔
فرمان رب العالمین ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» ۱؎ [11-ھود:123]‏‏‏‏ ’ اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ ‘۔
ایک اور آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ «قُلْ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا» ۱؎ [67-الملک:29]‏‏‏‏ ’ کہہ دے کہ رب رحمن پر ہم ایمان لائے اور اسی کی ذات پاک پر ہم نے توکل کیا ‘۔
فرماتا ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:9]‏‏‏‏ ’ مشرق و مغرب کا رب جو عبادت کے لائق معبود ہے، جس کے سوا پرستش کے لائق اور کوئی نہیں۔ تو اسی کو اپنا وکیل و کارساز بنا لے ‘۔
تمام ایمانداروں کو جو سورت پانچوں نمازوں میں تلاوت کرنے کا حکم ہوا اس میں بھی ان کی زبانی اقرار کرایا گیا ہے کہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» ۱؎ [1-الفاتحة:5]‏‏‏‏ ’ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں ‘۔
بنو اسرائیل نے اپنے نبی علیہ السلام کا یہ حکم سن کر اطاعت کی اور جواباً عرض کیا کہ ہمارا بھروسہ اپنے رب پر ہی ہے۔ پروردگار تو ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا کہ وہ ہم پر غالب رہ کر یہ سمجھنے لگیں کہ اگر یہ حق پر ہوتے اور ہم باطل پر ہوتے تو ہم ان پر غالب کیسے رہ سکتے۔‏‏‏‏
یہ مطلب بھی اس دعا کا بیان کیا گیا ہے کہ اللہ ہم پر ان کے ہاتھوں عذاب مسلط نہ کرانا، نہ اپنے پاس سے کوئی عذاب ہم پر نازل فرما کہ یہ لوگ کہنے لگیں کہ اگر بنی اسرائیل حق پر ہوتے تو ہماری سزائیں کیوں بھگتتے یا اللہ کے عذاب ان پر کیوں اترتے؟
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ ہم پر غالب رہے تو ایسا نہ ہو کہ یہ کہیں ہمارے سچے دین سے ہمیں ہٹانے کے لیے کوششیں کریں۔ اور اے پروردگار ان کافروں سے جنہوں نے حق سے انکار کر دیا ہے حق کو چھپایا لیا تو ہمیں نجات دے، ہم تجھ پر ایمان لائے ہیں اور ہمارا بھروسہ صرف تیری ذات پر ہے۔