ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤی اِلَّا ذُرِّیَّۃٌ مِّنۡ قَوۡمِہٖ عَلٰی خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہِمۡ اَنۡ یَّفۡتِنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِی الۡاَرۡضِ ۚ وَ اِنَّہٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۸۳﴾
تو موسیٰ پر اس کی قوم کے چند لڑکوںکے سواکوئی ایمان نہ لایا، (وہ بھی) فرعون اور ان کے سرداروں کے خوف کے باوجود کہ وہ انھیں آزمائش میں ڈال دے گا اور بے شک فرعون یقینا زمین میں سرکش ہے اور بے شک وہ یقینا حد سے گزرنے والوں سے ہے۔ En
تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا۔ مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے۔ اور فرعون ملک میں متکبر ومتغلب اور (کبر وکفر) میں حد سے بڑھا ہوا تھا
En
پس موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان ﻻئے وه بھی فرعون سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں ان کو تکلیف پہنچائے اور واقع میں فرعون اس ملک میں زور رکھتا تھا، اور یہ بھی بات تھی کہ وه حد سے باہر ہو جاتا تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 83) {فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ …:} اتنے واضح معجزات دیکھنے اور جادوگروں کی شکست اور ان کے ایمان لانے کے باوجود موسیٰ علیہ السلام پر اس کی قوم کے چند لڑکوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا۔ یہاں اس کی قوم سے کس کی قوم مراد ہے؟ ابن جریر طبری رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی اپنی قوم بنی اسرائیل کے چند لڑکے لڑکیوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا، وہ بھی فرعون اور اپنے یعنی بنی اسرائیل کے سرداروں کے خوف کے ہوتے ہوئے جو فرعون کے ایجنٹ تھے کہ وہ انھیں ایمان سے ہٹانے کے لیے آزمائشوں اور مصیبتوں میں ڈالیں گے۔ اس تفسیر کا نتیجہ تو یہی ہے کہ فرعون کی قوم میں سے جادوگروں کے سوا اور بنی اسرائیل میں سے چند لڑکوں کے سوا ایک شخص بھی ایمان نہ لایا۔ فرعون کی پوری قوم اور بنی اسرائیل کے تمام بڑی عمر کے لوگ ایمان سے محروم اور فرعون کے دین پر رہے۔ ابن جریر اور ان کے ہم خیال حضرات کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت ابتدائی دور کی ہے، بعد میں تو قارون کے سوا سب بنی اسرائیل موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے۔{ مَلَاۡىِٕهِمْ } (ان کے سرداروں) میں {هُمْ} ضمیر جمع یا تو فرعون کی طرف لوٹ رہی ہے، کیونکہ مصری لوگ فرعون کے لیے بطور تعظیم جمع کی ضمیر استعمال کرتے تھے، یا اس سے مراد بنی اسرائیل کے سردار ہیں، یعنی بنی اسرائیل میں سے جو نوجوان ایمان لائے انھیں ایک طرف فرعون کا ڈر تھا اور دوسری طرف خود اپنے سرداروں کا۔ لیکن حافظ ابن کثیررحمہ اللہ نے آیت کے اس مطلب کی سخت تردید کی ہے، ان کی ترجیح میں { ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ } میں {هٖ } ضمیر فرعون کی طرف لوٹ رہی ہے، کیونکہ بنی اسرائیل تو پہلے سے موسیٰ علیہ السلام کی آمد کے منتظر تھے اور ان کے تشریف لانے پر سب کے سب ایمان لے آئے اور اس کی تائید اگلی آیت بھی کر رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کے تمام بنی اسرائیل موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا چکے تھے، البتہ فرعون کی قوم قبطیوں میں سے چند نوجوان ہی ایسے نکلے جو موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے اور آیت کا ترجمہ یوں ہو گا: پھر موسیٰ پر اس (فرعون) کی قوم قبطیوں میں سے صرف چند نوجوان ہی ایمان لائے اور وہ فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرے کہ کہیں وہ فرعون انھیں آزمائش میں نہ ڈالے۔ یہ ترجمہ زیادہ واضح ہے اور علمائے تحقیق نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ (ابن کثیر، روح المعانی) اگر غور کیا جائے تو بنی اسرائیل کا موسیٰ علیہ السلام کے آنے سے پہلے بھی اپنی تمام خرابیوں کے باوجود مسلمان ہونا اور پیغمبروں کی اولاد ہونے پر فخر کرنا معلوم ہے، ورنہ اگر وہ فرعون کا دین قبول کر لیتے اور آزادی کا مطالبہ نہ کرتے تو فرعون کو ان کے لڑکوں کو قتل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ موسیٰ علیہ السلام کا ایک قبطی کو قتل کرنے کا واقعہ بھی اپنی قوم کے آدمی کی حمایت ہی کی وجہ سے پیش آیا۔ اس وقت بھی موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو اپنی جماعت اور قبطیوں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اور بنی اسرائیل بھی موسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہی سمجھتے تھے، تب ہی اس اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام کو مدد کے لیے پکارا، حالانکہ موسیٰ علیہ السلام کو اس وقت تک نبوت عطا نہیں ہوئی تھی۔ اب اگر خدانخواستہ اہل کشمیر ہندو ہو جائیں یا فلسطینی یہودی ہو جائیں تو ہندوؤں اور یہودیوں کو ان پر ظلم و جبر کی کیا ضرورت ہے، مگر عقیدے اور عمل کی بے شمار خرابیوں کے باوجود ان کا مسلمان ہونا اور اس پر استقامت کفار کو کسی صورت برداشت نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

83۔ 1 قومہ کے " ہ " ضمیر کے مرجع میں مفسرین کا اختلاف ہے، بعض نے اس کا مرجع حضرت موسیٰ ؑ کو قرار دیا ہے۔ کیونکہ آیت میں ضمیر سے پہلے انہی کا ذکر ہے یعنی فرعون کی قوم میں سے تھوڑے سے لوگ ایمان لائے، ان کی دلیل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے لوگ تو ایک رسول اور نجات دہندہ کے انتظار میں تھے جو حضرت موسیٰ ؑ کی صورت میں انھیں مل گئے اور اس اعتبار سے سارے بنی اسرائیل (سوائے قارون کے) ان پر ایمان رکھتے تھے۔ اس لئے صحیح بات یہی ہے کہ (ذُ رِیَّۃُ مِنْ قَوْمِہٖ) سے مراد، فرعون کی قوم سے تھوڑے سے لوگ ہیں، جو حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لائے۔ انھیں میں سے اس کی بیوی (حضرت آسیہ) بھی ہیں۔ 83۔ 2 قرآن کریم کی یہ صراحت بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ ایمان لانے والے تھوڑے سے لوگ فرعون کی قوم میں سے تھے، کیونکہ انہی کو فرعون اس کے درباریوں اور حکام سے تکلیف پہنچانے کا ڈر تھا۔ بنی اسرئیل، ویسے تو فرعون کی غلامی و محکومی کی ذلت ایک عرصے سے برداشت کر رہے تھے۔ لیکن موسیٰ ؑ پر ایمان لانے سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا، نہ انھیں اس وجہ سے مزید تکالیف کا اندیشہ تھا۔ 83۔ 3 اور ایمان لانے والے اس کے اسی ظلم و ستم کی عادت سے خوف زدہ تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

