ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 82

وَ یُحِقُّ اللّٰہُ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾
اور اللہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دیتاہے، خواہ مجرم برا ہی جانیں۔ En
اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کردے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں
En
اور اللہ تعالیٰ حق کو اپنے فرمان سے ﺛابت کردیتا ہے گو مجرم کیسا ہی ناگوار سمجھیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 81 میں تا آیت 83 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

82۔ 1 یا کلمات سے مراد وہ دلائل وبراہین ہیں، جو اللہ تعالیٰ اپنی کتابوں میں اتارتا رہا جو پیغمبروں کو وہ عطا فرماتا تھا۔ یا وہ معجزات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے انبیاء کے ہاتھوں سے صادر ہوتے تھے، یا اللہ کا وہ حکم ہے جو لفظ کُنْ سے صادر فرماتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

82۔ اور اللہ اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کر دکھائے گا اگرچہ یہ بات مجرموں کو ناگوار ہو

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