83۔ چنانچہ موسیٰ پر اس کی قوم کے چند نوجوانوں [94] کے سوا کوئی بھی ایمان نہ لایا۔ انھیں یہ خطرہ تھا کہ کہیں فرعون اور اس کے درباری انھیں کسی مصیبت میں نہ ڈال دیں اور فرعون تو ملک میں بڑا غلبہ رکھتا تھا اور وہ حد سے بڑھ [95] جانے والوں میں سے تھا
[94] ذریت کے معنی نوجوان جرأت مند نسل:۔
لفظ ذریت کا لغوی معنی اولاد ہے اور یہاں ذریت سے مراد بنی اسرائیل کی نوجوان نسل ہے ان نوجوانوں میں سے بھی چند آدمیوں نے ہمت کر کے سیدنا موسیٰؑ پر ایمان لانے کا اعلان کر دیا ورنہ بڑے بوڑھے لوگ تو فرعون کی چیرہ دستیوں سے اس قدر خائف تھے کہ دل سے ایمان لانے کے باوجود اپنے ایمان کا اظہار کرنے میں اپنی موت سمجھتے تھے۔ طویل مدت کی غلامی، بڑھاپے کی کمزوری اور فرعون کے مظالم نے انھیں اتنا پست ہمت بنا دیا تھا کہ وہ اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے۔ جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد بنی اسرائیل کے یہ چند نوجوان ہی اتنے دلیر ثابت ہوئے کہ انہوں نے پیش آنے والے مصائب و مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا تہیہ کر لیا اور اپنے ایمان کا برملا اعلان کر دیا۔ اس طرح موسیٰؑ کو کچھ تقویت حاصل ہو گئی اور آپ نے ان نومسلموں کی تربیت شروع کر دی اور سمجھایا کہ اب تمہیں نہایت ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ میرا ساتھ دینا ہو گا اور اگر تم اللہ کے فرمانبردار بن کر رہے اور اسی پر بھروسہ کیا تو فرعون تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا۔
موسیٰؑ کے اس دور کے حالات اور آپ کے حالات کی مماثلت، نوجوان صحابہ اور ان کی عمریں:۔
بالکل ایسی صورت حال مکہ میں بھی پیش آئی تھی۔ آپ پر جو لوگ ایمان لائے تھے ان میں اکثر نوجوان طبقہ ہی تھا۔ مثلاً سیدنا علیؓ، جعفر طیارؓ، زبیر بن عوامؓ، سیدنا طلحہؓ، سعد بن ابی وقاصؓ، عبد اللہ بن مسعودؓ وغیرہم، یہ سب قبول اسلام کے وقت بیس سال سے کم عمر کے تھے۔ عبد الرحمن بن عوفؓ، بلال بن رباحؓ اور صہیبؓ کی عمریں بیس سے تیس سال کے درمیان تھیں۔ لے دے کر دو صحابہ کو ہی بڑا کہا جا سکتا ہے ایک سیدنا ابو بکرؓ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سال چھوٹے یعنی 38 سال کے تھے اور سیدنا عمار بن یاسرؓ آپ کے ہم عمر تھے۔ بالفاظ دیگر ان ﴿وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ میں سے بوڑھا کوئی بھی نہ تھا۔ ابتدائی مراحل میں حق کا ساتھ دینے اور مشکلات کے سامنے سینہ سپر ہو جانے کے لیے نوجوان خون اور ان کی جرأت ہی کام آتی ہے۔ بوڑھوں کی مصلحت کوشیاں کام نہیں آتیں الا ماشاء اللہ۔
[95] یعنی ایسے لوگ جو اپنے مقصد کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز ذریعہ استعمال کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے اور ان کے لیے کوئی قانونی یا اخلاقی حد ایسی نہیں ہوتی جہاں جا کر وہ رک جائیں۔ فرعون ایسا ہی سرکش، متکبر اور جابر و قاہر قسم کا انسان تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بزدلی ایمان کے درمیان دیوار بن گئی ٭٭
ان زبردست روشن دلیلوں کے اور معجزوں کے باوجود موسیٰ علیہ السلام پر بہت کم فرعونی ایمان لا سکے۔ کیونکہ ان کے دل میں فرعون کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ خبیث رعب دبدبے والا بھی تھا اور ترقی پر بھی تھا۔ حق ظاہر ہو گیا تھا لیکن کسی کو اس کی مخالفت کی جرأت نہ تھی ہر ایک کا خوف تھا کہ اگر آج میں ایمان لے آیا تو کل اس کی سخت سزاؤں سے مجبور ہو کر دین حق چھوڑنا پڑے گا۔ پس بہت سے ایسے جانباز موحد جنہوں نے اس کی سلطنت اور سزا کی کوئی پرواہ نہ کی اور حق کے سامنے سر جھکا دیا۔ ان میں خصوصیت سے قابل ذکر فرعون کی بیوی تھی اس کی آل کا ایک اور شخص تھا ایک جو فرعون کا خزانچی تھا۔ اس کی بیوہ تھی وغیرہ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے موسیٰ پر بنی اسرائیل کی تھوڑی سی تعداد کا ایمان لانا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ ذریت سے مراد قلیل ہے یعنی بہت کم لوگ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اولاد بھی مراد ہے۔ یعنی جب موسیٰ نبی بن کر آئے اس وقت جو لوگ ہیں ان کی موت کے بعد ان کی اولاد میں سے کچھ لوگ ایمان لائے۔
امام ابن جریر تو قول مجاہد رحمہ اللہ کو پسند فرماتے ہیں کہ «قَوْمِہِ» میں ضمیر کا مرجع موسیٰ علیہ السلام ہیں کیونکہ یہی نام اس سے قریب ہے۔ لیکن یہ محل نظر ہے کیونکہ ذریت کے لفظ کا تقاضا جوان اور کم عمر لوگ ہیں اور بنو اسرائیل تو سب کے سب مومن تھے جیسا کہ مشہور ہے یہ تو موسیٰ علیہ السلام کے آنے کی خوشیاں منا رہے تھے ان کی کتابوں میں موجود تھا کہ اس طرح نبی اللہ علیہ السلام آئیں گے اور ان کے ہاتھوں انہیں فرعون کی غلامی کی ذلت سے نجات ملے گی ان کی کتابوں کی یہی بات تو فرعون کے ہوش و حواس گم کئے ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس نے موسیٰ علیہ السلام کی دشمنی پر کمر کس لی تھی اور آپ علیہ السلام کی نبوت کے ظاہر ہونے سے پہلے اور آپ علیہ السلام کے آنے سے پہلے اور آپ علیہ السلام کے آجانے کے بعد ہم تو اس کے ہاتھوں بہت ہی تنگ کئے گئے ہیں۔
آپ علیہ السلام نے انہیں تسلی دی کہ «قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:129]‏‏‏‏ ’ جلدی نہ کرو۔ اللہ تمہارے دشمن کا ناس کرے گا، تمہیں ملک کا مالک بنائے گا پھر دیکھے گا کہ تم کیا کرتے ہو؟ ‘
پس یہ تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس آیت سے مراد قوم موسیٰ کی نئی نسل ہو، اور یہ کہ بنو اسرائیل میں سے سوائے قارون کے اور کوئی دین کا چھوڑنے والا ایسا نہ تھا جس کے فتنے میں پڑ جانے کا خوف ہو۔ قارون گو قوم موسیٰ میں سے تھا لیکن وہ باغی تھا فرعون کا دوست تھا۔ اس کے حاشیہ نشینوں میں تھا، اس سے گہرے تعلق رکھتا تھا۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ «مَلَا۠ئِہِمۡ» میں ضمیر فرعون کی طرف عائد ہے اور بطور اس کے تابعداری کرنے والوں کی زیادتی کے ضمیر جمع کی لائی گئی ہے۔ یا یہ کہ فرعون سے پہلے لفظ ال جو مضاف تھا محذوف کر دیا گیا ہے۔ اور مضاف الیہ اس کے قائم مقام رکھ دیا ہے۔ ان کا قول بھی بہت دور کا ہے۔ گو امام ابن جریر نے بعض نحویوں سے بھی ان دونوں اقوال کی حکایت کی ہے اور اس سے اگلی آیت جو آ رہی ہے وہ بھی دلالت کرتی ہے کہ بنی اسرائیل سب مومن تھے۔